English   /   Kannada   /   Nawayathi

قوم نوائط کی ایک مثالی خاتون

share with us

 

( زوجہ مرحوم محمد اسماعیل برماور رحمہ اللہ ، محترمہ بی بی فاطمہ حاجی فقیہ رحمہا اللہ تعالی کی وفات  پر تاثراتی  تحریر  )

بقلم: ۔ سید ہاشم نظام ندوی ۔ بھٹکل

بزرگی مقبولیت اور عبدیت صرف مخصوص طبقہ کی جاگیر نہیں ہے، یا یہ صرف مردوں کا حصہ نہیں ہے۔ لوگ جب اہل اللہ کی تلاش اور بزرگوں کی تلاش میں نکلتے ہیں تو اپنی نظریں خانقاہوں، آستانوں، علمی درس گاہوں اور دینی مراکز کی طرف مرکوز کرتے ہیں۔ انہی میں اپنے نگاہوں کو محد ود کر دیتے ہیں۔ کسے کیا خبر کہ زندگی کے ہر ہر گوشہ اور کوچہ میں کیسے کیسے صاحبِ دل بزرگ مرد اور خواتین موجود ہیں، جن کی دعائے نیم شب  ہماری نافرمانیوں اور گناہوں کے باوجود عذابِ الہی کو روکے ہوئے ہے، جنہیں دیکھنے سے اللہ کی یاد آتی ہے، جن کی صحبت سے اصلاح ہوتی ہے اور ان کی رفاقت ولایت کا درجہ عطا کرتی ہے۔

اس مختصر سی تمہید کے ساتھ شہرِ بھٹکل سے تعلق رکھنے والی اللہ کی  ایک برگزیدہ بندی کے صفات  وخصوصیات    سینۂ قرطاس پر رقم کرنے کی سعادت حاصل کر رہا ہوں، یہ وہ خاتون ہیں جن کے نیک وصالح اولاد کی تعلیم وتدریس کے طفیل ہم قلم کو جنبش دے سکے اور اپنے مافی الضمیر کو ادا کرنے کی کوشش کر سکے۔ جن کی تعلیم وتربیت نے ذہن و دماغ میں دین و شریعت سے مناسبت پیدا کی۔ یعنی ہمارے مربی و محسن استاذ مولانا محمد ایوب برماور ندوی دامت برکاتہم اورمشفق استاذ مرحوم مولانا محمد اقبال برماور ندوی رحمہ اللہ تعالی وغیرہ کی والدہ ماجدہ اور ان کی زندگی  کا مختصر ذکرِ جمیل ہے ۔

مرحومہ فاطمہ حاجی فقیہ صاحبہ کا شجرۂ نسب ماں اور باپ دونوں کی طرف سے بہت عظیم ہے، وہ حقیقی معنوں میں نجیب الطرفین تھیں۔ ددھیالی اور ننھیالی دونوں رشتوں  کا شمار بھٹکل کے مشہور و معروف خانوادوں میں ہوتا ہے۔خاندانی نسبت کےساتھ ساتھ دینداری بھی دونوں میں پائی جاتی ہے۔ البتہ والدہ ماجدہ کے خاندان کا  زیادہ  میلان فنِ طب و حکمت کی طرف تھا، اس لیے آپ کے دونوں بیٹوں یعنی مرحومہ کے دونوں بھائیوں نے طب وحکمت کے حصول کے لیے بیرونِ بھٹکل کا سفر کیا تھا۔بڑے بھائی جناب  حکیم محمد حاجی فقیہ( المعروف ۔  راکّاس حکیم)رحمۃ اللہ علیہ ہمدرد دہلی کے بانی مرحوم حکیم حامدصاحب کے ساتھیوں میں تھے، طبِ یونانی کے مستند حکیم تھے اور ان کے سب بیٹوں نے بھی اسی میدان کو اپنایا۔ اوردوسرے  چھوٹے بھائی جناب حکیم عبد اللہ  صاحب دامت برکاتہم نے نظامیہ طبیہ کالج حیدر آباد سے تعلیم  حاصل کی، جن دونوں کی طبی خدمات کا شہر و اطراف میں بڑا حصہ ہے ۔

جی ہاں مرحومہ  ہمارے معاشرہ کی ایک عظیم خاتون تھیں، جس کی جاں فشانیوں اورقربانبوں کا سلسلہ کافی دراز ہے، اس کی نیک ذریت  میں بہت سے ممتاز نام دکھائی دیتے ہیں، ذیل کی سطور میں اس کی نیک اور صالح اولاد کا قدرے تفصیل سے تذکرہ کیا جا رہا  ہے ، جو اس کے لئے اس جہاں میں نیک نامی کا سبب بنے اوران شاء اللہ  آخرت کی سرخ روئی کا بھی سبب بنیں گے، جن کے ذریعہ معاشرہ وسماج  ہی میں نہیں بلکہ پورے ہندوستان میں دینی وعلمی اور تعلیمی و ثقافتی خدمات  کا ایک دراز سلسلہ پایا جاتا ہے۔

میاں بیوی دونوں نے بچوں کی صحیح تربیت کی طرف پوری توجہ دی ،انھیں فرائض کا پابند بنایا،بچپن ہی سے سنت کی پیروی پر آمادہ کیا۔ اسلامی آداب وحسنِ اخلاق کے ساتھ ساتھ  دینی تعلیم سے آراستہ کیا ۔ ایک اور دو یا تین نہیں بلکہ اپنےچھے کے چھے سب  بیٹوں کو عالمِ دین بنایا، ان میں سے دو کو عالمیت کے ساتھ حفظِ قرآن کی سعادت سے بھی سرفراز کرایا۔بیٹیوں کو اس وقت  قاریہ  بنایاجب بچیوں کے لیے  دینی مدارس یا تحفیظ القرآن کا کوئی نظم  موجودنہیں تھا۔ لہذا اس کے لیے حافظ و قاری مولانا محمد اقبال صاحب مولوی ندوی کو گھر بلا کر قرآن کی تعلیم دلائی، ان بچیوں پر خصوصی محنت کی اور  ماشاء اللہ چاروں بیٹیوں نے قاریہ بن کر اپنی قسمت کو چمکایا ۔میاں بیوی کی اسی تعلیم وتربیت  کا نتیجہ تھا کہ دس اولاد میں سے سب دیندار ہوئے، حسنِ اخلاق و حسنِ سیرت کی پیکر بنے اوراپنے والدین کے نقش قدم پر چل رہے ہیں،اپنے عقیدہ و مسلک میں پختہ ہیں ، دین و شریعت   سے مضبوط تعلق رکھتے ہیں۔ اوران کے  والدین کی دعائیں اور ان کی تربیت ہی تھی  کہ الحمد للہ سبھی خوش حال بھی ہیں، دین و دنیا دونوں میں اچھا مقدر  ہے۔ان اولاد میں سے ایک مولانا محمد اقبال صاحب کا انتقال ہو چکا ہے، دعا ہے کہ اللہ تعالی ہماے مرحوم مولانا اقبال صاحب کی بال بال مغفرت فرمائے، جنت الفردوس میں اعلی مقام عطا فرمائے اورباقی اولاد کو دین پر استقامت عطا فرمائے، حضرت یعقوب علیہ السلام کی زبان میں " ماتعبدون من بعدی" کے جواب کی عملی تفسیر بنائے۔ ا ن کی زندگیوں میں برکت اور انھیں دین کی زیادہ سے زیادہ خدمت کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔

مرحومہ عقیدہ میں انتہائی مضبوط اور عبادات میں پختہ ہمیشہ سے تھیں،اسےدنیا کی بے ثباتی اور آخرت کی حاضری پر پورا یقین تھا،غیرتِ ایمانی اور جوشِ اسلامی انگ انگ میں سرایت کر چکا تھا، وہ جب بھی بولتیں تو دینی زبان و لہجے میں بولتیں۔انتہائی درجہ میں  مذہبی تھیں، مذہب و شریعت  کی پابند آخری سن میں نہیں بلکہ اپنی جوانی ہی سے مذہبی رہیں۔ معمولات کی پابند،ذکر واذکار اور اوراد ووظائف کی خوگر تھیں۔ عین جوانی کا زمانہ جو ولولوں اور امنگوں کا زمانہ ہوتا ہے اس زمانہ میں بھی شریعت کی حد درجہ پابندی کرتی تھیں، شریعت کے حدود سے سرِ منھ انحراف نہیں کیا، مکمل پردے میں رہ کر اجنبی مردوں کے سامنے آنے سے مکمل پرہیز کیا، قریب ترین رشتے داروں سے تک پردہ فرماتیں ۔ اہم وظائف پڑھنے اور فجر بعد تلاوتِ قرآن ِ پاک کا  معمول بلاناغہ تھا۔فرائض کے علاوہ چاشت،تہجد اور نوافل کا وہ اہتمام  کہ ہم لوگوں کو شاید فرائض ہی کے لیے نصیب ہو۔چوں کہ عابدہ و زاہدہ   اور شب بے دار  عین جوانی سےتھیں اوراپنی جوانی رضائے الہٰی کے لئے وقف کر چکی تھیں ، اس لیے کبرِ سنی میں بھی پابندی  کرنے  کی ایسی عادی رہیں کہ خود صحت مند ان کی عزیمت کی مثالیں دیکھ کر دنگ رہ جاتے۔اللہ تعالی کے ساتھ عشق و محبت نے اسے دنیا کی ہر چیز سے بے رغبت کردیا تھا۔انتہائی قناعت پسند اور خوددار تھیں۔ وہ شرک و بدعات ، خرافات و منکرات سے سخت بیزار تھیں،تقویٰ وخشیت اور للہیت  وراست بازی میں اپنی مثال آپ تھیں۔بچپن ہی سے اس کے سامنے تاریخِ اسلام اور سیرتِ صحابیاتؓ کے زرّیں واقعات کے تذکرے رہتےتھے۔ اس لیے مزاج میں دعوت و تبلیغ رچ بس گئی تھی، گویا سراپا تبلیغ ودعوت تھیں۔ محلہ کی، شہر کی یا رشتہ داروں میں سے کوئی  خاتون ملاقات کے لیےآتی تو سلام ودعا کے بعد شریعت کے متعلق ہی بات کرتیں، دنیا کی بے ثباتی اور آخرت کے یقین کوان کے  دلوں میں بٹھانے کی کوشش کرتیں۔ہر ملاقاتی کو اللہ ورسول کی باتوں سے بات شروع فرماتیں۔

آپ کے شوہرمرحوم  جناب محمد اسماعیل صاحب برماور ایک تاجر تھے،ریاستِ کیرالاکے تجارتی شہر کالیکٹ میں آپ کی ایک خاص شناخت اورپہچان تھی، ہمیشہ آپ کا تعلق بزرگوں اور دیندار طبقہ سے رہا تھا، اس زمانہ میں بھی  آپ کی وضع قطع مکمل اسلامی اور چہرے پر مکمل ڈاڑھی تھی جب شہر کا ماحول ڈاڑھی رکھنے کا نہیں تھا۔ ذکر آیا ڈاڑھی کا تو بات سے بات نکل آئی،اس کے متعلق ایک قصہ یاد آیا، جسے  والدِ ماجد جناب سید نظام الدین صاحب دامت برکاتہم نے براہِ راست کئی بار سنایا تھا۔ وہ یہ  کہ ہمارے والدِ ماجد  صاحب کی مکمل تعلیم عصری اسکول اور کنڑا میڈیم میں ہوئی تھی، دین سے کوئی  زیادہ تعلق نہیں تھا اور نہ ہی پورے خاندان کا اس طرف میلان۔ والد صاحب فرماتے ہیں کہ میرا رخ دین کی طرف موڑنے میں سب سے بڑاحصہ جناب محمد اسماعیل ( شوہر  مرحومہ ) صاحب برماور کا تھا اور وہ اس طرح سے کہ میں ہمیشہ ڈاڑھی منڈا،یعنی کلین شو ( Clean Show) رہتا تھا، جوانی کی مستیاں اور امیرانہ ادائیں ساتھ تھیں، فلم ایکٹروں سے متاثر تھا، انہی کے طرز پر بال رکھنا پسند تھا، میرے والد کی تجارت کالیکٹ بڑے پیمانے پر تھی، جس کی وجہ سے  مجھے بھی کالیکٹ میں رہنا پڑتا ، کئی کئی مہینے وہیں گزار دیتا تھا۔ اسی بیچ جناب محمد اسماعیل برماور مرحوم کی وقتا فوقتا ملاقتیں رہتیں، آپ ایک با رعب شخصیت کے مالک تھے، ملاقات کرتے تو سمجھاتے اور محبت بھرے لہجے میں باتیں کرتے، ملتے تو مسکرا کر ملتے ۔ تعلقات جوں جوں بڑھتے گئے ،آپ کا ناصحانہ اسلوب بھی بدلتا گیا، مجھ سے باربار کہنے لگے کہ تمہاری خوبصورت جوانی میں ایک ڈاڑھی کی کمی محسوس ہو رہی ہے، اللہ نے تمہیں اتنا خوب صورت وجیہ چہرہ دیا ہے، اسے منڈاکر عورتوں کی مشابہت اختیار نہ کرو،ڈاڑھی رکھو گے تو اور خوبصورت لگو گے اور سب سے بڑی بات یہ ہوگی  کہ ہمارے  محبوب نبی حضرت محمد  صلی اللہ علیہ وسلم  کی سنت بھی چہرے پر رہے گی۔ بہر کیف جب بھی ملتے اسی پر اصرار فرماتے اور میں "إن شاء الله" کے دو مختصر اور خوبصورت بول سے چھٹکارا پا لیتاتھا، دل میں نیت ڈاڑھی رکھنے کی تھی  نہ کبھی زندگی میں سوچا بھی تھا۔ ایک دن آپ سےحسبِ معمول ملاقات رہی، شدید اصرار کے ساتھ ڈاڑھی کی اہمیت پر زور دیا، میں نے بھی اسی اسلوب سے "إن شاء الله" کہہ دیا  اور چھٹکارا پالیا۔ مگر آج صرف "إن شاء الله" سے چھٹکارا نہیں مل پایا۔ بلکہ اپنا ہاتھ میرے ہاتھ کی طرف بڑھایا اور کہنے لگے کہ آج صرف ارادہ کا اظہار نہیں ہوگا، بلکہ ارادے  کےساتھ وعدہ بھی کرنا ضروری ہوگا۔ میں نے اس کو بھی آسان سمجھ کر ہاتھ سے ہاتھ ملا دیا اورزبانی وعدہ بھی کر دیا ۔ بس اب کیا تھا کہ دوسرے دن  ڈاڑھی منڈانے کے لیے استرا ہاتھ میں لیا۔ مگر آج یہ استرا چہرے کی طرف بڑھ نہ سکا،ایک ایمان والے کے دل کی چنگاری بھڑک اٹھی، میرے ضمیر سے ایک آواز آئی، غیرت نےمجھے  للکارا کہ ایک مسلمان ہو کر وعدہ کی یہ خلاف ورزی کیوں؟کل اللہ کو اس کا کیا جواب دو گے؟۔ بس یہ سوچ ذہن و دماغ پر غالب آگئی، استرا رکھ دیا، سچّی  پکّی توبہ کر لی کہ اب سے کبھی ڈاڑھی نہیں منڈاوں گا، اس ایک ڈاڑھی رکھنے کی برکت یہ ہوئی کہ اب جب بھی کوئی غیر شرعی کام کرنے جاتا یا  رادہ کرتا نظر ڈاڑھی کی طرف جاتی اور اس طرح میرے لیے چھوٹے چھوٹے گناہوں سے بھی  بچنا آسان ہوگیا۔اس طرح گویا مرحومہ کےاس بزرگ شوہر کی وجہ سے نہ وہ زرق و برق انگریزی لباس رہا  ، نہ سوٹ  وكوٹ اور نہ ہی فیشن پرستی كے جلوے  باقی رہے۔راقم الحروف نے یہاں ایک واقعہ مثال کے طور پر رقم کر دیاہے  جواس کے گھر سے متعلق تھا۔ ورنہ اس ضمن میں خدا جانے ان کے پچاسوں واقعات ہوں گے، جس کے ذریعہ سے اصلاحِ معاشرہ کا خاموش کام نجام پا رہا تھا۔اس لیے کہ مرحوم محمد اسماعیل علیہ الرحمہ ایک بہترین مربّی تھے، انھیں بچوں کو ہر چیز سکھانے کا بڑا شوق تھا، بچوں کو سکھاتے  اور ان کی ہمت افزائی بھی فرماتے تھے، لہذا وہ ایک مربّی ہونے کے ساتھ ساتھ ایک کامیاب استاد بھی تھے۔ 

محترم قارئین۔ مرد ہو یاعورت  ہر ایک کے لیے اپنے شریکِ حیات کی موت کا سانحہ انتہائی تکلیف دہ ہوتا ہے، بالخصوص اگر یہ جدائی عین جوائی میں واقع  ہو تواس کی تکلیف کا انداوہ لگاناانتہائی مشکل ہوتا ہے۔ مرحومہ جب  اپنی عمرِ عزیز کے پینتالیسویں سال پہنچیں تواچانک  اپنے رفیقِ حیات کی جدائی کا غم سہا ۔ ذرا اندازہ لگائیے اس عورت کے صبرو تحمل کا، قوتِ برداشت کا کہ اس کے امتحان  کا مرحلہ کس حد تک مشکل ترین تھا۔ لیکن چوں کہ وہ ایک صاحبِ عزیمت خاتون تھیں،زندگی بھر  بہادر اور ہمیشہ پرعزم رہی تھیں۔ تقریبا تیرہ  سال کا عرصہ شہر سے ذرا ہٹ کر  ہندؤں کے بیچ"موگلی ہونڈا "میں گزار دی۔ پوری ہمت کے ساتھ رہیں،   گویا شکست اور ہار کا لفظ ان کی لغت  وڈکشنری میں تھا ہی نہیں۔اس لیے پائے ثبات میں کچھ بھی  فرق نہیں  آنے پایا، اپنےعمل سے  شوہر کی وفات پر صبر وضبط  اورتحمل  وبرداشت   کر کے قضا وقدر پر راضی برضا رہنا بتایا ،زندگی کے مقصد سے جڑے رہنے کا خواتین اور بیواؤں کو درس دیا۔ خاوند کے انتقال کے بعدجب ذمہ داریاں دو چند ہو گئیں۔چھوٹے چھوٹے بچوں کی تربیت وتعلیم کی ذمہ داریاں بڑھ گئیں ۔ معاشی مسائل کے ساتھ ساتھ تربیتی مسائل بھی اس کے سر آگئے، تواس نے   اپنے بچوں کی تربیت اور نگہداشت میں ذرا بھی کمی آنے نہیں دی، بڑی محنت و مشقت سے اپنے بچوں کو تعلیم دلائی۔

چوں کہ بچپن ہی سے علمِ دین  کی اہمیت سے واقف تھیں، گھر میں بھی اسی کے تذکرے سنتی تھیں،اسی لیے اپنے بچوں کی تعلیم وتربیت میں کوئی دقیقہ نہیں اُٹھارکھی تھیں، چھ کے چھ فرزندوں کو علمِ دین کی نعمتِ بیش بہا سے سرفرا کر کے دارین کا خیر سمیٹ لے گئیں۔بہتر سے بہتر تعلیم دلائیں ۔ جن کے بالترتیب اسمائے گرامی یہ ہیں۔ بڑےفرزندمولانامحمدایوب  صاحب ندوی ، دوسرےمولانامحمداقبال صاحب ندوی،پھرتیسرےمولاناحافظ محمودصاحب ندوی ،چوتھےمولانا محمد زکریا صاحب ندوی ، پانچویں مولانا محمد یونس صاحب ندوی اور آخری مولانا حافظ محمد یحیی صاحب ندوی ہیں ۔ جن  میں قابلِ ذکر پہلو یہ ہے کہ سب کے سب نے علمِ دین کی دولت پائی ہے۔ سب نے جامعہ اسلامیہ بھٹکل میں تعلیم حاصل کی اور ایک کے علاوہ باقی پانچوں نے دار العلوم ندوۃ العلماء سے تکمیل کی ہے۔ بہنوں میں بڑی بہن کا عقدِ مسعود  جناب عبد الغفار صاحب رکن الدین ( شیپائی) سے ہوا  ، اس کے بعد دوسری  کی نسبت مولانا محمد غزالی خطیبی ندوی سے ہوئی، پھر تیسری  کی جناب  محمد سلیم صاحب قاضیا سےہوئی   اور چوتھی و آخری جناب حافظ حشمت اللہ صاحب رکن الدین کی زوجیت میں آئیں۔ اس با برکت کنبہ سے آپ خود اندازہ لگا سکیں گے کہ جس کی شاخیں اتنی عظیم ہوں، اس قدر ثمر آور ہوں، تو اس شجرۂ سدا بہار کی جڑیں کتنی پختہ اور مضبوط ہوں گی، اس سایہ دار و پھل دار درخت کے لیے کیا محنتیں کی گئی ہوں گی، کس قدر اس کو سینچا گیا ہوگا۔

رفاہی و فلاحی ، دینی و سماجی  اور تعلیمی میدانوں میں دونوں بڑے  بیٹوں مولانا محمد ایوب صاحب دام ظلہ اور مولانا محمد اقبال صاحب رحمہ اللہ  کی خدمات آبِ ذر سے لکھے جانے کے قابل ہیں، ان دونوں بھائیوں کے باہمی روابط اور تعلقات اور کارِ خیر میں دونوں کے  باہمی تعاون سے جو خدمات    انجام پائی ہیں  وہ ان کی  انکساری  وبے نفسی، ایثار وقربانی  اورخدمت خلق کے جذبۂ صادق کی زندۂ جاوید مثال ہے۔ جس سے  لوگوں کے دلوں میں ان کے لئے احترام ومحبت اور خلوص کے جذبات پیدا ہو گئے، اہلِ ثروت نے بھی ان پر اعتماد کیا اور ان کے ذریعہ خیراتی کام کروا کے اپنے لیے ثوابِ جاریہ کے انتظامات کر گئے ۔ اسی طرح آپ کے آخری دم تک خدمت گزار فرزند مولانا محمد یونس صاحب ندوی و  برگزیدہ داماد مرحوم مولانا محمد غزالی صاحب خطیبی رحمۃ اللہ علیہ  اور چھوٹے داماد حافظ حشمت اللہ صاحب  کے ذریعہ دعوت و تبلیغ     کے میدان میں انجام پائی خدمات اپنی مثال آپ ہیں۔مولانا زکریا صاحب اور مولانا محمود صاحب ندوی شہر کی مساجد کے پلیٹ فارم سے اپنی خدمات انجام دے رہے ہیں اور آخری فرزند مولانا یحیی  صاحب قطر میں مقیم ہیں، اپنی مادرِ علمی سے جڑ کر پیوستہ رہ شجر سے امیدِ بہار رکھ کے مصداق ہیں۔ اور رہا پھر ان کےپوتوں و پوتیوں اور نواسوں  ونواسیوں کا ذکر اور ان کی ذریۂ صالحہ کے تذکرہ  کی تو اس  چھوٹے سے مضمون میں گنجائش نہیں ہے، صرف تعداد معلوم کرنا چاہیں تو مولانا محمد ایوب صاحب دامت برکاتہم  کی اپنی والدۂ ماجدہ رحمہا اللہ کے انتقال پر تحریر کردہ  سوانحی تذکرہ سے اندازہ لگا سکتے ہیں، جس سے اس کے   باقی کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ پھر پرپوتوں وغیرہ تک یہ سلسلہ کتنا دراز ہوجائے گا۔ مولانا لکھتے ہیں "الحمد للہ اس کے بیٹے، پوتے اور نواسے کل ملا کر ( 235 ) ہیں، جن میں (34) حافظِ قرآن ہیں اور (21)علماء و (24) عالمات ہیں۔ انھوں نے 86 سال کی عمر پائی ۔۔۔ ان کی ہمیشہ یہ فکر رہی کہ اولاد  مجاہد، اسلام کے سپاہی اور اس کے  ترجمان اور نمائندے بنیں۔ اللہ تعالی نے ان کی یہ تمنا پوری فرمائی اور بفضلہ تعالی آج ان کی اولاد حافظ وعالم بن کر دینِ اسلام کی نشر واشاعت اور اس کی دعوت کا فریضہ انجام دے رہی ہیں۔۔۔"۔ اس اعتبار سے میاں بیوی دونوں بہت خوش قسمت تھے کہ اللہ تعالی نے اُنہیں انتہائی نیک اوربے حد سعادت مند اولاد  عطا فرمائی۔جو اپنے والدین کی نیک نامی کا سبب بنے۔

مرحومہ امِّ ایوب برماور واقعی صابرہ ہی نہیں بلکہ ام الصابرین تھیں۔ شاکرہ ہی نہیں سراپا شکر وسپاس تھیں۔وہ  عابدہ و زاہدہ اور صالحہ و قانتہ تھیں۔ لہذا  ہمیں ان کی زندگی سے یہ سبق ملتا ہے کہ معرفتِ الہٰیہ کے دروازے مردو عورت سب کے لئے کھلے ہیں۔ اللہ کی راہ پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے فرامین کی روشنی میں چلنا ہمارا کام ہے۔ باقی فضل و کرم کرنے والی ذات  اللہ تعالیٰ ہی کی ہے، کوشش ومجاہدے پر توفیق بھی وہی دیتا ہے، وہی چاہے تو  دعاؤں میں اثر دکھائے اورسجدوں کو شرف قبولیت بخشے۔ دعا ہے کہ اللہ تعالی اللہ مرحومہ کی  زندگی خواتین کے لئے مشعل راہ بنائے۔ جس پر چل کر وہ نہ صرف دنیا ہی نہیں بلکہ اپنی عاقبت بھی سنوار سکتی ہیں اور وہ  اپنی اس صالحہ و صابرہ بندی  کی مغفرت فرمائے۔ جنت الفردوس میں اعلی مقام عطا فرمائے ان کے درجات بلند فرمائے اور تا قیامِ قیامت ان کی نسلوں کو خدمتِ دین کے لیے قبول فرمائے۔ آمین یا رب العالمین۔

حضرتِ ایوب کی رخصت ہوئی ہیں والدہ اشکِ غم آنکھوں میں آیا ہے یہ ایسا حادثہ

صالحہ وہ زاہدہ تھیں، عابدہ بھی ساجدہ نیک طینت، با مروت اہلِ دل تھیں فاطمہ

مکمل نام :۔بی بی فاطمہ حاجی فقیہ،   ام ایوب ۔ زوجہ مرحوم محمد اسماعیل برماور رحمہ اللہ

تاریخِ پیدائش  :۔ 1934

یومِ وفات:۔    ذو الحجہ  1442  ہجری   ۔   ۱۰ / اگست     2020 عیسوی ۔ بروز پیر

تحریر کردہ:۔ ۲۸ محرم الحرام ۱۴۴۲ ہجری

Prayer Timings

Fajr فجر
Dhuhr الظهر
Asr عصر
Maghrib مغرب
Isha عشا