جاپان میں بارش سے مرنے والوں کی تعداد 200 ہوئی، کئی لاپتہ

share with us

كراشكي:12؍جولائی2018(فکروخبر/ذرائع)  جاپان کے مغربی حصوں میں 36 سال کے بعد پہلی بار آئے شدید سیلاب اور بارش کی وجہ سے مرنے والوں کی تعداد بڑھ کر تقریبا 200 ہو گئی ہے اور تیزگرمی اور پانی کی قلت کی وجہ سے بیماریوں کے پھیلنے کا خطرہ پیدا ہو گیا ہے۔ حکومت نے جمعرات کو بتایا کہ ملک میں موسلادھار بارش اور زمین کھسکنےجیسے واقعات سے مرنے والوں کی تعداد بڑھ کر 195 ہو گئی ہے اور بڑی تعداد میں لوگ اب بھی لاپتہ ہیں۔ بارش رکنے کے بعد بھی لوگوں کی مشکلیں کم نہیں ہو رہی ہیں۔ ایک ہفتے سے 200000 سے زائد مکانوں میں پانی کی فراہمی نہیں ہوئی ہے۔ ملک میں 1982 کے بعد پہلی بار اتنی بڑی آفت آئی ہے۔

بارش کی شدت میں کمی آئی ہے اور سیلاب کا پانی اترنے بھی لگا ہے لیکن اس سے سڑكوں پر کیچڑ جمع ہوگیا ہے۔ کچھ جگہوں پر کیچڑ خشک ہے لیکن جب ریلیف کی گاڑیاں وہاں سے گزرتی ہیں تو دھول اورگردوغبار اٹھتےہیں۔ ریلیف اور ریسکیو ٹیم ملبے میں لوگوں کی تلاش کر رہی ہے۔ درجہ حرارت 30 ڈگری سیلسیس سے اوپر پہنچنے اور نمی کی سطح بہت زیادہ ہونے کی وجہ سے عارضی کیمپوں میں پناہ گزیں لوگوں کو کافی دقتوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ کیمپوں میں گنجائش سے زیادہ لوگوں کے رہنے اور بنیادی ڈھانچے کی عدم موجودگی کی وجہ سے لوگ بے حال ہیں۔

پانی کی کمی کی وجہ سے لوگوں کو کافی مقدار میں سیال مادہ نہیں مل پا رہاہے جس سے انہیں لو لگنے کا خطرہ پیدا ہو گیا ہے۔ لوگ اپنے ہاتھ بھی ٹھیک سے نہیں دھو پا رہے ہیں جس سے وبا پھیلنے کا خدشہ بڑھ گیا ہے۔ حکومت نے متاثرہ علاقوں میں پانی کے ٹینکر بھیجے ہیں لیکن ان سے بھی محدود مقدار میں فراہم کی جا رہی ہے۔فوج اور پولیس کے جوان اور فائر بریگیڈ کے 70 ہزار سے زائد ملازمین ملبے میں لاپتہ لوگوں کو تلاش رہے ہیں۔

سیلاب کی وجہ سےلاکھوں مکانوں میں بجلی اور پانی کی فراہمی میں خلل پیدا ہوگیا تھا جن میں سے 3500 گھروں میں بجلی کی فراہمی بحال کر دی گئی ہے لیکن دو لاکھ سے زیادہ مکانوں میں پینے کے پانی کی فراہمی ابھی نہیں ہوپائی ہے۔

Prayer Timings

Fajr فجر
Dhuhr الظهر
Asr عصر
Maghrib مغرب
Isha عشا