اجودھیا معاملہ کی شنوائی آج مسلم فریقوں کی طرف سے اہم سینئر وکلا پیش ہوں گے

share with us

نئی دہلی، 10جنوری2019(فکروخبر/پریس ریلیز)آج سپریم کورٹ کی کانسٹی ٹیوشن بنچ جس کی سربراہی چیف جسٹس عزت ماب رنجن گوگوئی صاحب خود کریں گے ،اجودھیا تنازعہ کی باضابطہ شنوائی شروع کرے گی۔ واضح رہے کہ سپریم کورٹ میں 2010کے الہ آباد ہائی کورٹ کی لکھنو بنچ کے اس فیصلہ کو چیلنج کیا گیا تھاجس میں بابری مسجد کی اراضی کو تینوں فریقوں میں ایک تہائی ایک ایک تہائی کر کے تقسیم کر دیا گیا تھا۔ اس فیصلے کو تمام ہی فریقوں نے سپریم کورٹ میں چیلنج کیا ہے۔مسلمانوں کی طرف سے 8مقدمہ دائر کئے گئے ہیں جس میں ایک مقدمہ کو جمعیت علماء اور 7مقدموں کو مسلم پرسنل لا بورڈ دیکھ رہا ہے۔ بورڈ کی بابری مسجد کمیٹی کے کو کنوینر ڈاکٹر سید قاسم رسول الیاس نے پریس کو بتایاکہ مسلم پرسنل لا بورڈ کی طرف سے کل اس مقدمہ میں ڈاکٹر راجیو دھون اور سینئر ایڈوکیٹ میناکشی ارورا کے علاوہ سینئر ایڈوکیٹ جناب شیکھر نا فڈے اور سینئر ایڈوکیٹ جناب دوشانت دوے بھی پیش ہونگے۔ سینئر ایڈوکیٹ راجیو دھون اس کیس میں جمعیت علما اور پرسنل لا بورڈ دونوں کی نمائندگی کریں گے۔اس کے علاوہ جمعیت علما کی طرف سینئر ایڈوکیٹ راجیو رام چندرن بھی پیش ہونگے۔ پرسنل لا بورڈ کی بابری مسجد کمیٹی اور تمام ایڈوکیٹ آن ریکارڈ مسلم فریقوں کی طرف سے دائر تمام ہی اپیلوں کا گہرائی سے جائزہ لے کر ہر پیشی سے پہلے اپنی حکمت عملی واضح کرتے ہیں اور تمام سینئر وکلا سے اس مسئلے پر کئی بار کی کانفرنسیں ہوتی ہیں۔ 
سپریم کورٹ کی کاروائی پر اپنے رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے بورڈ کے جنرل سیکریٹری مولانا محمد ولی رحمانی صاحب نے کہا کہ عدالت عظمی نے اس مقدمہ میں کانسٹی ٹیوشن بنچ بنا کر یہ واضح عندیہ دیا ہے کہ وہ اس کو کتنی اہمیت دے رہی ہے اور کتنی سنجیدگی سے اس کے ہر پہلو کا جائزہ لینا چاہتی ہے۔


جاری کردہ 
آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ 

Prayer Timings

Fajr فجر
Dhuhr الظهر
Asr عصر
Maghrib مغرب
Isha عشا