کانوڑیاترا نے اختیار کیا سیاسی رنگ، ڈی جے پرہو رہی یوگی کی تعریف اکھلیش کی برائی

share with us

مغربی اتر پردیش میں ’کانوڑ یاترا‘ اس وقت اپنے عروج پر ہے۔ ایک اندازے کے مطابق 2 کروڑ سے زیادہ شیو بھکت اس بار ہریدوار میں گنگا جل لینے پہنچ رہے ہیں۔ ’جل ابھشیک‘ 9 اگست کو ہے۔ کمبھ کے بعد ریاست کی دوسری سب سے بڑی مذہبی تقریب بن چکی اس کانوڑ یاترا میں 2014 میں مرکز میں آئی بی جے پی حکومت پر سیاست کرنے کا الزام لگتا رہا ہے۔ مذہب اور مبینہ راشٹرواد کی اس سیاست میں اب سیدھے الزامات در الزامات کا سلسلہ شروع ہو چکا ہے۔اس بار کی کانوڑ یاترا تنازعہ کا شکار اس لیے بنی ہے کیونکہ ’ڈی جے‘ پر ایک گانا خوب بج رہا ہے جسے بی جے پی کے کلچرل سیل کے کوآرڈینیٹر سنت رام بنجارا نے لکھا ہے اور نوعمر بھجن گلوکارہ چنچل بنجارا نے گایا ہے۔ یہ وہی چنچل بنجارا ہیں جسے وزیر اعظم نریندر مودی کی پیریفیرل افتتاحی تقریب میں استقبالیہ گیت کے لیے مدعو کیا گیا تھا۔

دراصل کانوڑ یاترا میں جو متنازعہ گانا بج رہا ہے اس میں اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کی تعریف کی جا رہی ہے جب کہ اکھلیش یادو کو تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ یہ گانا پوری طرح سے لوگوں کی توجہ کا مرکز بن گیا ہے اور طرح طرح کی باتیں بھی ہو رہی ہیں۔ گانے میں یوگی کی تعریف اور اکھلیش کی برائی پر سماجوادی پارٹی لیڈروں نے سخت اعتراض ظاہر کیا ہے۔ اس میں سابق وزیر اعلیٰ اکھلیش کو کانوڑ کے دشمن کی شکل میں پیش کیا گیا ہے۔ خاص بات یہ ہے کہ گانے میں اشاروں اشاروں میں یوگی آدتیہ ناتھ کو مستقبل کا وزیر اعظم تک کہہ دیا گیا ہے۔

اس گانے کو یوگی آدتیہ ناتھ کے حامی سوشل میڈیا پر لگاتار شیئر کر رہے ہیں۔ اس میں انھیں انگاروں سے کھیلنے والا بتایا گیا ہے اور ساتھ ہی انھیں بہو بیٹیوں کا محافظ بھی قرار دیا گیا ہے۔ سب سے دلچسپ بات یہ ہے کہ انھیں مستقبل کے وزیر اعظم بننے کی طرف اشارہ کیا گیا ہے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ہر طرح سے یوگی آدتیہ ناتھ کو خوش کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔

سماجوادی پارٹی کے ریاستی سکریٹری منیش جگن نے کانوڑ یاترا میں بجائے جا رہے اس گانے پر اعتراض ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ ریاست کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ خود کو ہندو کے مفاد میں سوچنے والا ظاہر کرنا چاہتے ہیں جب کہ بی جے پی حکومت سے سبھی لوگ بری طرح پریشان ہیں اور آبادی میں اکثریت ہونے کی وجہ سے ہندو سب سے زیادہ پریشان ہے۔ منیش جگن کہتے ہیں کہ ’’صرف ڈی جے بجوانے سے کیا عوام کی پریشانی دور ہو جائے گی۔‘‘ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ ڈی جے پر پابندی ہائی کورٹ نے لگائی تھی اس لیے سابق وزیر اعلیٰ اکھلیش یادو کا نام لینا پوری طرح غلط ہے۔ ساتھ ہی انھوں نے یہ بھی کہا کہ ’’ڈی جے پر اس وقت بھی پابندی ہے اور کانوڑ یاترا میں اسے بجانا عدالت کے احکامات کی خلاف ورزی ہے۔ اتراکھنڈ میں بھی بی جے پی حکومت ہے اور وہاں ہریدوار میں ڈی جے بجانے پر پابندی لگی ہوئی ہے، تو کیا وہاں غلط ہو رہا ہے؟ یہ پابندی عدالت نے صوتی آلودگی سے بچنے اور بھولوں کے تحفظ کے مدنظر لگائی ہے۔‘‘

سماجوادی پارٹی لیڈر فیروز آفتاب سنت رام بنجارا کے ذریعہ لکھے گئے گانے کو اکھلیش یادو کی شبیہ بگاڑنے کی سازش قرار دیتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ بی جے پی اپنے مخالف لیڈروں کی شبیہ خراب کرنے کے لیے اسی طرح کی سازشیں کرتی رہی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ’’کانوڑ یاترا کو سیاسی رنگ دے دیا گیا ہے۔ بی جے پی مذہب کو ہائی جیک کر رہی ہے۔‘‘ فیروز اتراکھنڈ میں بھی ڈی جے پر پابندی عائد ہونےکا تذکرہ کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ’’اتراکھنڈ میں تو بی جے پی کی ہی حکومت ہے اور وہاں بھی ڈی جے پر پابندی لگی ہوئی ہے تو کیا وہاں کی حکومت ہندو مخالف ہے! حکومت اپنی ناکامیوں کو چھپانے کے لیے یہ حرکتیں کر رہی ہے۔بہتر یہ ہے کہ حکومت کام کرنے پر توجہ دے۔ کانوڑ یاتراکا تعلق مذہبی عقیدت سے ہے اور اس معاملے میں سیاست کرنا اچھی بات نہیں۔‘‘

’ڈی جے بجوا دیا یوگی نے‘ گانے کو لکھنے والے سنت رام بنجارا نے ’قومی آواز‘ سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ ’’یہ گانا میں نے عوامی جذبات کو مدنظر رکھتے ہوئے لکھا ہے۔ کانوڑ یاترا میں ڈی جے بجوانے کے تئیں ہندوؤں میں بہت خوشی کا ماحول ہے۔ اس ڈی جے کو اکھلیش حکومت نے بند کروا دیا تھا لیکن یوگی جی نے پھر سے بجوایا ہے۔‘‘

مذکورہ گانے کو آواز دینے والی چنچل بنجارا سنت رام بنجارا کی بیٹی ہیں اور وہ اس گانے کو گا کر انتہائی خوش نظر آ رہی ہیں۔ ’قومی آواز‘ سے بات چیت کرتے ہوئے وہ کہتی ہیں کہ ’’اس گیت کو گانے کے بعد میں سیلبرٹی بن گئی ہوں۔ مجھے سوشل میڈیا پر ہزاروں لوگوں سے مثبت رد عمل مل رہے ہیں۔‘‘ یہ الگ بات ہے کہ سماجوادی پارٹی لیڈران اس گانے پر آگ بگولہ ہیں لیکن بی جے پی کارکنان اس کے ذریعہ سیاست کرنے اور یوگی کی شبیہ چمکانے کی کوشش میں سرگرم ہیں۔

Prayer Timings

Fajr فجر
Dhuhr الظهر
Asr عصر
Maghrib مغرب
Isha عشا