جولائی میں 5 ہزار یہودی شرپسندوں کے قبلہ اول پر دھاووں کا نیا ریکارڈ

share with us

مقبوضہ بیت المقدس:08؍اگست2018(فکروخبر/ذرائع)روز مرہ کی طرح صہیونی فوج اور پولیس کی سرپرستی میں یہودی آباد کاروں کے قبلہ اول پر اشتعال انگیز دھاووں کا سلسلہ جاری ہے۔ القدس اسٹڈی سینٹر کی طرف سے جاری کردہ تازہ اعدادو شمار کے مطابق جولائی 2018ء کے دوران پانچ ہزار یہودی آباد کاروں، اسرائیلی فوجیوں، پولیس اہلکاروں، صہیونی ارکان پارلیمنٹ، سیاست دانوں، طلباء اور انتہا پسند تنظیموں کے ارکان نے قبلہ اول میں گھس کر مقدس مقام کی بے حرمتی کی۔رپورٹ کے مطابق جولائی کے مہینے میں یہودی آباد کار روز مرہ کی بنیاد پر مسجد اقصیٰ میں داخل ہوتے رہے۔ مجموعی طورپر 4962 یہودیوں نے قبلہ اول کی بے حرمتی کی اور عبادت کی آڑ میں مقدس مقام کا تقدس پامال کیا۔رپورٹ کے مطابق جولائی میں قبلہ اول پر دھاوا بولنے والوں میں 3809 یہودی آباد کار، 342 پولیس اہلکار، 99 انٹیلی جنس اہلکار،204 یہودی طلباء اور 505 اسپیشل فورسز کے اہلکار شامل تھے۔اس کے علاوہ اسرائیلی محکمہ آثار قدیمہ کے تین عہدیدار اور 45583 سیاح بھی مسجد اقصیٰ میں آئے۔اس سے قبل جولائی سنہ 2009ء میں 6 ہزار یہودیوں نے قبلہ اول پر دھاوا بولا، مگر اس کے بعد اس میں کمی آئی تھی۔ 2017ء کی جولائی  کی نسبت رواں سال 70 اور 2016ء کی نسبت 300 فی صد اضافہ ہوا۔

 

Prayer Timings

Fajr فجر
Dhuhr الظهر
Asr عصر
Maghrib مغرب
Isha عشا