نوجوان نسل میں منشیات کا بڑھتا رجحان :اسباب و حل

share with us

 

عبدالرشیدطلحہ نعمانی ؔ

 

اس وقت پوری دنیا منشیات کےخوفناک  حصار میں ہے ،بالخصوص نئی نسل اپنے تابناک مستقبل سے بے پرواہ ہوکر تیزگامی کے ساتھ اس زہر ہلاہل کو قند سمجھ رہی ہے ،اب تو سگریٹ وشراب نوشی کی وجہ مجبوری نہیں؛بل کہ ہم عصروں اور دوستوں کو دیکھ کر دل میں انگڑائی لینے والا  جذبۂ اشتیاق ہے،جو نوجوانوں کو تباہ وبرباد ،ان کے زندگی کو تاریک واندھیر  او ر ان کی جوانی کورفتہ رفتہ کھوکھلا کرتاجارہاہے۔چند سال قبل لگائے گئے ایک محتاط اندازے کے مطابق صرف تمباکو نوشی کی وجہ سے ہر سال ساٹھ لاکھ لوگ موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں  اور مختلف موذی امراض سے دوچار ہوتےہیں؛جن  میں سے80 فصد افراد کا تعلق ترقی پذیر ممالک سے ہے۔ان ساٹھ لاکھ میں سے چھ لاکھ افراد وہ ہیں  جو خود تو سگریٹ نوشی نہیں کرتے؛ لیکن اس کے دھویں کی وجہ سے جان  کو خطرے میں ڈالتےہیں۔شراب  ،چرس اور گانجے وغیرہ کےعادی افراد کی تعداد ان کے علاوہ ہے۔

یوں تودنیا میں پانچ سو سے زائد ایسے مرکبات یا مفردات ہیں جنہیں بطور نشہ استعمال کیا جاتا ہے، ان میں شراب، بھنگ، چرس، گانجا، سگریٹ، حقہ، کوکو اور ”افیون“وغیرہ زیادہ معروف ہیں ؛مگر ان سب میں بھی جو شہرت عام تمباکو کو حاصل ہے وہ شاید کسی کو حاصل نہیں ؛کیوں کہ تمباکوسستا،سہل الحصول اور ہر جگہ دستیاب نشہ ہے۔عالمی ادارۂ صحت کے مطابق دنیابھر میں تمباکو نوشی کرنے والوں کی مجموعی تعداد ایک ارب سے زائد ہے؛جن میں ہر سال تمباکو نوشی کی وجہ سے ایک لاکھ لوگ لقمۂ اجل بنتےہیں۔تمباکو ،یہ دیگرمنشیات کے استعمال کے لئے پیش خیمہ کی حیثیت رکھتا ہے ، ایک مغربی ماہر نفسیات نے اس بات کا برملا اظہار کیا ہے کہ جو افراد سگریٹ پی سکتے ہیں وہ کوکین، مارفین اور ہیروئن کے بھی عادی ہو سکتے ہیں اور عموما ًایساہی ہوتاہے،پہلے پڑیا،پھرپان ،پھر سگریٹ ،پھر شراب پھر فساد۔

اسباب و وجوہات :

بوڑھوں اور عمررسیدہ افراد میں منشیات  استعمال کرنے کی وجہ جو ہوسو ہو ؛مگر اکثر بچے اور نو جوان، والدین کی غفلت اور ان کے سرد رویہ کی وجہ سے نشے کی لت کا شکار ہو جاتے ہیں اور بعض دفعہ تو غلط صحبت کا اثر انہیں لے ڈوبتا ہے،بعض اوقات مسائل سے چشم پوشی اور حقیقت سے فرار حاصل کرنے کے لۓ بھی نشہ کا سہارا لیاجاتاہے۔یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ نوجوان نسل فیشن کے طور پر سگریٹ نوشی یا دیگر نشہ آور اشیا ء کا استعمال شروع کرتی ہے۔ پھر یہ شوق وقت کے ساتھ ساتھ ضرورت کی شکل اختیار کرجاتا ہے اوراس طرح انسان مکمل طور پر نشے کاعادی بن جاتا ہے۔ اور اس کے دماغ کو مکمل تباہ و برباد کردیتا ہے۔  پھروہ شخص اسی نشہ میں مدہوش رہتا ہے اور بار بار اس کو پورا کرنے کے لئے غلط ذرائع سے رقم حاصل کرتا ہےاور یوں اچھا خاصا صحت مند و توانا  انسان اپنی زندگی کو تباہی کے دہانے پر لا کر کھڑا کرتا ہے۔

ہمارے معاشرہ میں منشیات اور دیگر فواحش کے فروغ کی بنیادی وجہ مغرب کی اندھی نقالی اورغلامی کے مزاج ہے، اسلام کا مکمل علم نہ ہونے، اپنی دینی تعلیمات پر بصیرت واعتماد نہ ہونے اور روح کے بجائے مادے کو ترجیح دینے کے مزاج کی وجہ سے امت کی اکثریت مغرب کی مادر پدر آزاد تہذیب اور منکرات سے لبریز کلچر کی اندھا دھند نقالی اور غلامی کررہی ہے۔اسی مغرب پرستی نے ہمارے سماج میں دیگر لعنتوں کے ساتھ منشیات کی لعنت کوبھی پروان چڑھایا ہے، اور یہ خمار اس وقت تک نہیں اترے گا جب تک نقالی اورغلامی کا مزاج ختم نہ ہوجائے۔

شراب اوردیگر نشہ آور چیزوں کی بہتات کا ایک سبب  ٹی وی پر دکھائے جانے والے مخرب اخلاق پروگرام اور فواحش و منکرات پر مبنی فلمیں ہیں ، چوں کہ شراب نوشی اور کسی نہ کسی شکل میں نشہ خوری کے مناظر تمام فلموں میں پائے جاتے ہیں ، یہی چیز نوجوانوں میں منشیات کی لت پیداکرنے میں بنیادی کردار  اداکرتی ہے۔

منشیات کا استعمال شریعت مطہرہ کی نظر میں :

انسانی زندگی اللہ تعالی کا عطیہ اوراس کی نعمت ہےجس کی قدروقیمت ہر فردبشر پر عياں ہےاوراس کی حفاظت ہرہوشمند آدمی پرواجب ہے،اگر وہ اس کی ناقدری کرتےہوئے اسےضائع کرتاہےيااس کی حفاظت سے رو گردانی کرتاہے تو يہ اس نعمت کےساتھ ناانصافی اوراللہ تعالی سے بغاوت کے مرادف ہے، کيونکہ اللہ تعالی نے اسکی حفاظت کاحکم دینےکےساتھ ساتھ اس کے زياں پروعيد شديد سنائی ہے۔جیساکہ ارشاد ربانی ہے :اپنےآپ کوقتل نہ کرویقینا اللہ تعالی تم پر نہایت مہربان ہےاورجوشخص يہ( نافرمانیاں ) سرکشی اورظلم سےکرےگا تو عنقريب ہم اس کوآگ ميں داخل کريں گے اور يہ اللہ پرآسان ہے۔(النساء)ایک اور مقام پر فرمان الہی ہے:ا پنے آپ کو ہلاکت ميں مت ڈالو(البقرۃ)اسی طرح منشیات کی قباحت پر یہ آیت نص صریح کی حیثیت رکھتی ہے “اے ایمان والوں بلا شبہ شراب اورجوا ،بت اور پانسے گندے اور شیطانی کام ہیں سو ان سے بچتے رہو تاکہ تم فلاح پا جاؤ “(مائدۃ)

قرآنی آیات کے بعد منشیات کی حرمت کے سلسلہ میں ایک نظر نبوی تعلیمات پر بھی ڈالتے چلیں!حضرت عبد اللہ بن عمررضی اللہ عنہ کے حوالہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:ہر نشہ آور چیز خمر ہے اور ہر قسم کی خمر حرام ہے۔(مسلم شریف)اسی طرح حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللّٰہ عنہا سے مرفوعا روایت ہےکہ: ہر نشہ آور چیز حرام ہے جس مشروب کی کثیر مقدار نشہ پیدا کرے اس کا ایک گھونٹ پینا بھی حرام ہے۔(ترمذی شریف)اس سلسلہ میں رسول اللہ ﷺ نے ایک واقعہ بھی بیان فرمایا کہ ایک خوبصورت عورت نے اپنے پاس شراب رکھی اور ایک بچہ کو رکھا اور ایک شخص کو مجبور کیا کہ وہ تین میں سے کم از کم ایک برائی ضرور کرے ، یا تو وہ اس عورت کے ساتھ بدکاری کرے ، یا اس بچہ کو قتل کر دے ، یاشراب پئے ، اس شخص نے سوچا کہ شراب پینا ان تینوں میں کمتر ہے ؛ چنانچہ اس نے شراب پی لی ؛ لیکن اس شراب نے بالآخر یہ دونوں گناہ بھی اس سے کرالئے ۔ ( نسائی : ۵۶۶۶)

ابن باز رحمہ اللہ لکھتے ہیں:سگریٹ نوشی حرام ہے کیوں کہ یہ گندی چیز ہے اور بہت سے نقصانات پر مشتمل ہے اور اللہ تعالی نے اپنے بندوں کے لئے کھانے پینے کی چیزوں میں سے پاکیزہ چیزیں ان پر حلال ومباح کی ہیں اور گندی چیزوں کو حرام کیا ہے اور تمباکو اپنی تمام قسموں سمیت پاکیزہ چیزوں میں سے نہیں بلکہ گندی چیزوں میں سے ہے، اسی طرح تمام نشہ آور چیزیں بھی گندی چیزوں سے ہیں۔ اس لیے تمباکو نہ پینا جائز ہے نہ اس کی بیع وشراء اور تجارت جائز ہے، جیسا کہ شراب کی صورت ہے۔ لہذا جو شخص سگریٹ پیتا ہے اور اس کی تجارت کرتا ہے اسے جلد ہی اللہ تعالی کے حضوررجوع اور توبہ کر نا ، گذشتہ فعل پر نادم ہونا اور آئندہ نہ کر نے کا پختہ عزم کرنا چاہئے، اور جو شخص سچے دل سے توبہ کرے اللہ تعالیٰ اس کی توبہ قبول فرماتا ہے جیسا کہ ارشاد ربانی ہے: ’’اے ایمان والو! سب کے سب اللہ کے حضور توبہ کرو تاکہ تم فلاح پاؤ۔

اس کے علاوہ سگریٹ نوشی اورديگرنشہ آور اشیاء کی خريدوفروخت ميں استعمال شدہ دولت بھی اسراف وتبذیرکے زمرے میں آتی ہے ؛چناں چہ اللہ پاک فرماتے ہیں:بلا شبہ فضول خرچی کرنے والے شیطان کے بھائی ہیں ۔اور شیطان اپنے رب کا نافرمان ہے۔(بنی اسرائیل)اسی طرح حضرت ابن مسعود سےروایت ہےکہ نبی کریم صلی الله  علیہ وسلم نے فرمایا قیامت کے دن انسان کے قدم نہ ہٹیں گے حتی کہ اس سے پانچ چیزوں کے متعلق سوال کیا جاوے گا؛  اس کی عمر کے بارے میں کہ کس چیز میں خرچ کی اور اس کی جوانی کے متعلق کہ کاہے میں گزاری اس کے مال کے متعلق کہ کہاں سے کمایا اور کہاں خرچ کیا اور اس پر عمل کیا کیا جو جانا  (ترمذی)

مختصر یہ کہ  نشہ آور اشیاء کا استعمال جسمانی اعتبار سے بھی مضر ہے، مالی و معاشی حیثیت سے بھی تباہی کن ہے، اور سماجی و اخلاقی نقطہء نظر سے بھی سم قاتل ہے۔

منشیات کےطبی نقصانات :

نیوزی لینڈ میں ہونے والی ایک تحقیق کے دوران سردرد اورسگریٹ نوشی کےعمل کے درمیان گہراتعلق دیکھاگیاہے، ماہرین نےاپنی تحقیق میں (980 ) مردوں اورعورتوں کوشامل کیا جنہوں نے بتایاکہ انہیں(11)سے (13) سال کی عمر میں سردرد شروع ہوا اوروہ اسی عمرسےسگریٹ نوشی بھی کررہے ہیں ۔ گزشتہ 15 سال سےسگریٹ نوشی کرنے والے ایک گروپ میں شامل افراد نےکہا کہ انہیں علم ہے کہ جب وہ زیادہ سگریٹ نوشی کرتے ہیں توسردردبڑھ جاتاہے۔مذکورہ تحقیق سے يہ بات بالکل عياں ہوگئی کہ يہ اشیاء انسان کے لئےسمِّ قاتل ہيں، اگرکوئی شخص ان کے نقصانات کوجانتے ہوئے ان کا استعمال کرتاہےتو يہ خودکشی کےزمرےميں آتا ہے،اور خود کشی کی جو سزا شریعت میں متعین کی گئی ہے وہ ہرمسلمان کےلئے ظاہر و باہرہے ۔ اس مناسبت سےنشیات کے  کچھ  طبی نقصانات  بھی ذیل میں مذکور ہیں۔

1:سب سے پہلے یہ کہ ان کے استعمال سے دانت خراب ہوجاتےہیں اور منہ سے بدبو آنےلگتی ہے

2:ماہرین کے نزدیک تمباکو وغیرہ  میں بے حد زہریلے اجزاء نکوٹین، فیرفورال، پاسٹر یڈن وغیرہ ہوتے ہیں یہ زہریلے اجزا انسانی جسم پر بری طرح اثر انداز ہوتے ہیں اور فاسد مادے پیدا کرتے ہیں ان کے استعمال سے خون کا رنگ متاثر ہوتا ہے خون زردی مائل اور پتلا ہو جاتا ہے۔

3:اس سے عضلات کمزور اور ڈھیلے ہو جاتے ہیں ۔

4:منشیات کے زیادہ استعمال سے جسم کے افعال میں بے ترتیبی پیدا ہوتی ہے، معمولی محنت سے انسان کی سانس پھولنے لگتی ہے اس سے دل کا دس فیصدی کام بڑھ جاتا ہے اور انسان کی عمر دس فی صد کم ہو جاتی ہے۔

5:ان سے پھیپھڑوں کے مختلف امراض پیدا ہوتے ہیں انسان کے سونگھنے کی طاقت کم ہو جاتی ہے ۔

6:ان کے استعمال سے معدہ آنتوں کی اندرونی سطح پر ایک قسم کا چپکدار مادہ جمع ہو جاتا ہے جو ان کی ساخت کو متاثر کرتا ہے اس سے معدہ خرآب اور بھوک کم لگتی ہے ۔

7:تمباکو سگریٹ نسوار وغیرہ مسلسل لگاتار استعمال کرنے سے یہ سر طان کا باعث بنتے ہیں ؛بل کہ کینسر کی سترہ اقسام ہیں جن کی وجہ تمباکو کا استعمال ہے۔اِن میں منہ،جلد، گلے، سینے، پھیپھڑے، معدے،مثانہ وغیرہ کا کینسر شامل ہے۔

8:ان کے استعمال سے بصارت وبینائی کم ہو جاتی ہے۔

9:ان کے استعمال سے انسان کے اندر چڑچڑا پن، غصہ، سستی، ضد، ڈر، خوف، بدمزاجی پیدا ہو جاتی ہے ۔

10:ان کا استعمال رعشہ، نزلہ، زکام کا بہت بڑا سبب ہے۔

خلاصۂ کلام:

دراصل افراد معاشرے کا سرمایہ ہے، فرد کا زیاں خاندان اور سماج کی بنیادوں کو کھوکھلا کردیتاہے۔ آج بحیثیت انسان اور مسلمان ہم سب کی ذمہ داری ہے کہ ہم معصوم بچوں اور نوجوان نسل کو نشے کی لعنت سے بچایٔیں ۔ تمام مذہبی ادارے، اسکول و کالج، سماج سدھار تنظیمیں، NGO اور حکومتی سطح پر بھی یہ کام سر انجام دیا جانا چاہئے، یہ برائی ہمارے معاشرے کو گھن کی طرح کھا رہی ہی اور ہمیں معاشرے کو اس برائی سے بچانا ہے۔ آج یہ فریضہ ہمارے لئے فرض عین کی شکل اختیار کر گیا ہے اور اس کے لئے ہم سب کو متحد ہوکر ایک پلیٹ فارم پر آنا ہوگا تاکہ معاشرے کو اس لعنت سے پاک کرسکیں۔

یاد رہے کہ جب تک منشیات کے استعمال کے کو رواج اور بڑھا وادینے والے اسباب ومحرکات کا خاتمہ نہیں کیا جائےگا،اس کے سد باب کی کوشش نہیں کی جائے گی اس وقت تک اس مسئلے کو کنڑول نہیں کیا جا سکتا اور  جب تک زندگی کے دیگر شعبوں سے تعلق رکھنے والےذمہ داران بالخصوص علمائے کرام وغیرہم منبرومحراب سے منشیات کی روک تھام کے لیے سنجیدہ کردار ادا نہیں کریں گے اس وقت تک اس سنگین صورت حال پر قابو پانا مشکل ہے۔یہ کس درجہ افسوسناک بات ہے کہ سگریٹ سازی کی صنعت کو باقاعدہ قانونی حیثیت حاصل ہے؛لیکن یہ کس قدر مضحکہ خیزامر ہے کہ سگریٹ کی ڈبیہ پر”خبردار!تمبا کو نوشی صحت کے لیے مضرہے“ جیساوعظ رقم کیا جاتا ہے، لیکن اس سگریٹ سازی کی صنعت کو روکنے یا اس کی خریدوفروخت کے حوالے سے کسی قسم کی سنجیدگی کا مظاہرہ نہیں کیا جاتا۔

اس وقت ضرورت اس امر کی ہے کہ تمباکو نوشی کے خلاف صرف ایک دن نہیں ؛بلکہ برس کے بارہ مہینے مہم چلائی جائےاورتمام طبقات بالخصوص میڈیا اور منبرومحراب منشیات کے استعمال کے رجحانات کو کنڑول کرنے کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔لعل اللہ یحدث بعد ذلک امرا

 

 

Prayer Timings

Fajr فجر
Dhuhr الظهر
Asr عصر
Maghrib مغرب
Isha عشا