ریپ پر شاہ فیصل کا ٹوئٹ، شاہ فیصل کے خلاف کارروائی پر عمر عبداللہ کا احتجاج

share with us

سری نگر:11؍جولائی2018(فکروخبر/ذرائع) وقت تھا جب کشمیر سے آئی اے ایس ٹاپ کرنے والوں کی خوب پذیرائی کی جارہی تھی اور آج ایک حساس مسئلے پر ٹوئٹ کرنے کے سلسلے میں انہیں کے خلاف مقدمہ درج کیا جارہا ہے۔واضح رہے کہ شاہ فیصل نے ریپ کے واقعات میں اضافے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ٹوئٹ کیا تھا کہ 'بڑھتی آبادی، وطن سے محبت، ناخواندگی، شراب، ٹکنالوجی، ناامیدی اور ریپستان آخر ملک میں کیا ہورہا ہے؟خیال رہے کہ یہی وہ ٹوئٹ ہے جس کے بعد تنازع پیدا ہوا، اور ان کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا۔جموں و کشمیر حکومت نے شاہ کے خلاف نظم و ضبط توڑنے کے الزام میں مقدمہ درج کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔واضح رہے کہ یہ کاروائی مرکزی حکومت کے ڈپارٹمنٹ آف پرسنل ٹریننگ (ڈی او پی ٹی) کے کہنے پر کی گئی ہے۔

   اس معاملہ پرجموں کشمیر کے سابق وزیر اعلیٰ اور نیشنل کانفرنس کے وائس چیئر مین عمر عبداللہ نے آئی اے ایس آفیسر شاہ فیصل کی ٹوئٹ پر اپنا رد عمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ 'ایسا محسوس ہو رہا ہے کہ ڈپارٹمنٹ آف پرسنل اینڈ ٹریننگ شاہ فیصل کو سول سرویسز سے باہر کرنے کی کوششوں میں ہے'۔انہوں نے  ٹوئٹ کرتے ہوئے لکھا کہ 'اس پیج کی آخر لائن پریشان کن اور ناقابل قبول ہے۔ جہاں وہ فیصل کی ایمانداری اور صداقت پر سوال کرتے ہیں۔ ایسے طنزیہ ٹوئیٹ کیسے غلط کہے جا سکتے ہیں۔ انہیں یہ کیسے بد عنوان بناتا ہے'۔شاہ فیصل اس وقت مڈکیریئر بریک پر امریکہ میں ماسٹرز کی تعلیم حاصل کررہے ہیں۔کشمیر کے سابق وزیر اعلیٰ اور نیشنل کانفرنس کے وائس چیئر مین عمر عبداللہ نے آئی اے ایس آفیسر شاہ فیصل کے ٹوئٹ پر اپنے رد عمل اظہار کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ 'ایسا محسوس ہورہا ہے کہ ڈپارٹمنٹ آف پرسنل ٹریننگ شاہ فیصل کو سول سرویسز سے خارج کرنا چاہتا ہے'۔انہوں نے اپنے ٹوئٹ  میں مزید لکھا کہ 'یہ پریشان کن اور ناقابل قبول ہے کہ وہ فیصل کی ایمانداری اور صداقت پر سوال اٹھا رہے ہیں'۔انہوں نے کہا کہ 'ایسا طنزیہ ٹوئٹ غلط کیسے قرار دیا جاسکتا ہے جنہیں یہ بد عنوان بتارہے ہیں'۔ جموں و کشمیر کے معروف آئی اے ایس افسر شاہ فیصل پر مقدمہ درج کیا گیا ہے۔

Prayer Timings

Fajr فجر
Dhuhr الظهر
Asr عصر
Maghrib مغرب
Isha عشا