نقصان میں چل رہی ائیر انڈیا پر سرکار بڑا بقایا ،وی وی آئی پی چارٹر فلائٹ کے لئے دینے ہیں326 کروڑ روپئے

share with us

نئی دہلی:13؍مارچ2018(فکروخبر/ذرائع)مرکزی حکومت پر نقصان میں چل رہی ایئر انڈیا کا تقریباً 326 کروڑ روپے بقایا ہے۔ مختلف وزارتوں نے وی وی آئی پی کے غیرملکی سفر کی چارٹر فلائٹ کے بل کی یہ رقم نہیں چکائی ہے۔ملک کی قومی فضائی خدمات جو نجی کاری کی حالت پر ہے، نے سبکدوش کوموڈور لوکیش بترا کے ذریعے آر ٹی آئی کے تحت مانگی گئی

   جانکاری کے جواب میں مختلف وزارتوں کی وی وی آئی پی سفر کے تعلق سے بقایا بلوں کی جانکاری دستیاب کرائی ہے۔8 مارچ کو دی گئی جانکاری سے پتا چلا ہے کہ 31 جنوری 2018 تک مرکزی حکومت کے مختلف وزارتوں پر وی وی آئی پی چارٹر فلائٹ کے 325.81 کروڑ روپے کے بل بقایا ہیں۔کل بقایا بلوں میں سے 84.01 کروڑ روپے کی ادائیگی پچھلے مالی سال کے ہیں، باقی 241.80 کروڑ اس سال کے ہیں۔صدر، نائب صدر اور وزیر اعظم جیسے وی وی آئی پی کے غیرملکی سفر کے لئے چارٹرڈ ہوائی جہاز ایئر انڈیا کے ذریعے دستیاب کرائے جاتے ہیں۔ ایئر انڈیا اپنے تجارتی جیٹ ہوائی جہازوں میں ہی ان وی وی آئی پی کی ضروریات کے مطابق ترمیم کرتا ہے۔مذکورہ بقایا بل وزارتِ دفاع، وزارت خارجہ، پی ایم اواور کابینہ سیکریٹیریٹ کے خزانہ سے چکائے جانے ہیں۔ ایئر انڈیا سے حاصل جواب میں کہا گیا ہے کہ سب سے بڑی بقایا رقم 178.55 کروڑ روپے وزارت خارجہ کے نام ہے، اس کے بعد کابینہ سکریٹری اور پی ایم او کے اوپر 128.84 کروڑ روپے اور وزارتِ دفاع پر 18.42 کروڑ کی دین داری باقی ہے۔

    جواب سے پتا چلتا ہے کہ 451.71 کروڑ روپے کے بل پرانے تھے جبکہ 553.01 کروڑ روپے کے اس سال جاری کئے گئے تھے، اس طرح کل حساب 1004.72 کروڑ روپے ہوا۔جس میں سے حکومت نے 678.01 کروڑ کی ادائیگی اس سال کی۔ ادا کی گئی رقم میں 367.70 کروڑ روپے کی ادائیگی گزشتہ سال کے بقائے 451.71 کروڑ روپے کے عوض میں کی گئی تھی اور 311.23 کروڑ کی ادائیگی اس سال کے 533.01 کروڑ روپے کی بلوں کی مد میں کی گئی تھی۔اس طرح، 31 جنوری 2018 تک حکومت پر ایئر انڈیا کا دونوں سالوں کا بقایا ملا کر 325.81 کروڑ روپے ہوا۔تین دنوں پہلے ہی 5 مارچ کو ایک الگ جواب میں Ministry of Civil Aviation نے کہا تھا کہ 31 دسمبر 2017 تک کل بقایا 345.946 کروڑ روپے تھا۔ وی وی آئی پی اڑانوں کے علاوہ اس رقم میں 20.966 کروڑ روپے سفر کرنے والے اعلیٰ افسران کو سہولیات دستیاب کرانے اور اویکویشن مشن چلانے کے بقایا تھے۔ ایئر انڈیا نے اپنے جواب میں صرف وی وی آئی پی اڑانوں کی جانکاری دی ہے۔متعلقہ منسٹری کے ذریعے دئے گئے جواب میں مختلف وزارتوں کے حساب سے بقائے اور بلوں کی جانکاری الگ الگ بھی دی گئی ہے۔ جو دکھاتا ہے کہ صدر کی اڑانوں کا بقایا بل کل 182.22 کروڑ میں سے 174.22 کروڑ چکا دیا گیا تھا اور 8 کروڑ بقایا ہے۔ وہیں، نائب صدر کے معاملے میں، 414.28 کروڑ کے بقائے میں سے 216.02 کروڑ روپےچکائے گئے اور 198.54 کروڑ روپے 31دسمبر 2017 تک چکائے جانے باقی تھے۔وہیں، وزیر اعظم کے معاملے میں 272.80 کروڑ میں سے 154.07 کروڑ روپے چکائے گئے جبکہ 118.72 کروڑ ابھی بھی چکائے جانے ہیں۔

Prayer Timings

Fajr فجر
Dhuhr الظهر
Asr عصر
Maghrib مغرب
Isha عشا