مدارس اسلامیہ کا فیض افریقہ کے کوہساروں میں

share with us

محمد سمعان خلیفہ ندوی 

........ گزشتہ سے پیوستہ ...... 
سب سے بڑی بات جس کا اس سفر میں کھلی آنکھوں مشاہدہ ہوا وہ یہی ہمارے مدارس اسلامیہ ندوہ، دیوبند، مظاہر وغیرہ اور خود ہمارے عزیز ادارے جامعہ اسلامیہ بھٹکل کا فیض ہے کہ سمندروں کی طغیانی اور ویرانوں کی بیابانی بھی جس کے آڑے نہ آسکی اور الحمد للّٰہ ثم الحمد للّٰہ مختلف شکلوں میں وہ افریقہ کے کوہساروں تک پہنچ چکا ہے، اور اس میں سب سے بڑا حصہ مولانا ابو الحسن علی ندوی اکیڈمی بھٹکل کی عصری اسکولوں کے طلبہ کے لیے تیار کردہ اسلامیات کا ہے؛ جو ملت اسلامیہ ہندیہ کے قافلہ سالار حضرت مولانا سید محمد رابع حسنی ندوی دامت برکاتہم کی سرپرستی میں حضرت مولانا ریاض الرحمن رشادی مرحوم کی تحریک پر مولانا عبد الباری ندوی بھٹکلی مرحوم کی نگرانی میں آج سے اٹھارہ سال قبل مرتب کی گئی تھیں، جو اب تک ہندوستان کے طول وعرض میں پھیلے ہوئے تین ہزار سے زائد اسکولوں اور کالجز اور مدارس و مکاتب میں الحمد للّٰہ داخل نصاب ہوچکی ہیں اور جس کا ترجمہ جاپانی، عربی، انگریزی، فارسی، پشتو، تامل، ہندی، کنڑ، نیپالی اور آسامی میں ہوچکا ہے اور اب اس کا دائرہ سنگاپور، ملیشیا، تھائی لینڈ، کینیا، جاپان وایران سے ہوکر افریقہ کے ریگزاروں تک اللہ کے فضل سے پہنچ چکا ہے۔ نیز پورے ہندوستان میں اس کے امتحانات میں ہر سال الحمد للّٰہ لاکھوں مسلم وغیر مسلم طلبہ شریک ہوتے ہیں۔
 ایک شخص کا سوز دل تھا جو امت کی بے دینی پر رویا کیا، ملت کے ارتداد پر تڑپا کیا، جس کا ہدف اور بنیادی مقصد ہی یہ ہے کہ نئی نسل کو اسلام پر باقی رکھنے کی ہر ممکن کوشش کی جائے اور جو اسلام میں داخل نہیں ہوئے ان کو اسلام کی دعوت دینے کے لیے ممکنہ تدبیریں کی جائیں! سوز دل نے احساس کے سر کو چھیڑا، نے نواز کا نالہ لب اظہار پر آیا، دوستوں کو اس مشن کی دعوت دی، مشوروں کو اپنا رفیق بنایا، بڑوں کی دعائیں لیں، خوردوں کو مہمیز کیا اور چشم بد دور مختلف دعوتی پروگراموں اور دیرینہ خوابوں کی تکمیل کے لیے ایک عظیم الشان اکیڈمی قائم کی جس کا چشمہ فیض بہتے اور اس سے ایک دنیا کو سیراب ہوتے ہم نے اپنی آنکھوں سے دیکھا۔ اللہ تعالی ہمارے ان اساتذہ کی ہر طرح حفاظت فرمائے، ان کا سایہ ہم پر تادیر سلامت رکھے اور ان کے ارمانوں کو جلد از جلد پیکر محسوس عطا فرمائے، آمین!
اسلامیات کی یہ کتابیں اب خود ہمارے وطن عزیز کے لیے سرمایہ افتخار بن چکی ہیں! بلکہ خود مولانا کے پہنچنے سے پہلے کتنے ہی ممالک میں داخل نصاب ہوچکی ہیں! اس سفر میں بارہا تجربہ ہوا کہ پہلے پہل استقبال کرنے والوں کو یہ پتہ بھی نہیں چلا کہ جو اسلامیات (عربی زبان میں) ان کے مدارس کے بچے بچے کی زبان زد ہوچکی ہیں، اس کی ایک ایک عبارت ان کی نوک زبان پر ہے خود اس کے مصنف کا آج وہ اپنے قریہ میں استقبال کررہے ہیں! پھر جب انھیں معلوم ہوا تو ان کے دل کے کنول کھل اٹھے اور ان کی خوشی دیدنی تھی۔
نیز وہاں کے مختلف مدارس کے دورے کے بعد وہاں کے طلبہ کی تجوید اور صحت مخارج کو دیکھ کر ان کے اساتذہ کی محنت کا جو اندازہ ہوا اس میں ایک بہت بڑا حصہ نورانی قاعدے کا بھی ہے جسے ہمارے محترم اور فاضل دوست ڈاکٹر عبد الحمید اطہر ندوی نے ہمارے ایک اور متحرک اور فعال دوست مولوی داؤد خلیفہ ندوی (مدرسہ اقرا۔منگلور) کے اصرار پر عربی میں منتقل کیا ہے اور اللہ جزائے خیر عطا فرمائے مولانا خلیل اور ان کے ساتھیوں کو جو اسی دھن میں رہتے ہیں کہ کسی طرح ان افریقی ممالک میں رہنے والے بچوں کا دین سے رشتہ استوار ہوجائے۔ بچشم خود ہم نے مشاہدہ کیا ہے ان کی دھن اور تڑپ کا اور اس کے اثرات و برکات کا! بلکہ بعض اوقات دل میں یہ خواہش تک پیدا ہوئی کاش ان بچوں کو عالمی مقابلوں میں شرکت کا موقع مل جائے تو ان کے حسن صوت اور لحن بلالی سے ایک دنیا مسحور ہوجائے۔ آمین!
اب جب کہ ایتھوپین ایئرلائن کا طیارہ ممبئی ایئرپورٹ پر لینڈ ہونے کو ہے اور یہ داستان بھی ختم ہونے کو ہے مگر ؀
کبھی فرصت سے سن لینا عجب ہے داستاں میری

بس دعا فرمائیں اللہ تعالی امت کے شعور کو بیدار فرمائے، اور اخلاص اور للہیت کے ساتھ ہم اور آپ کو دین متین کی خدمت کرنے کی اور اس دین کی شمعیں ظلمت کدہء دہر میں فروزاں کرنے کی توفیق عطا فرمائے، آمین!
یہ کچھ بے ترتیب سے تاثرات اور مشرقی افریقہ کے سفر کے مشاہدات تھے جو رواروی میں آپ کے سامنے رکھے گئے، اللہ نے چاہا تو اس سفر کی تفصیلی داستان لے کر پھر کبھی آپ کی خدمت میں حاضری دوں گا۔ تب تک کے لیے مجھے اجازت دیجیے ۔ اللہ آپ کا حامی وناصر ہو، آمین!

محمد سمعان خلیفہ ندوی 
(ایتھوپین ایئرلائن پر ایتھوپیا سے روانہ ہوکر ممبئی کے ہوائی اڈے پر اترتے ہوئے)

Prayer Timings

Fajr فجر
Dhuhr الظهر
Asr عصر
Maghrib مغرب
Isha عشا