رافیل ڈیل مرا ہوا گھوڑا نہیں زندہ ہے

share with us

سوار کو لات مار رہا ہےاب نریندر مودی گھوڑے سے زخمی حالت میں گرنے والے ہیں

عبدالعزیز

دو روز پہلے گھوڑسوار نریندر مودی لوک سبھا میں گرج اور برس رہے تھے اور یہ کہہ رہے تھے کہ سب کو ان سے ڈرنا ہوگا لیکن قدرت کا کھیل دیکھئے کہ گزشتہ 8فروری کو ہندستان کے ایک انگریزی روزنامہ ’دی ہندو‘ نے گھوڑسوار کو ایسا آئینہ دکھایا کہ نہ صرف گھوڑ سوار بلکہ اس کے پیچھے چلنے والی پوری فوج لڑکھڑا گئی اور سب کی بولتی بند ہوتی نظر آئی۔ ’دی ہندو‘ میں اخبار کے سابق ایڈیٹر مسٹر این رام نے جو نوٹ (Note)چھاپا ہے وہ گھوڑ سوار کے کردار کو صاف صاف طور پر پکڑنے کیلئے کافی ہے اور گھوڑ سوار کی حکومت کی طرف سے اکتوبر 2018ء میں جو حقیقت چھپائی گئی ہے کہ اس ڈیل میں گھوڑ سوار کا دفتر شامل نہیں ہے اورپورے طور پر ثابت ہوگیا کہ دفتر کے کارندے پورے طور پر شامل ہیں۔ مسٹر این رام نے وزارت دفاع کی فائل بھی چھاپ دی ہے جس کی وزارت دفاع کو جانکاری نہیں تھی۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ گھوڑ سوار کے دفتر سے بھی اور جو رافیل ڈیل کیلئے ٹیم بنائی گئی تھی وہ بھی متوازی بات چیت کر رہی تھی۔ متوازی بات چیت کرنے کی وجہ سے ملک کا بھاری نقصان ہوا اور گھوڑ سوار کے دوست امبانی کا بہت زیادہ فائدہ ہوا۔ یہ بات بھی ثابت ہوگئی کہ ہندستان کی ایک مستند کمپنی ہندستان ایروناٹکس لمیٹڈ (HAL) جیسی کمپنی کو بدل کر انیل امبانی کی کمپنی سے کیوں سودا کیا گیا؟ یہ کمپنی سودا طے کرنے سے آٹھ دس دنوں پہلے بنائی گئی تھی۔ ظاہر ہے کہ امبانی اور نریندر مودی (گھوڑ سوار) دونوں اس کمپنی کے حصہ دار رہے ہوں گے ورنہ نریندر مودی اتنا بڑا خطرہ کیوں مول لیتے کہ فرانس میں جاکر رافیل جنگی طیارے کے سودے کا اعلان کرتے۔ ہندو اخبار کے پاس جو سرکاری دستاویزات ہیں اس کے مطابق وزارت دفاع نے اس بات کی مخالفت کی تھی کہ گھوڑسوار کے دفتر سے قدم نہ اٹھائے جائیں۔ اس کی وجہ سے بات چیت کرنے والی ٹیم کی کوششوں کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔ 
سابق دفاعی سکریٹری جی موہن کمار نے اپنے ہاتھ سے فائل پر لکھا ہے کہ وزیر دفاع اس کی طرف توجہ دیں۔ گھوڑ سوار کے دفتر سے امید ہے کہ اس طرح کی آزادانہ بات چیت نہ کرے۔ اب سوال یہ ہے کہ کیا گھوڑ سوار کے دفتر کو دفاعی سکریٹری پر بھروسہ نہیں ہے۔ اس بات چیت کیلئے ٹیم کے چیف فضائیہ کے نائب صدر پر بھروسہ نہیں ہے؟ آخر کیا وجہ ہے کہ راز میں رکھ کر گھوڑ سوار کے دفتر سے کیوں بات چیت شروع ہوئی؟ گھوڑسوار نے اس ڈیل میں ملک کے وزیر دفاع، دفاعی سکریٹری اور فضائیہ کے نائب صدر کو اندھیرے میں رکھ کر انیل امبانی کو سودا کرنے کی اجازت دی۔ وزارت دفاع نے جو تحریری نوٹ بھیجا تھا اس کو نائب سکریٹری ایس کے شرما نے تیار کیا تھا۔ جس کو مشترکہ سکریٹری اور خریداری عمل کے ڈائرکٹر جنرل دونوں نے حمایت کی تھی۔ وزارت دفاع کے اس نوٹ سے پتہ چلتا ہے کہ ان کو اس خبر کی ہوا تک لگنے نہیں دی گئی تھی۔ 
23اکتوبر 2015ء تک کچھ بھی خبر نہیں تھی کہ گھوڑ سوار کے دفتر رافیل جنگی طیارہ خریدنے کیلئے کیا منصوبہ بندی ہورہی ہے۔ اس نوٹ میں یہ بھی لکھا ہوا ہے کہ فرانس کی ٹیم کے صدر جنرل اسٹیفین ریب سے گھوڑ سوار کے دفتر سے بات چیت کر رہا تھا۔ اس کی واقفیت ہندستانی ٹیم کو 23اکتوبر 2015ء کو ملتی ہے۔ اس نوٹ میں فرانس کے وزارت دفاع کے سفارتی مشیر لوئی ویسی اور گھوڑ سوار کے دفتر کے جوائنٹ سکریٹری جاوید اشرف کے درمیان ٹیلیفونک مذاکرہ کا ذکر ہے۔ یہ بات چیت 20اکتوبر 2015ء میں ہوئی تھی اور اپریل 2015ء میں پیرس میں ڈیل کا اعلان کیا گیا تھا۔ وزارت دفاع کے نوٹ میں گھوڑ سوار کے دفتر کی طرف سے ہونے والی گفتگو کو متوازی گفتگو یا کارروائی کے مترادف بتایا گیا ہے۔ کہا گیا ہے کہ اس سے ہندستانی ٹیم کی اس ڈیل میں دعویداری کمزور پڑگئی تھی۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ جب ٹیم فرانس کے ذمہ داروں سے مذاکرہ کر رہی تھی گھوڑ سوار کے دفتر کی سطح سے کیوں بات چیت جاری تھی؟ اس متوازی بات چیت سے ہندستان کو نقصان اور فرانس کو فائدہ ہورہا تھا۔ ظاہر ہے کہ جب گھوڑ سوار کے دفتر سے بات چیت ہورہی تھی تو فرانس کو بھی یہ پیغام چلا گیا کہ اس میں جو بھی کرنا ہے گھوڑ سوار کی خواہش کو ملحوظ خاطر رکھنا ہے۔ وزیر دفاع یا وزارت دفاع کو کسی حال میں ترجیح نہیں دینا ہے۔ یہ بات راہل گاندھی بہت دنوں سے کہہ رہے ہیں کہ جنرل ریب نے اپنے خط میں لکھا ہے کہ فرانس کے سفارتی مشیر اور گھوڑ سوار کے جوائنٹ سکریٹری کے درمیان جو بات چیت ہوئی ہے اس میں یہ طے ہوا ہے کہ بینک گارنٹی نہیں دی جائے گی۔ اس کو ہی کمپنی کی طرف سے گارنٹی مانا جائے گا۔ اس سے سوال اٹھ رہے ہیں کہ خود مختار گارنٹی کے بغیر یہ ڈیل کیسے ہوگئی؟ آج تک حکومت یا گھوڑ سوار صاف صاف جواب دینے سے قاصر ہے۔
اس وقت وزیر دفاع نرملا سیتا رمن پارلیمنٹ میں اور اس کے باہر چیخ پکار کرنے میں سب سے آگے ہیں۔ وہ کہہ رہی ہیں کہ مرے ہوئے گھوڑے کو راہل گاندھی اور کانگریس والے کوڑے مار رہے ہیں، جس سے فضائیہ اور ملک کو بیحد نقصان پہنچ رہا ہے۔ وزیر دفاع صاحبہ ہندو اخبار جو ہندستان کا مستند انگریزی اخبار ہے اس کو کوس رہی ہیں اور صحافت کا معیار اور اخلاقیات سکھا رہی ہیں اور بتا رہی ہیں کہ گھوڑ سوار کے دفتر اور ہندستانی ٹیم کے متوازی کوئی گفتگو نہیں ہورہی تھی۔ اپوزیشن پر یہ بھی الزام لگا رہی ہیں کہ اپوزیشن کو انڈین ایئر فورس کی طاقت سے کوئی مطلب نہیں ہے۔ سب کے سب ملک کو صدمہ اور نقصان پہنچانے میں لگے ہوئے ہیں اور مرے ہوئے گھوڑے کو کوڑے مار رہے ہیں۔ غصہ سے بھری ہوئی نرملا سیتا رمن یہ کہہ رہی ہیں کہ ہندو اخبار بھی ’گھڑ سوار یا چوکیدار کو چور‘ بتا رہا ہے جو انتہائی غلط بات ہے۔ 
ترنمول کانگریس کے ایم پی سوگت رائے نے اسپیکر سمترا مہاجن کے ایک اعتراض پر بہت ہی اچھا جواب دیا ہے کہ میڈم اس میں ملک کی سلامتی درپیش ہے۔ اور یہ پورے ملک میں نعرہ ہے کہ ’’چوکیدار چور ہے‘‘ اس کو آپ کیسے بند کراسکتی ہیں؟ مہاجن نے کہاکہ کیا چند اخباروں کے کہنے سے چوکیدار ہوجائے گا؟ اپوزیشن لیڈر ارجن کھڑگے نے کہاکہ رافیل ڈیل کا گھوٹالہ ملک کا سب سے بڑا گھوٹالہ ہے اور آج تک حکومت اور گھوڑسوار اس کا کوئی معقول جواب نہیں دے سکے۔ افسوسناک بات یہ ہے کہ سپریم کورٹ کو بھی گھوڑسوار کی حکومت نے رافیل ڈیل کے معاملے میں جھوٹا حلف نامہ دے کر گمراہ کیا ہے۔ لیکن اب جبکہ رافیل ڈیل کا کچا چٹھا ہندو اخبار نے طشت ازبام کر دیا ہے تو میرے خیال سے کسی بھی این جی او کو چاہئے کہ سپریم کورٹ سے از سر نو رُجوع کرے اور گھوڑ سوار کی حکومت نے جو سپریم کورٹ کو گمراہ کیا ہے اس کو بے نقاب کرنے کی کوشش کرے اور گھوڑ سوار کی حکومت جو کہہ رہی ہے کہ سپریم کورٹ سے اسے کلین چٹ مل گیا ہے اسے کہنے کی جرأت نہ ہو۔ میرے خیال سے رافیل جنگی طیارہ کا معاملہ ایک ایسا معاملہ ہے جو آئندہ الیکشن میں بہت بڑا ایشو ہوگا اور یہی وہ حوالہ ہوگا جس سے چوکیدار کی چوری عوام کے سامنے آتی جائے گی اور وقت کے ساتھ پرت در پرت کھلتا چلا جائے گا اور سارا ملک کہنے پر مجبور ہوگا کہ گھوڑ سوار جو چور چوکیدارا تھا وہ گر پڑا ہے اور زخمی ہوگیا ہے اور اب اسے علاج معالجہ ہوسکے۔


مضمون نگار کی رائے سے ادارہ کا متفق ہونا ضروری نہیں۔ 
09؍ فروری 2019
ادارہ فکروخبر بھٹکل 

Prayer Timings

Fajr فجر
Dhuhr الظهر
Asr عصر
Maghrib مغرب
Isha عشا