صلہ رحمی کی سخت تاکید

لفظ ارحام، رحم کی جمع ہے جو ماں کے پیٹ میں انسان کی تخلیق کا مقام ہے، چونکہ عام رشتوں ، قرابتوں کی بنیادوہیں سے چلتی ہے اس لئے محاورات میں رحم بمعنی قرابت اور رشتہ کے استعمال کیا جاتا ہے۔۔۔۔۔۔۔اسلام نے رشتہ داری اور قرابت کے حقوق پورے کرنے کی بڑی تاکید فرمائی ہے۔ صحیح بخاری میں حضرت ابوہریرہؓ اور دوسرے دو اصحاب سے اس مضمون کی حدیث نقل کی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ جو شخص صلہ رحمی کرے گا اللہ تعالیٰ اس کو اپنے قریب کریں گے اور جو رشتہ قرابت قطع کرے گا اللہ تعالیٰ اس کو قطع کردیں گے۔ جس سے معلوم ہوا کہ اقرباء اور رشتہ داروں کے ساتھ اقوال وافعال اور مال کے خرچ کرنے میں احسان کا سلوک کرنے کا تاکیدی حکم ہے۔ حدیث مذکور میں حضرت ابوہریرہؓ نے اس آیتِ قرآن کا حوالہ بھی دیا کہ اگر چاہو تو یہ آیت پڑھ لو۔(معارف القرآن :ج؍۸۔ ص؍۴۲)
یہ آیت اس امر کی صراحت کرتی ہے کہ اسلام میں قطع رحمی حرام ہے۔ دوسری طرف مثبت طریقہ سے بھی قرآن مجید میں متعدد مقامات پر رشتہ داروں کے ساتھ حسن سلوک کو بڑی نیکیوں میں شمار کیا گیا ہے،اور صلہ رحمی کا حکم دیا گیا ہے۔۔۔۔رحم کا لفظ عربی زبان میں قرابت اور رشتہ داری کے لئے استعارہ کے طور پر استعمال ہوتا ہے۔ ایک شخص کے تمام رشتہ دار، خواہ وہ دور کے ہوں یا قریب کے اس کے ذوی الارحام ہیں، جس سے جتنا زیادہ قریب کا رشتہ ہو اس کاحق آدمی پر اتنا ہی زیادہ ہے۔ اور اس سے قطع رحمی کرنا اتنا ہی بڑا گناہ ہے۔ صلہ رحمی یہ ہے کہ اپنے رشتہ دار کے ساتھ جو نیکی کرنا بھی آدمی کی استطاعت میں ہو اس سے دریغ نہ کرے۔ اور قطع رحمی یہ ہے کہ آدمی اس کے ساتھ برا سلوک کرے، یا جو بھلائی کرنا اس کے لئے ممکن ہو اس سے قصداًپہلو تہی کرے۔(تفھیم القرآن:ج؍
۵۔ ص؍۲۷
)
 

: ’’انسان کوئی لفظ زبان سے نکال نہیں پاتا، مگر اس پر ایک نگراں مقرر ہوتا ہے، ہر وقت (لکھنے کے لئے) تیار‘‘۔(ترجمہ بحوالہ: آسان ترجمۂ قرآن:مفتی محمد تقی عثمانی ۔ج؍۳)

Prayer Timings

Fajr فجر
Dhuhr الظهر
Asr عصر
Maghrib مغرب
Isha عشا