چینی صوبے سنکیانگ میں بڑے پیمانے پرمسلم اویغور افراد کی گمشدگی پر عالمی برادری کی تشویش

share with us

سنکیانگ:11؍اکتوبر2018(فکروخبر/ذرائع)چین کے مغربی صوبے سنکیانگ میں حکام نے بڑے پیمانے پر مسلم اویغور افراد کے لاپتہ ہونے کی خبروں پر بڑھتی ہوئی عالمی تشویش کے بعد ان افراد کے لیے بنائے جانے والے مراکز کو قانونی شکل دینے کا اعلان کیا ہے۔چینی حکام کے مطابق یہ ووکیشنل ٹریننگ سینٹرز ہیں جہاں خیالات میں تبدیلی کے ذریعے شدت پسندی سے نمٹا جائے گا۔حقوقِ انسانی کے لیے سرگرم گروپوں کا کہنا ہے کہ ان کیمپوں میں رکھے جانے والے افراد سے صدر شی جن پنگ سے وفاداری کا حلف اٹھوایا جاتا ہے اور انھیں اپنے عقیدے پر تنقید کرنے یا اسے ترک کرنے پر مجبور کیا جاتا ہے۔رواں برس اگست میں چین نے ان الزامات کی تردید کی تھی کہ تقریبا دس لاکھ اویغور افراد کو حراست میں لیا گیا ہے۔تاہم اقوامِ متحدہ کے حقوقِ انسانی سے متعلق ایک اجلاس میں شریک حکام نے اعتراف کیا ہے ایسے اویغور جو مذہبی شدت پسندی کی وجہ سے گمراہ ہو چکے ہیں فی الوقت دوبارہ تعلیم کی فراہمی، بحالی اور معاشرے میں دوبارہ ضم ہونے کے مراحل سے گزر رہے ہیں۔سنکیانگ میں متعارف کروایا گیا یہ نیا قانون چین کی جانب سے اس علاقے میں اٹھائے جانے والے اقدامات کی جانب پہلا مفصل اشارہ ہے۔اس کے مطابق ایسا رویہ جو کہ حراست میں لیے جانے کی وجہ بن سکتا ہے، اس میں حلال چیزوں کے تصور کو پھیلانا، سرکاری ٹی وی دیکھنے اور سرکاری ریڈیو سننے اور بچوں کو سرکاری تعلیم دلوانے سے انکار بھی شامل ہے۔چین کا کہنا ہے کہ ان حراستی مراکز میں مینڈیرین زبان کے علاوہ، قانونی نکات کی تعلیم بھی دی جائے گی جبکہ وہاں رکھے جانے والے افراد کو ووکیشنل تربیت بھی ملے گی۔حقوقِ انسانی کے گروپوں نے اس اقدام پر تنقید کی ہے۔ ہیومن رائٹس واچ کی صوفی رچرڈز کا کہنا ہے کہ ایسے الفاظ جو حقوقِ انسانی کی بڑے پیمانے پر صریح خلاف ورزیوں کے خدوخال بیان کر رہے ہوں قانون کہے جانے کے قابل نہیں ہیں۔

Prayer Timings

Fajr فجر
Dhuhr الظهر
Asr عصر
Maghrib مغرب
Isha عشا