English   /   Kannada   /   Nawayathi

سماجوادی پارٹی کے ۲۵۰۰ کارکنان پر کیس

share with us

لکھنؤ:15جنوری2021(فکروخبرنیوز/ذرائع) سماج وادی پارٹی کے دفتر پر بڑی تعداد میں لیڈروں اور کارکنان کے جمع ہونے کے بعد پارٹی کے کارکنان کے خلاف کورونا پروٹوکول کی خلاف ورزی کا مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ اس پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے سوامی پرساد موریہ نے کہا کہ سب سے پہلے وزیر اعلی یوگی آدتیہ ناتھ کے خلاف مقدمہ درج کیا جانا چاہیے، کیونکہ وہ جمعہ کے روز گورکھپور میں ہزاروں لوگوں کے ساتھ کھچڑی کھا رہے تھے۔

سوامی پرساد موریہ نے کہا کہ ’’وزیر اعلیٰ ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کر رہے ہیں۔ انہوں نے ہزاروں لوگوں کے درمیان کھچڑی کھائی۔ لہذا ان کے خلاف مقدمہ درج کیا جانا چاہیے۔‘‘ خیال رہے کہ یوگی حکومت میں وزیر محنت رہے سوامی پرساد موریہ بی جے پی سے علیحدہ ہو چکے ہیں اور انہوں نے گزشتہ روز ہی سماجوادی پارٹی میں شمولیت اختیار کی ہے۔

کورونا کے بڑھتے کیسز کے درمیان الیکشن کمیشن نے ریلیوں پر پابندی عائد کی ہوئی ہے اور یہ پابندی 15 جنوری تک جاری رہے گی، لیکن جمعہ کے روز سماجوادی پارٹی کے لکھنؤ میں واقعہ دفتر پر لوگوں کا ہجوم جمع ہو گیا تھا۔ اس معاملہ میں سماجوادی پارٹی کے کم از کم 2500 لیڈروں اور کارکنوں کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا ہے۔

پولیس کمشنر ڈی کے ٹھاکر نے کہا کہ سماج وادی پارٹی کے ڈھائی ہزار لیڈروں کے خلاف کیس درج کیا گیا ہے۔ ان پر وبائی قانون کی دفعہ 269، 270، 144 کے تحت معاملے درج کیے گئے ہیں۔ پولیس نے پہلے ویڈیو گرافی کرائی، جس کے بعد اصولوں کی خلاف ورزی کرنے والے افراد کی شناخت کی گئی اور پھر مقدمہ درج کر لیا گیا۔

واضح رہے کہ جمعہ کے روز مکر سنکرانتی کے موقع پر بڑی تعداد میں عقیدت مند مذہبی رسومات کے مطابق گورکھپور کے گورکھ ناتھ مندر میں کھچڑی پیش کرنے کے لئے پہنچے تھے۔ اس دوران یہاں سماجی دوری پر عمل نہیں کیا جا رہا تھا۔ اس سے پہلے جمعہ کی دوپہر وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے ایک دلت خاندان کے گھر جا کر کھچڑی کھائی تھی۔ اس پر سوامی پرساد موریہ کا کہنا ہے کہ وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے کورونا کے دور میں ہزاروں لوگوں کے درمیان کھلے عام کھچڑی کھائی ہے اور انہوں نے مثالی ضابطہ اخلاق کی بھی خلاف ورزی کی ہے، لہذا ان کے خلاف مقدمہ درج ہونا چاہیے۔

Prayer Timings

Fajr فجر
Dhuhr الظهر
Asr عصر
Maghrib مغرب
Isha عشا