غزہ پر پابندیوں میں اضافہ انسانیت کے خلاف سنگین جرم ہے،حماس

share with us

غزہ:10؍جولائی2018(فکروخبر/ذرائع)اسلامی تحریک مزاحمت ’’حماس‘‘نے اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاھو کی منظوری کے بعد غزہ کی پٹی پر نئی اقتصادی پابندیوں کے اعلان کی شدید مذمت کی ہے۔فلسطینی میڈیا رپورٹس کے مطابق حماس نے واضح کیا ہے کہ غزہ کی پٹی کو سامان اور بنیادی ضرورت کی اشیا کی ترسیل پر نئی پابندیاں انسانیت کے خلاف سنگین جرم ہیں اور فلسطین قوم کیخلاف صہیونی دشمن کے سیاہ کارناموں میں ایک نیا اضافہ ہے۔حماس کے ترجمان فوزی برھوم نے ایک بیان میں کہا کہ غزہ کے عوام کو اجتماعی سزا دینے کی صہیونی پالیسی پر عالمی برادری اور علاقائی ممالک کی مجرمانہ خاموشی تشویشناک ہے۔ اسرائیل نے 12 سال سے غزہ کے عوام کا دانہ پانی بند کر رکھا ہے اور ان پابندیوں میں مزید اضافہ کردیاگیا ہے۔ترجمان کا کہنا ہے کہ صہیونی ریاست کی طرف سے غزہ کے عوام کو مزید مشکلات سے دوچار کرنا بین الاقوامی قوانین انسانی حقوق کی سنگین پامالی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس وقت غزہ کے عوام کو طویل ناکہ بندی کے بعد فوری ریلیف کی ضرورت ہے مگر قابض صہیونی ریاست نے دو ملین فلسطینیوں کی زندگی اجیرن بنا رکھی ہے۔فوزی برھوم نے خبردار کیا کہ غزہ کی پٹی کے عوام پر پابندیوں میں مزید اضافے کے سنگین نتائج کا ذمہ دار اسرائیل ہوگا۔خیال رہے کہ اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاھو اور وزیر دفاع آوی گیڈور لائبرمین نے غزہ کی مشرقی سرحد سے گیسی غبارے اور آتش گیر کاغذی جہازوں کی روک تھام کی آڑ میں غزہ پر مزید دباؤ ڈالنے کی پالیسی کا اعلان کیا اور اس پالیسی کو موثربنانے کے لیے غزہ پر اقتصادی پابندیوں میں مزید سختی کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

Prayer Timings

Fajr فجر
Dhuhr الظهر
Asr عصر
Maghrib مغرب
Isha عشا