منگلور میں انسانی ہمدردی و بھائی چارہ کی عمدہ مثال مسلم نوجوانوں نے ہندو خاتون کی آخری رسومات انجام دینے کیلئے مدد کی

share with us


بیدر:19؍جون2018(فکروخبر نیوز)کہتے ہیں کہ جہاں خون کے رشتے بھی مشکل وقت میں چھوڑ جاتے ہیں وہیں محبت بھائی چارہ ہی کام آتی ہے۔ ایسا ہی کچھ دیکھنے کو ملا ۔منگلور میں ہندو۔مسلم بھائی چارہ کی شاندار مثال دیکھنے کو ملی۔یہاں ہندو نوجوان کی52سالہ بہن کی قلب پر حملہ(ہارٹ اٹیک) کی وجہ سے موت ہوگئی تھی۔ان کی آخری رسومات کیلئے مسلم نوجوان نے مدد کرتے ہوئے آگے بڑھے۔دراصل ہوا یہ کہ منگلور کے ودھاپورکے پتور تعلقہ کی متوطن بھوانی کی موت ہوگئی۔بھوانی شادی شدہ نہیں تھی۔ان کے بھائی کرشنا نے رشتہ داروں اور مقامی لوگوں سے بہن کی آخری رسومات کیلئے مدد مانگی ۔ دوپہر تک کرشنا کی مدد کیلئے کوئی بھی آگے نہیں آیا۔ان کے رشتہ داروں سے دوبارہ رابطہ کیا لیکن کوئی فائدہ نہیں ہوا۔کرشنا اداس ہوگیا ‘ان کی آنکھوں سے آنسوں رواں تھے ۔وہ سوچنے لگا کہ اب وہ اپنی بہن کی آخری رسومات کیسے کریں گے۔تب ہی شوکت‘ حمزہ‘نذیر ‘ریاض اور فاروق نے کرشنا سے ملاقات کی اور انھوں نے کرشنا کو یقین دلایا کہ ہم تمہاری بہن کی آخری رسومات کیلئے مدد کریں گے۔مسلم نوجوانوں نے بھوانی کی آخری رسومات کیلئے چندا کیا۔آنگن واڑی ٹیچر س راجیشوری ‘ صفیہ اور زبیدہ بھی مسلم نوجوانوں کی اپیل پر مدد کرنے آگے آئیں۔تینوں خواتین نے بھوانی کی (لاش)کو نہلاکر آخری رسومات کیلئے تیار کیا ۔ان کی لاش کو آخری رسومات کیلئے لیجایا گیا ۔نوجوانوں نے آخری رسومات کیلئے جو چندا جمع کیا تھا اس سے آخری رسومات عمل میں آئے۔فاروق نے کہا کہ ان لوگوں نے اس کام کی تشہیر کیلئے ایسی مدد نہیں کی بلکہ انسانی ہمدردی و بھائی چارہ کے پیشِِِ نظر ہم نے اس طرح کا اقدام اُٹھایا‘کیوں کہ ہمیں پتہ چلا کہ ایک بھائی اپنی بہن کی آخری رسومات کیلئے پریشان ہے اور ان کے پاس نہ تو روپیے ہیں اور نہ رشہ دار۔تو ہم لوگوں نے کرشنا کی مدد کرنے کا فیصلہ کیا ۔انھوں نے کہا کہ لاش کسی بھی فرد کی ہو ذات یا مذہب نہیں دیکھی جاتی

Prayer Timings

Fajr فجر
Dhuhr الظهر
Asr عصر
Maghrib مغرب
Isha عشا