English   /   Kannada   /   Nawayathi

چلتے ہو تو بھٹکل چلیے

share with us
BHATKAL

ذاتی ڈائری کا ایک ورق
امی سامیو پاولے

    عمار عبد الحمید لمباڈا ندوی

آپ کے پاس وقت کی فراوانی ہے اور جیب میں پیسے کی، تو آپ پوری دنیا کی سیر کو جا سکتے ہیں ، لیکن صرف وقت اور پیسے کے بل پر آپ بھٹکل کی سیر نہیں کر سکتے۔ دیکھنے کو تو یہاں کے حسین مناظر آپ دیکھ ہی سکتے ہیں لیکن آپ بھٹکل کی روح نہیں دیکھ سکتے جب تک آپ کے پاس بھٹکل کے خیرپسند افراد کی محبتوں کے ویزے نہ ہوں ، بھٹکل زمین و آسمان سے نہیں بلکہ خاندان نوائط کے ماضی کے شاندار کارنامے ، ٹھوس تعمیری سرگرمیاں اور دینی، معاشرتی، لسانی قومی ہر لحاظ سے انتہائی تابناک ماضی و حال سے تعمیر شدہ بستی، یہ بھٹکل ہے ، اسے دیکھنے کے لیے صرف وقت اور پیسے ناکافی ہے، بھٹکل کے احباب گر ویزا دیں، تب ہی یہ ممکن ہے۔
ویسے میں تو بھٹکل شہر سے ۳۰ کلومیٹر کی دوری پر گنگاؤلی ندی اور بحر عرب کے درمیان آباد بستی گنگولی میں دو سال بحیثیت مدرس قیام کر چکا ہوں، لیکن اب آٹھ سال اس بات کو ہوگیے، میں نے یہاں آنے کا سوچا تک نہیں تھا ۔
مجھے بھٹکل جانے کا ویزا ہمارے مہتمم مولانا رفیق صاحب نے دلوایا ورنہ حقیقت یہ ہے کہ چاند پر جانا آسان ہے، لیکن ایک مولوی کا امتحان کے زمانہ میں وہ بھی ایسا مولوی جس کے ساتھ صرف اس کی بیوی اور بچے ہوں ،دیگر کوئی رشتہ دار نہ ہو، سفر کے لیے ہری جھنڈی دکھانا ناممکن نہیں تو مشکل بہت ہی ہے، 
خیر، مجھے چھٹی ملی کام سے بھی اور دھام سے بھی۔ 

سفر کے لیے روحانی قوت درکار ہوتی ہے اور صرف روحانی قوت کافی نہیں، قوت ارادی بھی درکار ہے اور صرف قوت ارادی بھی کافی نہیں، جسمانی قوت بھی لازم ہے، طرح طرح کی قوت کے استعمال کے بعد میرا ٹکٹ بن کر آ گیا۔
ہمارا یہ سفر ۶۵ گھنٹے کا تھا اس سے ٹرین میں بیتا وقت مستثنی ہے ، یعنی مجھے ۲۹ ستمبر ۲۰۲۱ کی دوپہر بھٹکل کی سرزمین پر قدم رکھنا تھا اور ۲ اکتوبر کی صبح ساڑھے سات بجے بھٹکل سے روانہ ہونا تھا۔

تاریخ ۲۸ ستمبر کی شام سامان سفر کی تیاری میں تھا کہ اچانک گھنگھور گھٹا چھائی، آسمان میں سورج دیتا نہیں دکھائی کا سما تھا، بلکہ یہ کہنا درست ہوگا کہ وہ کوئی بھیانک رات ہی تھی جو دن میں اتر آئی تھی، اسی دوران تندو و تیز بارش کا نہ رکنے والا سلسلہ شروع ہو گیا اور کچھ ساتھی اللہ اللہ کر کے پانی اور ٹریفک سے لڑتے ہوئے سورت ریلوے اسٹیشن کے پلیٹ فارم نمبر ۳ پر پہنچے۔ لیکن دوسرے بارش کے مارے ابھی شش و پنج میں، آیا پہنچ پائیں گے یا نہیں؟ ٹریفک اتنا سخت کے قدم قدم بلائیں کا احساس ، اسٹیشن پر منتظر حضرات دعا استغفار میں ، خدایا! یہ مبارک سفر ہے، ہم کچھ سیکھنے جا رہے ہیں گویا تیری ہی راہ کے مسافر ہیں تجھ سے التجا ہے ! ہمارے تمام ساتھیوں کو بعافیت پہنچا دے! اور دعا قبول ہوئی سب پہنچ گیے ، ٹرین اپنے وقت سے تقریبا ۷،۸ منٹ دیری سے آئی ، ہم سب سوار ہو گیے ، لیکن یہ کیا ! کارواں تو موجود اور میر کارواں نہ دارد۔۔ اب سب جیسے بن باپ کی اولاد ہوں، انتظار شدید تھا جیسے آج کی بارش ، ٹرین نے سگنل دیا اور دلوں کی دھڑکنیں تیز ،ٹرین نے سیٹی بجائی اور چلدی، میں نے دل میں سوچا، کیا یہ ٹرین بھی کوئی وقت ہے جو کسی کے لیے نہیں رکتا؟ اور اب دل، ریل کی آواز کے ساتھ ساتھ تیزی سے دھڑکتا ہوا جیسے دونوں پٹری بدل رہے ہوں ،ہم سب مایوس ہوگیے لیکن اللہ کی رحمت سے اس کے کچھ بندے کبھی مایوس نہیں ہوتے اور پھر وہ ان کے ساتھ ایسا ہی (ان کے گمان کے مطابق) معاملہ کرتا ہے۔ دو چار قدم چل کر ٹرین پھر رکی اور اسی وقت ہمارے میر کارواں پلیٹ فارم پر جلوہ افروز ہوئے اور پھر سواری پر سوار بھی ہوگیے، ٹرین نے پھر ایک بار سیٹی بجائی اور ہمارے مفتی طاہر صاحب بولے ، کیا اب سب ساتھی پہنچ چکے ہیں یا اب بھی کوئی باقی بچا ہے ؟، 
میں بولا : امی سامیو پاولے۔
یہ نوائطی زبان کا جملہ ہے یعنی ہم سب پہنچ چکے ہیں۔

 

مضمون نگارکی رائے سے ادارہ کا متفق ہوناضروری نہیں ہے 

05اکتوبر2021(ادارہ فکروخبربھٹکل)

Prayer Timings

Fajr فجر
Dhuhr الظهر
Asr عصر
Maghrib مغرب
Isha عشا