English   /   Kannada   /   Nawayathi

قومِ نوائط کے اولین فارمیسیٹ جوارِ رحمت میں

share with us
shamsuddin shahbandari

بسم اللہ الرحمن الرحیم

 

              تحریر۔ سید ہاشم نظام ندوی

مورخہ ۲۱/ صفر المظفر سنہ ہجری ۱۴۴۲ ، مطابق ۸ /اگسٹ سن ۲۰۲۰ عیسوی بروز جمعرات بوقتِ شام ایک نیک، دین دار ،شریف  اور صالح بندہ، ابو شکیب ، شمس الدین بن عبد القادر شاہ بندری اپنی زندگی کی ستر  (70) بہاریں گزار کر جوارِ رحمت میںچلے گئے۔  انتقالراشد ہسپتال دبئ میں ہوا  تھا،جہاں  ایک ماہ کا عرصہ حالتِ بیماری میں گزارا،ہر امکانی تدبیر ناکام ہو گئی، ہر کوشش بے سود رہی، اس لیے کہ یہی ان کا مقدر تھا، اسی بیماری میں انھیں اجر وثواب کا حقدارہونا تھا ، مغفرت اور رحمت ِ خداوندی کے لیے بہانہ ہونا تھا، ان شاء اللہ وہ غفور الرحیم کی آغوش میں ہیں، جہاں انھیں مالک الملک کی طرف سے خوب اجر وثواب اور رفعِ درجات سے  نوازا جائے گا۔یہاں انتقال کی خبر  جمعرات شام تقریبا تین بجے ملی، بظاہر میت کے اسی روز ملنے کے امکانات بہت کم تھے، مگرتوقع سے بہت زیادہ بہت ہی کم وقت میں میت کو وارثین کے حوالے کر دیا گیا ، گویاحدیثِ پاک میں  مومن بندہ کی وفات کے بعداپنی آخری آرامگاہ جانے میں جلدی کرنے کے بارے میں  جوفرمایا گیا ہے، لگتا ہے کہ اسی عجلت اور جلدی میں ہی زندگی کی آخری رسومات انجام دی گئیں اور شبِ جمعہ نو بجےدبئ کے " القوز قبرستان " میں سپردِ خاک کر دیا گیا۔  إنا لله وإنا إليه راجعون۔اللهم اغفرله وارحمه، وأسكنه فسيح جناتك ۔

ایک ماہ تک حالتِ بیماری میں رہنے کے باوجود جب جنازہ پر نظر پڑی تو ہماری حیرت کی انتہا نہ رہی۔ ماشاء اللہ  یوں  محسوس ہی نہیں ہو رہا تھا کہ یہ کسی مریض کا چہرہ ہے، جس سے اس کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ آپ نے خوشی خوشی موت کا استقبال کیا ہوگا، اللہ کی طرف سے جنت کی بشارت اور اخروی کامیابیوں کی تمنا میں ہنسی خوشی موت کے آغوش میں چلے گئے ہوں گے اور یہی کچھ کیفیات اہلِ ایمان کی ہوا کرتی ہیں، یہی منظر ان آنکھوں نے مشفق بہنوئی مرحوم مولانا عبد الباری رحمۃ اللہ علیہ كا دیکھا ہے کہ حالتِ بیماری کا چہرہ الگ اور استقبالِ موت کے بعد جب جوارِ رحمت میں چلے گئے تو چہرہ پر ایسے اثرات نمایاں تھے  کہ گویا وہ آرام سے سو ئے ہوئے ہیں، دنیاوی مشقتوں اور تکلیفوں سے آزاد ہو چکے ہیں۔ شاعرِ مشرق علامہ اقبال رحمۃ اللہ علیہ نے انہی کیفیات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے اپنے فارسی کے ایک شعر میں کہا تھا۔

نشانِ مردِ مومن با تو گویم           چوں مرگ آید تبسم بر لبِ اوست

یعنی کیامیں تمہیں ایک مومن کی موت کی نشانی بتلاؤں؟ کہ جب موت آتی ہے تو اس کے چہرہ پر مسکراہٹ اور تبسم ہوتا ہے۔ ہماری قوم کے محسن جناب محیی الدین منیری رحمۃ اللہ علیہ ہم طلبۂ جامعہ کو خطاب کے دوران مولانا روم کی مثنوی کے حوالے سے کئی بار یہ نصیحت کر چکے ہیں  کہ جب تم دنیا میں آئے تھے تو تم رو رہے تھے اور تمہاری آمد پر اہلِ خانہ اور گھر والے خوشیاں منا رہے تھے، ہنس رہے تھے، لہذا تم اپنی زندگی کو ایسی کامیاب بنا کے چلے جاؤ کہ دنیا سے تم ہنسی خوشی موت کا استقبال کر تے ہوئے چلے جاؤ اور تمہارے فراق اور جدائی میں تمہارے گھر والے اور اعزہ و اقارب رو رہے ہوں، شہر والے افسوس کر رہے ہوں، دنیا تمہاری موت سے خسارہ محسوس کر رہی ہو۔اسی بات كو حضرت علی بن ابی طالب  کرم اللہ وجہہ نے اپنے اشعار میں یوں کہا ہے۔

ولدتك إذ ولدتك أمك باكياً * * * والقوم حولك يضحكون سروراً
فاعمل ليوم أن تكون إذا بكوا * * * في يوم موتك ضاحكاً مسروراً

آپ ا پنی والدہ ماجدہ کے انتقال کے وقت صرف سترہ دن کے شیر خوار بچے تھے۔ آپ کی زندگی کا آغاز ہی یتیمی سے ہوا، بچپن ہی سے والدہ کی حقیقی  شفقتوں  و محبتوں  سے محروم رہے۔جس سے گھر والوں کو بھی ان سے تعلق میں اضافہ ہو گیا۔ گھر کی ابتدائی دینی تعلیم اور "خلفو" کے پاس قرآن کی تعلیم کے ساتھ ساتھ عصری تعلیم  انجمن ہائی  اسکول میں پائی۔ اعلی تعلیم کے حصول کے لیے ریاستِ آندھرا پر دیش کے مشہور شہر "وائزاک" چلے گئے، جہاں سے آپ نے بی فارما کیا، سرزمینِ بھٹکل  ہی نہیں بلکہ قومِ نوائط کے پہلے فارمیسیٹ تھے۔ اس تعلیم میں مرحوم عبد الغنی صاحب محتشم اور جناب سکری کولا صاحب نے اپنا تعاون پیش کیا ،  جس کے بعد آندھرا جماعت کی زیرِ سرپرستی بھٹکل کی پہلی فارمیسی دکان یعنی  دواخانہ بھی آپ ہی کے لائیسنس پر بنایا گیا تھا۔ ایک مختصر عرصہ یہاں گزارا اور پھر  اپنے ذریعۂ معاش کے لیے سعودیہ عربیہ کا رخ کیا،یہاں کے شہر" رحیمہ" میں  ملازمت سے جڑ گئے، یہاں ماشاء اللہ بڑے عمدہ ایام گزار رہے تھے، بیوی بچوں کے ساتھ خوشحال زندگی گزاری، آگے چل کر ملازمت کے  ساتھ تجارت میں شراکت اختیار کی۔  جس کی وجہ سے کچھ قانونی رکاوٹیں آئیں اور آپ کو سعودیہ عربیہ چھوڑنا پڑا۔

سعودی عربیہ سے دوبارہ  اپنے مادرِ وطن بھٹکل تشریف لائے، یہاں پر اپنا الگ دواخانہ شروع کیا ،اسے اپنے دوسرے  بیٹے شفاعت کی طرف منسوب کیا، تقریبا تین چار سال تک   اسے چلایا۔  اسی دوران  متحدہ عرب امارات دبئ چلے آئے، یہاں کے حکومتی  ادارے" ڈپارمنٹ آف ہیلتھ" میں ملازمت سے جڑ گئے، یہاں تک رسائی میں جناب عبد القادر باشہ صاحب رکن الدین نے پورا تعاون فرمایا، ان کے توسط سے اس اہم حکومتی ادارے سے جڑگئے، جہاں پر استقامت کے ساتھ کام کیا،  اپنی امانت داری اور دیانت داری کے نقوش چھوڑے، کہتے تھے کہ ملازمت امانت ہے، اس میں خیانت نہیں ہونی چاہئے،تقریبا پچیس سال کا عرصہ یہاں ملازمت پر رہے اور ریٹائرمنٹ کی عمر کو پہنچنے کے بعد ریٹائیرڈ ہوگئے۔ پھر اپنا ذاتی کاروبار بھی شروع فرمایا، جس میں اتنی کامیابی نہیں مل پائی، مگر چوں کہ بچپن سے محنت اور مشقت کرنے کے عادی تھے، اپنے آپ کو مشغول رکھنا ہی پسند فرماتے تھے، بچوں کے کہنے پر بھی آرام طلبی کی خاطر بغیر کام کے رہنا پسند نہیں فرماتے تھے، عمر کے آخری ایام تک کام پر تھے، ایک آسٹريلين کمپنی میں شراکت پر کام کر رہے تھے اور کام بھی اپنے میدان سے ہٹ کر نہیں تھا بلکہ اپنے میدانِ صحت سے وابستہ تھے۔ اس طرح مرحوم کی زندگی پر سرسری نظر ڈالنے سے پتہ چلتا ہے کہ آپ کی عمرِ عزیز محنت و مشقت کا ایک عنوان تھا، جس میں آنے والوں کے لیے دروسِ عبرت اور موعظت ونصیحت بھی ہیں۔

آپ سن ۱۹۷۶ عیسوی کو رشتۂ ازدواجیت سے جڑ گئے،اپنے رشتے ہی میں ایک   تعلیم یافتہ اور دین دار بیوی نصیب میں آئی، جو ایک کامیاب زندگی گزارنے کا حقیقی سبب بنی، یقینایہ رشتہ آپ کی  زندگی کا اہم سرمایہ تھا۔ آپ کو اللہ تعالی نے تین بیٹے  اور دو بیٹیاں عطا فرمائي۔ماشاء اللہ  سب اولاد نیک ہیں،   میاں بیوی نے  بچوں کی اچھی تعلیم وتربیت کی طرف پوری توجہ مرکوز کی، تعلیم کے ساتھ ساتھ تربیت کابے حد خیال رکھا۔ سب کو اعلی تعلیم سے سرفراز کیا۔  مگر تعلیم سے پہلے بچوں کو دین دار بنایا، انھیں اسلامی اقدار کا پابند کرایا، شریعت سے محبت ان کے دلوں میں بٹھایا۔ بڑے بیٹے کو حافظِ قرآن اور عالمِ دین بنایا۔ خود دبئ میں رہ کر ان کا داخلہ جامعہ اسلامیہ میں کرایا، جامعہ سے عالمیت کے بعد ندوہ سے فضیلت کرائی، اس پربھی  اکتفا نہیں کیا بلکہ مزید اعلی تعلیم کے لیے جامعہ ازھر مصر کا انتخاب کیا جہاں آپ نے تین سال تک تعلیم پائی ، اس کے بعد ایک عرصہ تک دبئ کے عالمی شہرت یافتہ ثقافتی اور علمی ادارے مرکز جمعۃ الماجد للثقافۃ والتراث میں خدمت انجام دی۔ دوسرے فرزند جناب شفاعت صاحب کو جرنلسٹ بنایا،آپ نے دبئ کے مشہور یومیہ جریدے " خلیج ٹائمز" میں بھی کام کیا۔ وہ انگريزی زبان کے  ایک اچھے قلم کار بنے، آپ کے قلم سے نکلی ہوئی متعدد تحریں ثقافتی اور تاریخی موضوعات پر ہیں۔  تیسرے بیٹے جناب شمعون صاحب کوبھی جرنلسٹ  بنایا، اسی تعلیم کے ساتھ ساتھ حافظ قرآن بھی ہوئے۔ آپ کی بڑی بیٹی کو اپنے ہمشیر زادے جناب فہیم صاحب شاہ بندری کی زوجیت میں دیا، جو ایک فائق اور قابل خاتون ہیں، اس وقت بھٹکل کے کامیاب تعلیمی ادارے " الصفۃ" میں تدریسی خدمات انجام دے رہی ہیں۔ اور آخری بیٹی كو طهعجائب  کی زوجیت میں دیا، اس طرح سے دونوں بیٹیوں کو اپنے ہی رشتوں میں دے کر مزید صلہ رحمی کا ثبوت فراہم کیا۔

وہ صحیح معنی میں متقی تھے، بظاہروہ  ایک گریجویٹ ، لیکن ان کا فکر اسلامی تھا، ذہن دینی تھا،وضع قطع شرعی تھی، اخلاق وعادات  نبوی تھے یعنی طبیعت میں حلم وبردباری،مزاج میں انکساری اورزبان میں شیرینی وغیرہ  جیسی بہترین صفات پائی جاتی تھیں۔ وہ اپنی جوانی ہی سے  خالص مذہبی رہے، چہرے مہرے اور وضع قطع سے بھی شریعت کے  پابند تھے، تحریکی ذہن تھا اور دعوت و تبلیغ سے بھی مناسبت تھی، نماز و روزہ کے علاوہ تلاوت کے بڑے شائق اور ذکر و اذکار کے بھی پابند تھے۔تہجد و اشراق اور نوافل کا بھی پورا اہتمام تھا۔ رات جلدی سونا اور جلدی اٹھنا آپ کا معمول تھا۔ اپنے وقت پر  ہر کام کرتے، سرِ منھ اس میں فرق آنے نہیں دیتے تھے۔حج و زیارت اور عمرے سے بھی مشرف ہوئے۔لوگوں کو دینے دلانے میں برابر قدم آگے ہی رکھتے تھے، عزیزوں اور بستی والوں کا خاص خیال رکھتے ۔ کھلانے پلانےکی بھی عادت تھی، اپنے رشتہ داروں میں بالخصوص مستحقین تک پہنچ پہنچ کر دیتے ، دینے والوں کو آنے کی زحمت دینا آپ کو پسند نہیں تھا، اس پر کئی ایک واقعات ہیں، جونجی  مجلسوں میں بیان ہو سکتے ہیں، مگر ضبطِ تحریر میں نہیں آسکتے ہیں۔ اسراف و فضول خرچی سے سخت نفرت تھی، اپنی دولت کا اظہار یا ذاتی اشتہار کو نا پسند کرتے تھے،ضروری چیزوں اور ضرورت پر خوب خرچ کرتے، البتہ خرچ کرنے میں کفایت شعاری سے کام لیتے ، کچھ روپیہ بچا کر کفالت فرماتے،  اسی کو اقربا پروری میں خرچ فرماتے تھے۔ ہر کام میں اصول و ضابطے کا خیال حد درجہ  رکھتے۔ کوئی اگر خلاف ورزی کرتا تو محبت بھرے سلجھے ہوئے اسلوب میں سمجھانے کی کوشش فرماتے تھے۔

روزانہ کی مسنون سورتوں کے علاوہ ترتیب کے ساتھ یومیہ  ایک پارہ پڑھنے  کا معمول تھا اور وہ بھی ہجری تاریخ کی ترتیب کے ساتھ پڑھتے تھے۔جس سے ایک فائدہ  یہ ہوتا کہ تاریخ یاد رہتی اور دوسرا فائدہ  یہ کہ کون سا پارہ چل رہا ہے بآسانی پتہ چلتا ہے اور جب مہینہ انتیس دنوں کا ہوتا تو اس ایک پارہ کو مزید پڑھ کر برابر فرماتے تھے،یقینا ہمارے لیے بھی یہ ایک قابلِ تقلید نمونہ ہے۔اسی طرح آپ کی زندگی کا  ایک اہم ترین  پہلو " احتساب" یعنی کسی عمل پر اللہ تعالی سے ثواب کی امید رکھنا۔ اس کے سلسلہ میں احاديث مبارکہ میں کئی ایک روایتیں مختلف اعمال کے سلسلے میں وارد ہوئی ہیں ۔ آپ بھی ہر چھوٹے بڑے کام میں نیت کا استحضار فرماتے ، کس عمل میں کتنا زیادہ ثواب بڑھ کر مل سکتا ہے، اس پر غور فرماتے تھے۔

ان کے گھر والوں اور تمام رشتہ داروں کا اس پر اتفاق ہے کہ کوئی رشتہ داری اور صلۂ رحمی کو سیکھنا چاہے تو مرحوم "باپو آپا بھاؤ" سے سیکھ لے۔ کہتے ہیں کہ اس وصف میں ان کا کوئی ثانی ہمارے خاندان میں نہیں  ہے اور بلاشبہ وہ رشتہ داری کا حد درجہ  خیال فرماتے تھے ، بلکہ رشتوں کو جوڑ جوڑ کر سمجھاتے، دور کے رشتوں کو قریب کر کے دکھاتے تھے۔  راقم الحروف کے ساتھ بھی اسی طرح کا ایک واقعہ پیش آیا ، وہ یہ کہ جب ہمارے ہمشیر زادے مولوی عبد الاحد بن عبد الباری فکردے ندوی کی نسبت ان کے ماموں زاد بھائی جناب فضل الرحمن  ابن کوثر صاحب جعفری کی بڑی بیٹی کے ساتھ طے ہوئی تو میں نے اس کا تذکرہ انھیں بار بار کرتے اوراس کو فخریہ بیان کرتے ہوئے دو احباب کو دیکھا۔ ان میں سے ایک ہمارے مشفق استاذ مولانا محمدفاروق صاحب قاضی ندوی دامت برکاتہم  ہیں اور دوسرے ہمارے مرحوم تھے  کہ اس نسبت کے طے ہونے کے بعد ان کی خوشی کی انتہا نہ رہی،اس رشتہ کو دہرا دہرا کر کئی بار فخریہ  بیان فرمایا اور اسے اپنے خاندان کے لیے بھی اعزاز گردانا جو ان کے بڑے پن اور بہنوئی مولانا عبد الباری رحمۃ اللہ علیہ سے بے پناہ محبت اور تعلق کی واضح  دلیل تھی ۔

 ہمارا ان کے ساتھ ایک سفر بھی ہوا جو دبئ سے بھٹکل تک کا تھا۔ یہ تقریباایک سال پہلے کا سفر تھا،ان کے ہمراہ ان کےبڑے داماد جناب فہیم صاحب شاہ بندری بھی تھے،وہ ایکپر لطف اور تاریخی سفر تھا، مجھے حالتِ سفر میں سونے کی عادت ہے، مگر اس پورے سفر میں کہاں سو پاتے،  اونگنے کا بھی موقعہ نہیں دیا، محبتوں کا اظہار، پرانی یادیں، پرانے قصے، پرانے بھٹکل اور اس کی یاد گار شخصیتوں  کے تذکروں مین سفر کٹا۔ الحمد للہ سفر بڑا پرلطف رہا اور اس کے ختم ہوتے ہوتے آپ کی ایک خصوصیت کا بھی پتہ چل گیا، وہ یہ کہ آپ نے بھٹکل پہنچنے سے پہلے ہی گاڑی کا کرایہ  خود ہی ڈرائیور سے پتہ کرایا، چوں کہ ہم تین تھے اس لیے اسے تین حصوں میں تقسیم کیا، گاڑی جب ان کے گھر پہنچی تو اپنا اور اپنے داماد کا حصہ دے کر مجھے الوداع کیا، جب اس کا تذکرہ بلکہ معملات کی اس صفائی کا ذکرِ خیر ان کے اہلِ خانہ سے کیا تو کہنے لگے کہ معاملات میں صفائی  اور پیسہ پیسہ کی ادائیگی ان کی زندگی کا معمول تھا۔ گھر میں ہر ایک کو اس کی تعلیم بھی دیتے تھے ۔

ہمارا ان کے ساتھ کئی سالوں  تک آڑوس پڑوس محلے کا رہا، جوتقریبا ایک ہی علاقہ "کرامہ دبئ" کہلاتا ہے، اس لیے وقتا فوقتا ملاقاتیں بھی رہتی تھیں، اکثر وبیشتر نمازوں کے بعد ہی علیک سلیک رہتا تھا، مگر ان کی اکثر  ملاقاتیں  تفصیلی رہتی تھیں۔  خویش واقارب اور شہر کے حالات پرباتیں ہوتیں۔مرحوم کے علماء اور صلحاء سے بھی اچھے روابط تھے، اہلِ علم کو عزت و احترام کی نگاہ سے دیکھتے ، یہاں جہاں کہیں دین کی نسبت سے اہم پروگرام ہوتےتو شرکت فرماتے، جہاں عورتوں کا بھی انتظام ہوتا وہاں اپنی  اہلیہ محترمہ کو ساتھ لے جاتے۔

آخر میں ان کے اہلِ خانہ سے یہی کہنا ہے کہ صبر سے کام لیں،اس لیے کہ قدرت کی منشا کے سامنے انسان بے بس ہے، قضا وقدر پر ایمان ہمارا فريضه ہے، لہذا اسی پر ایمان رکھ کر دامنِ صبر کو تھام کراجرو ثواب کے مستحق بنیں، اس لیے کہ تسلیم ورضا ایمان کا جزء ہے اور صبر پر بڑی بڑی خوش خبریاں اور بشارتیں موجود  ہیں۔ البتہ جو آپ کاطبعی حزن اور فطری غم ہے اس کا ہونا لازمی ہے، یہ انسانی فطرت کا تقاضا ہے، چوں کہ موت کا حادثہ زندگی میں عمر بھر کا  سب سے بڑا حادثہ شمار کیا جاتا ہے اورایک  والد و سرپرست  کا اٹھ جانا بہت بڑا خلا ہوتاہے۔ دعاہے کہ اللہ تعالی اپنے فضل کرم سے آپ کی بال بال مغفرت فرمائے، درجات کو بلند کرے اور پسماندگان کو صبرجمیل عطا فرمائے۔

 

تحریر کردہ ۔ مورخہ۲۲/ صفر المظفر سنہ ہجری ۱۴۴۲ ، مطابق ۹ /اگسٹ سن ۲۰۲۰ عیسوی بروز جمعہ

Prayer Timings

Fajr فجر
Dhuhr الظهر
Asr عصر
Maghrib مغرب
Isha عشا