مالیگاؤں ۲۰۰۸ء بم دھماکہ معاملہ سپریم کورٹ کو گمراہ کرنے پر ممبئی ہائی کورٹ ملزمین پر برہم

share with us

 

ہائی کورٹ کا نچلی عدالت میں جاری سماعت پر اسٹے دینے اور فور ی سماعت کرنے سے انکار 


ممبئی :09؍جنوری2019(فکروخبر/ذرائع)مالیگاؤں ۲۰۰۸ ء بم دھماکہ کا سامنا معاملے کا کررہے بھگوا ملزمین بالخصوص کرنل پروہیت اور سادھوی پرگیا سنگھ ٹھاکر کو آج اس وقت پریشانی ہوئی جب ممبئی ہائی کورٹ کی دو رکنی بینچ نے عرضداشتوں پر فوری سماعت کرنے سے ایک جانب جہاں انکار کیا وہیں سپریم کورٹ کو گمراہ کرنے پر ان کی سرزنش بھی کی ۔
موصولہ اطلاعات کے مطابق آج ممبئی ہائی کورٹ کی دورکنی بینچ کے جسٹس اے ایس اوکا اور جسٹس سندیپ کرشنا شندے نے ملزمین کی جانب سے یو اے پی اے قانون کے اطلاق کو چیلنج کرنے والی عرضداشت پر سماعت کرنے سے انکار کردیا اور ملزمین کی جانب سے سپریم کورٹ کا حکمنامہ عدالت میں پیش کرنے پر معزز عدالت ملزمین پر خفاء ہوگئی اور کہا کہ آپ لوگوں نے سپریم کورٹ کو گمراہ کرکے اس معاملے کی جلد از جلد سماعت مکمل کرنے کا آرڈر لایا ہے ۔ عدالت نے کہا کہ آپ لوگوں نے سپریم کورٹ کو یہ نہیں بتایا ہوگا کہ ممبئی ہائی کورٹ میں کتنے مقدمات التواء کا شکار ہیں اور ججوں کے پاس وقت کی تنگی ہے ۔
دو رکنی بینچ نے مزید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس معاملے میں کسی بھی طرح کی راحت ملزمین کو دینے کے لیئے تیار نہیں ہیں ا ور معاملے کی سماعت ۲۱؍ جنوری تک ملتوی کردی۔حالانکہ کرنل پروہیت کے وکیل ششی کانت شیودے اور سادھوی پرگیا سنگھ ٹھاکر کے وکلاء مشراء اور مگو نے عدالت سے درخواست کی کہ اس معاملے کی سماعت جلد مکمل کرلی جانی چاہئے کیونکہ ٹرائل کورٹ میں پہلے سے ہی گواہوں کے بیانات کا اندراج شروع ہوچکا ہے ۔
عدالت میں این آئی اے کی نمائندگی کرنیکے کے لیئے خصوصی وکیل استغاثہ پاٹل جبکہ متاثرین کی نمائندگی کرنیکے لیئے جمعیۃ علماء مہاراشٹر(ارشد مدنی) کی جانب سے نامزد کردہ وکلاء شریف شیخ، متین شیخ، شاہد ندیم، عبدالحفیظ و دیگر موجود تھے لیکن عدالت نے از خود ہی معاملے کی سماعت ملتوی کردی جس سے بھگوا ملزمین کو مایوسی ہوئی۔
واضح رہے کہ گذشتہ دنوں خصوصی این آئی اے عدالت نے ملزمین سادھوی پرگیا سنگھ ٹھاکر(۴۷) بھی حاضرہوئی تھی اور دیگر ۶؍ ملزمین میجر رمیش اپادھیائے(۶۷) اجئے ایکناتھ راہیکر (۴۸)، سمیر شرد کلرنی(۴۷)، کرنل پروہیت(۴۶)، سوامی امرتیا نند(۴۹) اور سدھاکر چترودیدی(۴۶) کے خلاف یو اے پی اے و دیگر قوانین کے تحت چارج فریم کرکے معاملے کی سماعت شروع کردی تھی جس کے بعد سے ہی ملزمین یہ کوشش کررہے ہیں کسی بھی طرح سے ہائی کورٹ سے اسٹے حاصل کرکے یو اے پی اے قانون کے اطلاق کو غیر قانونی قرار دلا یا جاسکے کیونکہ یو اے پی اے قانون کے تحت الزام ثابت ہونے پر ملزمین کو عمر قید اور پھانسی کی سزا ہوسکتی ہے۔
اسی درمیان نچلی عدالت میںآج دوسرے زخمی گواہ کی گواہی عمل میںآئی جس نے عدالت کو بم دھماکوں میں اس کے زخمی ہونے کے متعلق عدالت کو تفصیلات بتائی جس کے بعدعدالت نے اپنی کارروائی کل تک کے لیئے ملتوی کردی۔
جمعیۃ علماء مہاراشٹر

Prayer Timings

Fajr فجر
Dhuhr الظهر
Asr عصر
Maghrib مغرب
Isha عشا