ذرا نم ہوتو یہ مٹی بہت زرخیز ہے ساقی

share with us

عبداللہ دامداابو ندوی
(مدیرماہ نامہ پھول بھٹکل)

اچانک کی موسلادھار بارش سے ہر چہرہ پژمردہ اور ہر قلب پریشان تھا۔اس لیے کہ جس سلیقے اور شاہانہ انداز سے جلسہ گاہ کو سجایا گیا تھا وہ قابل دید اور لائق ستائش تھا۔۔لیکن موسلادھار بارش اور طوفانی ہواٶں نے شب و روز کی محنتوں پر یکلخت پانی پھیر دیا تھا۔۔۔  عمدہ نشستیں،رنگ برنگی دریاں اورقالین پانی سے ناقابل استعمال ہوچکے تھے۔۔
ہرطرف مہمانوں کی آمد آمد تھی،قرب و جوار اور دور دراز سے آئے مہمانوں سےجامعة الفیصل میں گویا عید کا ماحول تھا اور چہار جانب عجیب ہلچل تھی،ہر کوئی مصروف تھا اور ہم اس منظر سے مسرور تھے۔۔
لیکن بے موسم بارش کی وجہ سے اس خوشگوار موسم میں بھی بعض چہروں پر ناخوشگواری کے آثار صاف نمایاں تھے،منتظمین اجلاس ہاتھ پر دھرے اس سوچ میں غرق تھے کہ اب کیا ہوگا۔۔؟

ابھی کیا تھا اور کیا سے کیا ہوگیا

اور ہر ایک زبان حال سے یہی کہہ رہا تھا کہ

اے ابر کرم!ذرا تھم کے برس

لیکن اس ناگفتہ بہ اور ناخوشگوار صورتحال میں ایک درویش مطمئن تھا،نہ چہرے پر گرد ملال ، نہ زبان پر حرف شکایت اور نہ قضا و قدرپر لعنت ملامت۔۔۔اس مرد خدا کی زبان یہی کہہ رہی تھی کہ
وہی ہوتا ہے جو منظور خدا ہوتا ہے
ان کے رفقاء کار اور منتظمین اجلاس بھی ان کو دیکھ کر یہ سوچنے پر مجبور ہوئے کہ

راز وہ کیا ہے ترے سینے میں جومستور ہے

صبر،شکر ، قربانی اور مجاہدے کے یہ عظیم پیکر مولانا سراج الدین ندوی تھےجو جامعة الفیصل تاج پور بجنور میں عالمی رابطہ ادب اسلامی کے عظیم الشان اڑتیسویں سمینار کی میزبانی کررہے تھے۔۔۔انھوں نے موسم کی نزاکت کےپیش نظر پہلے ہی اسی خوبصورتی اور سلیقہ مندی سے جامعة الفیصل کا وسیع ھال سجارکھا تھا۔۔
اب لمحے بھر میں پورا ھال مندوبین ، مقالہ نگاروں اور ریسرچ اسکالروں  سے بھر گیا اور سمینار کی کاروائی آگے بڑھی۔۔۔
رابطہ ادب اسلامی کے ذمہ داروں نے اس مرتبہ اپنے سمینار کاموضوع *”ادب اطفال“* طے کیا تھا،رابطے کے حساس اور ہوشمند ذمہ داران نسل نو کی بڑھتی بے راہ روی دیکھ رہے تھے۔ساتھ ہی ساتھ بچوں کے قدیم ادباء و شعراء کے اُن ورثوں کو ضائع ہوتے دیکھ رہے تھے جن سے کئی نسلوں نے برابر فائدہ اٹھایا تھا۔۔۔
 اس میں ذرا شک نہیں کہ برصغیر میں اب یہ احساس جاگ رہا ہے کہ ادب اطفال پر توجہ دینا وقت کا اہم ترین تقاضا ہے ساتھ ہی ساتھ یہ احساس بھی برابر جاگ رہا ہے کہ قدیم ادباء و شعراء کے قلم سے نکلے شہ پاروں کو نئے پیکر میں کس طرح پیش کیا جائے ۔۔
ادب اطفال کے ان ہی موضوعات پر عالمی رابطہ ادب اسلامی کی اس عظیم کل ہند کانفرنس میں کم و بیش سو مقالات پڑھے گئے، ہر مقالہ جامع،پرمغز اور معلومات افزا تھا۔۔ جس سکون اور علمی وقار کے ساتھ مقالے پڑھے اور سنے  گئےاس کی نظیر نایاب نہیں تو کم یاب ضرور ہوگی۔۔۔واقعتا یہ محض توفیق الہی کے بعد رابطے کے بانی اور موجودہ ذمہ داران کے خلوص، ان کی دعائے نیم شبی اور آہ سحرگاہی کا نتیجہ ہے۔۔ورنہ دو دن کی مختلف نشستوں میں سو مقالات کا پڑھنا اور اسی شوق و جذبے سے سرشارہوکر ان کا  سننا ناممکن لگتاہے۔۔۔
استاد محترم مولانا الیاس صاحب ندوی نے افتتاحی مجلس میں ادب اطفال کی موجودہ صورتحال کا جائزہ لیتےہوئےادب اسلامی کے وسیع تصور کو پیش کیا اور حکیم الامت حضرت تھانوی علیہ الرحمہ کےحوالےسے ڈنکے کی چوٹ کہا کہ :” جہاں سے بد دینی پھیل رہی ہو ان ہی راستوں سے اچھائی کا آغاز کرنا چاہیے“لوگ ان کا خطاب سن کر ہمیشہ کی طرح محظوظ ہوئے اور ھل من مزید کا تقاضا برابر جاری رہا۔۔۔
یقینا 
دل سے جو بات نکلتی ہے اثررکھتی ہے
پر نہیں طاقت پرواز مگر رکھتی ہے

اسی محفل میں ندوہ،دیوبندعلی گڑھ اور دوسرے عالمی اداروں  سے تعلق رکھنے والی چیدہ وچنیدہ شخصیات رونق افروز تھیں۔۔۔
صدر عالمی رابطہ ادب اسلامی اور اس تحریک کے روح رواں حضرت مولانا سید محمدرابع صاحب حسنی ندوی دامت برکاتہم و جنرل سکریٹری رابطہ حضرت مولاناسید محمد واضح رشید حسنی ندوی دامت برکاتہم کے تاثراتی مقالات  بھی پڑھے گئے۔ جن کا ایک ایک حرف گہر بار اور حقیت کا آئینہ دار تھا۔۔۔اس وقت جی بہت خوش ہوا جب انھوں نے اپنے مقالے میں ماہ نامہ پھول کا تذکرہ کیا۔یقینا پھول سے ان بزرگوں کی محبت اور ہم چھوٹوں پر شفقت کا ثبوت ہے۔۔۔اللھم زد فزد
مہتمم دارالعلوم ندوة العلماء ڈاکٹر سعید الرحمن صاحب ندوی اعظمی مدظلہ العالی کے صدارتی خطاب کے بعد پہلی نشست اختتام پذیر ہوئی۔۔۔

کہتے ہیں سفرسیلۂ ظفر ہے، سفر سے حالات و کوائف،مختلف لوگوں کے عادات و اطوار اور مزاج و مذاق کا اندازہ ہوتا ہے۔۔بجنور کے اس علمی سفر میں ریاست بھوپال کے معزز خانوادے کے چشم و چراغ مولانا ڈاکٹراطہر حبیب ندوی صاحب سے ملاقات ہوئی۔۔اطہر حبیب مادر زاد نابینا ہیں لیکن کمال کی بات یہ ہے کہ ان کی کسی حرکت یا صورت سے دور دور تک ان کی اس معذوری کا کسی کو شائبہ تک نہیں ہوتا۔مزید یہ کہ بھوپال میں اپنا علمی مقام اس طرح قائم کیے ہوئےہیں کہ بڑے بڑے ان کی خدمت میں زانوئے تلمذ تہہ کرکے اپنی علمی تشنگی کو سیراب کرتےہیں۔۔اطہر حبیب حافظ قرآن بھی ہیں اور بھوپال کے سب سے مشہور،مستند اور تاریخی ادارے ”تاج المساجد“ میں صحیح بخاری و ”صحیح مسلم “کا درس دیتے ہیں،ہفتے میں تین دن شہر کے مختلف علاقوں میں ان کا درس قرآن بھی ہوتا ہے جس کو سننے کے لیے دور دراز سے لوگ امنڈ آتے ہیں۔۔۔آخرانھوں نےاپنی معذوری کے باوجود آخری درجے کا یہ کمال کیسے حاصل کیا؟آخر رفعتوں کی منزلوں اور علم و تحقیق اور تصنیف و تالیف کی ان  شاہراوں کو کیسے طے کیا۔۔۔؟نوجوان عالم دین اطہر حبیب صاحب کی یہ داستان طویل اور اوراق کم ہیں۔۔
برادر عبدالحی ائیکری ندوی نے اطہر حبیب صاحب کا دلچسپ اور مفصل انٹرویو لیا ہے۔۔ ان شاءاللہ یہ انٹرویو ماہنامہ پھول کے اگلے شمارے میں شائع ہوگا۔۔۔ان کا مقالہ ادب اطفال قرآن کے تناظر میں انتہائی جامع اور پُراثر تھا۔۔ان کے ساتھی ڈاکٹرسفیان حسان ندوی نے اس سلسلےمیں بھرپور رہنمائی فرمائی۔۔ 

یہ قدرت کی کاریگری ہے جناب

کہ ذرے کو چمکائے جوں آفتاب

اس سمینار میں استاذ عالی مولانا نذرالحفیظ صاحب ندوی ازہری دامت برکاتہم کی صحبتیں سفر کا حاصل رہیں۔ڈاکٹر رضی الاسلام صاحب ندوی اور بچوں کا اخبار ”خیراندیش“ کےبانی و مدیر جناب خیال انصاری صاحب کی ملاقات بھی خوب رہی۔۔۔
 رفیق سفر اور پھول کے اساسی رکن برادر عبدالحی ائیکری ندوی کی خوش الحان تلاوت سے شروع ہوئی تیسری نشست میں مجھے بھی پھول کی طرف سے نمائندگی کا موقع ملا۔میں نے اپنے مقالےمیں ادب اطفال کی موجودہ صورتحال اور اس کو درپیش مسائل و چلنجیز پر روشنی ڈالنےکی کوشش کی۔۔
میں نے اپنے مقالے(ادب اطفال مسائل و چلنجیز) کی تیاری کےوقت بچوں کے ادباء اور ادارہائے ادب اطفال کے ذمہ داران اور ملک و بیرون کے بچوں کے رسائل کے ایڈیٹران سے اس بارے میں پوچھا تھا اور ان بزرگوں سے بھی پوچھا تھا جن کی زندگیاں بچوں کے ادب کو فروغ دینے میں صرف ہوئیں۔۔
خوش قسمتی سے انھوں نے میرے ذاتی استفسار پر بہت اچھے اور اطمینان بخش جوابات دیے ۔سب کے اپنے مسائل اور سب کے الگ الگ تجزیے۔۔۔
لیکن ان سب جوابات اور اس میدان میں مختصر سے تجربے کے بعد ہم کارکنان اداہ ادب اطفال اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ واقعتا ادب اطفال جیسے سنجیدہ اور سلگتےموضوع کو فراموش کردیا گیا ہے۔۔
اس وقت اکثر مدیروں اور لکھاریوں کو یہ شکایت ہے کہ بچے کتابوں سے دور ہورہے ہیں۔۔ہم پوچھتے ہیں کہ بچے ان وحشت بھری ، اور کوڑیوں کے مول بکنے والی کتابوں کے قریب کیوں کر آئیں گے۔۔؟ بچوں کے مزاج میں رنگا رنگی ہوتی ہے،ان کو تو لبھانےوالا انداز چاہیے۔۔ورنہ کیا بات ہے کہ یوروپ میں کتابیں پڑھنےوالوں کا تناسب پہلے سے دس گنا زیادہ بڑھا ہوا ہے۔۔
کارٹون اور جدید ذرائع ابلاغ کا اثر بھی بچوں کے ذہن و دماغ پر غالب ہے،ان وسائل سے غیر محسوس طور پر بچوں کے عقیدوں پر جس طرح کی ضرب لگ رہی ہے اس کا تو خدا ہی حافظ ہے۔۔میں نے اپنے مقالے میں کارٹون اور بچوں کے دیگر ذرائع ابلاغ سے ہونے والے نقصانات کو واقعات کی شکل میں پیش کیا،عالمی کارٹون اور ادب اطفال کے دیگر ذرائع پر تجزیہ کیا۔۔۔اور یہ بتانے کی حتی المقدور کوشش کی کہ اس ناگفتہ بہ اور ایمان سوز صورتحال میں ہمیں ادب اطفال کا ایک نیا آغاز کرناچاہئیں،بچوں کے کتب و رسائل بچوں کے مزاج اور ان کی نفسیات کو سامنے رکھ کر تیار کرنا چاہئیں اور اسلامی کارٹون سے بڑھ کر اسلامگ گیمس کو ایجاد کرنا چایئیں۔۔ورنہ تخریبی طاقتیں ہمارے بچوں کو ذہنی و فکری زنجیروں میں جکڑیں گی اور بچے ہمارے رہیں گے لیکن ان کے ذہن و دماغ اور ان کی فکریں ملحدانہ ہوں گی۔۔۔۔العیاذ باللہ

سمینار کی تیسری نشست میں استاذ گرامی مولانا خالد صاحب ندوی غازیپوری کا صدارتی خطاب انتہائی اہم اور جامع تھا۔مولانانے اپنے خاص ادبی اسلوب میں ادب اطفال کا جامع تصور اور اپنے وسیع تخیلات سے اس کے مختلف گوشوں کو بیان کرتے ہوئے بچوں کی تربیت میں ہونے والی غفلتوں کو واقعات کی روشنی میں بتاکربچوں کے ایمان کی حفاظت کے لیے اسلامی تعلیم گاہوں کو عام کرنے کی اپیل کی۔۔۔۔مولانا کی حقائق پر مبنی گفتگو گرہ میں باندھنے والی تھی۔۔۔
لطف گویائی میں تیری ہمسری ممکن نہیں
آخری نشست میں ڈاکٹر عبدالحمید اطہر ندوی نے تجاویز پیش کیں۔۔اس طرح یہ  علمی سمینار اختتام پذیر ہوا۔مولانا بلال عبدالحی حسنی ندوی مدظلہ العالی کی صدارت میں منعقد پیام انسانیت کا اجلاس بھی تاریخ ساز رہا  امید ہے کہ اس کے اچھے اور دور رس نتائج مرتب ہوں گے۔۔۔۔
ضرورت ہے کہ بچوں پر کام کرنے والے بچوں کوجوڑنے کاسلسلہ شروع کریں،موجودہ حالات میں تربیت کی اسی عملی راہ کو اپنانے کی اشد ضرورت ہے۔۔اور اسی سے دور رس نتائج کی امید ہے۔۔۔
ذرا  نم ہوتو یہ مٹی بہت زرخیز ہے ساقی

مولانا سراج الدین ندوی صاحب،ڈاکٹر یاسین ذکی،ذوالفقار ندوی اور برادر دانش اور ان کے معاونین قابل صد مبارکباد اور ان کی کوششیں لائق صد آفریں ہیں۔جنھوں نے ذمہ داران کے تعاون کے ساتھ اس سمینار کو کامیاب بنانے میں اہم رول ادا کیا۔۔۔واقعی ان کی سعی پیہم اور جہد مسلسل سے یہ عظیم الشان کانفرنس بحسن و خوبی اپنے اختتام تک پہنچی۔۔ان کے ادارے خصوصا ملت اسکول،کالج اور ہسپتال قابل دید ہیں۔۔۔۔ان کی خدمات کو ہزارہا ہزار سلام۔۔۔
بجنور سے ہمارا قافلہ مشفق و کرم فرما مولانا الیاس صاحب ندوی مدظلہ کی معیت میں دوسرے علاقوں کے دورے پر نکل پڑا۔۔۔۔

ہوتا ہے جادہ پیما پھر کارواں ہمارا

 

 ادارہ فکروخبر بھٹکل

09 نومبر 2018

Prayer Timings

Fajr فجر
Dhuhr الظهر
Asr عصر
Maghrib مغرب
Isha عشا