موانعِ ترقی اُمّت

share with us

عزیز بلگامی

اُمتِ مسلمہ کی سماعت شاید اِس بات کا بڑی بے دِلی سے اِستقبال کرے گی کہ تقریباً ایک سو ساٹھ کروڑ نفوس پر مشتمل ایک اُمّت دُنیا میں آج ایسی بھی پائی جاتی ہے جس پر تقریباً ساڑھے تین سو سالوں سے ترقی کی راہیں مسدود ہیں۔اُس پر زمین تنگ ہے اوراُس پر ذِلّت و مسکنت مسلّط کردی گئی ہے۔اِن تین ساڑھے تین صدیوں کے دوران اِس اُمّت کے صائب الرائے دانشور مسلسل غور وفکر اور علاج میں مصروف ہیں۔ لیکن گتھی ہے کہ سلجھتی ہی نہیں۔
خطامعاف!یوں محسوس ہوتا ہے ،جیسے اِ س پورے عرصے میں اِس بدنصیب اُمّت کے خوش نصیب دانشوروں کی اکثریت نے شایدبالواسطہ یا بلاوا سطہ اپنی فلاح کی فکر تو بہت کی ہے، لیکن سلیقے سے اُمّت کی بد بختیوں کو دور کرنے کا حق ادا نہیں کیا۔ سوال یہ ہے کہ حل کی ہر وہ کوشش یا’’ترقیئ اُمت‘‘ کی ہر وہ تجویز جو طبع زاد اسکیموں کے جلو میں آتی ہے، بالآخرنا مرادی کی کھائیوں میں کیوں جا گرتی ہے؟ عبرت ناک نامرادیوں کے باوجود اِن اسکیموں کے پالیسی سازاِس زعمِ بے جا میں کیوں مبتلا رہتے ہیں کہ اُنکی اسکیم یا تجویز تو نتائج بردار تھی، لیکن نتائج برآمد نہیں ہورہے ہیں تو اس میں اِن کا یا اِن کی تجویز کا کوئی قصور نہیں! پھر یہ کہ ایک گروہِ دانشوراں کسی دوسرے دانشورگروہ کی تجویز سے اتفاق کیوں نہیں کرتا،اور کیوں یہ سمجھتا ہے کہ کسی دوسری اسکیم کی کوئی وقعت ہی نہیں ؟اگرچہ ہمیں بھی یہ دعویٰ نہیں کہ ہم اپنے بے اثر قلم یا اپنی سطحی معروضات کے ذریعہ کوئی بہت بڑا تیر مار سکیں گے۔ لیکن اللہ کا نام لے کر بعض اہم پہلوؤں پر اِظہارِ خیال کا فریضہ ہم ضرور ادا کرنا چاہتے ہیں ۔
کہیں ایسا تو نہیں کہ اس مسئلہ پر گفتگو یاغور وفکر کے نقطۂ آغاز کو متعین کرنے میں ہم سے کوئی غلطی سرزدہو رہی ہو اور اس طرح ہم منزل کی سمت جانے والی راہ پر گامزن ہو ہی نہیں سکے ہیں، کجا کہ منزل سے ہم آغوش ہو جائیں!کہیں یہ بات تو نہیں کہ مرض کچھ ہو اور تشخیصِ مرض کچھ اور ہو رہا ہو۔ سوال یہ ہے کہ ملت کا مرض کیا ہے،اور اس کا علاج کس کے پاس ہے؟ جب ترقئ اُمت کی گفتگو ہم چھیڑتے ہیں تواِس سے ہماری مراد کیا ہوتی ہے؟امت کی تقدیر بنانے والی ترقی کیاہے؟جنہیں ہم موانعِ ترقی کہتے ہیں وہ کیا ہیں اور ان کا انسداد کیوں کر ممکن ہے؟ دانشورانِ اُمّت میں اتفاقِ رائےConsensus نہیں تو اس کی بنیادیں کیا ہیں؟ اِن سوالات کا کوئی جامع جواب اس موضوع کا حق ادا کرنے میں ہماری مدد کر سکتا ہے۔آئندہ سطور میں دانشوریوں سے دامن بچاتے ہوئے اس جواب کوتلاش کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔
سب سے پہلی چوک جو ہم سے سر زد ہوتی ہے وہ یہ کہ ہم اِس خیالِ خام میں مبتلاء ہو جاتے ہیں کہ خود اُمت کے پاس یہ قوت و صلاحیت ہے کہ وہ اپنے آپ کو ذلّت و مسکنت کے غار سے باہر نکال سکے یا اِس معاملے میں کوئی ا س کی مدد کو آئے۔ہم پر یہ مان کر چلنا لازم ہے ترقی کی راہوں کے گم ہو جانے کی جو صورتحال بنی ہوئی ہے وہ من جانب اللہ ہے۔مالک کی نظرِ عنایت اب ہم پر باقی نہیں۔حقیقت یہ ہے کہ منصبِ مکرم پر مکرّر سرفرازی درگاہِ الٰہی سے ہی عطا ہونے والی ہے اوروہی ذلت و خواری کی تشویش ناک صورتحال سے اُمت کو باہر نکال سکتا ہے، اگر وہ چاہے۔ تیسری سورۃ کی چھبیسویں آیت میں موجود اس اعلامیہ کو نظروں سے اوجھل نہیں ہونا چاہیے:’’( اپنے بندوں میں سے کسی کو)مقامِ معززپر سرفرازکر دے، جسے تو چاہے اور ذلالت( و خواری کی کھائیوں میں دھکیل) دے،(اُسے) جسے تو چاہے۔‘‘
ہماری دوسری چوک یہ ہے کہ ہم اپنی حرماں نصیبیوں کے اسباب کو اپنے ظن و تخمین کے ذریعہ ڈھونڈنا چاہتے ہیں اور اپنے رب تعالےٰ سے یہ پوچھنے کی ہمیں توفیق نہیں ہوتی کہ تنزل کی علت کیا ہے۔ شاید اب وقت آگیا ہے کہ اب تو کم از کم ہم اپنے خالق سے پوچھ لیں کہ’’ اُمّت کی ترقی ‘‘کی راہ میں رکاوٹ بننے والی تنزّل کی بھاری چٹانیں کیوں کھڑی ہوگئی ہیں۔ اُمت کے تنزل کے اسباب کیا ہیں،’’ ترقیِ اُمت ‘‘کی راہ کے موانع کیا اور کیوں ہیں ، نیز اُمت پر جو اُفتاد پڑی ہے، اُس کی حقیقت کیا ہے، مصائب کیا ہیں، کب اور کیسے وہ ہمیں ذلت کی کھائیوں سے اُبھرنے کی ترکیبیں سجھاتا ہے ؟
تیسری چوک ہم سے یہ سرزد ہوتی ہے کہ دراصل ہماری گفتگوئیں اور سوچ بچار کی ساری مشقیں گزری ہوئی ایک دو صدیوں کے حوالے سے ہوتی ہیں اور ہم اپنی دلدری کے سلسلہ نسب Genesis کی جڑ تک نہیں پہنچ پاتے۔اس کے برخلاف ہم کچھ وقتی قسم کے حالات یا ماضئ قریب کے کچھ ذلیل انقلابات سے متاثر ہو کردنیا کی ترقی یافتہ اقوام کا مقابلہ کرنا چاہتے ہیں۔ اگر کسی زوال پذیر اُمت کو اوپر اٹھانے اور ترقی کی بلندیوں پر پہنچانے کے فی الواقع متمنی ہیں تو ہمیں چاہیے کہ ہم ایک دو صدیوں کو نہ دیکھیں بلکہ امتوں کے عروج و زوال کی ایک ایسی روداد کو سامنے رکھ کر تجاویز پیش کریں،جو لاکھوں سالوں پر مشتمل ہو۔لیکن ایسا کوئی منبع معلومات انسانوں کے پاس کہیں نظر نہیں آتا، سوائے اُمت مسلمہ کے۔اللہ کی کتا ب جسے ہم ’’القرآن‘‘ کہتے ہیں کائنات کے سب سے پہلے انسان کی زندگی کے نشیب و فرازسے اپنی حقائق پر مبنی داستان کا آغاز کرتا ہے اور اس دنیا کے ختم ہونے تک انسانوں کی ترقی و تنزل کی روداد کو اپنے دامن میں سمیٹے ہوئے ہے۔ اللہ کا شکر کہ یہ عظیم کتاب اِسی زوال پذیر اُمت کے پاس ہے۔قوموں کی ترقی و تنزل کی علت و اسباب کے حقیقی منبعِ معلومات سے استفادے کی طرف کم نظر دانشوروں کی توجہ اس لیے نہیں جاتی کہ وہ القرآن سے استفادے کے قائل نہیں اور کچھTemporary قسم کی تدبیریں اختیار کرکے صدیوں کی پس ماندگی کو دور کرنے کا خواب دیکھتے ہیں۔’ موانع ترقی ‘کے بارے میں الٰہی نقطۂ نظر ہمارے پیش نظر اس لیے ہونا چاہیے کہ وہی ہے جس نے ہم سے پہلے گزری ہوئی اُمتو ں کو پیدا بھی کیا۔وہی ہے جس نے اِنہیں عروج بھی بخشا اور زوال بھی، ترقی کی بلندیوں پر بھی پہنچایا اور تنزل کی کھائیوں میں بھی دھکیلا اور قوموں کے عروج و زوال کے اِس عمل میں ایک ہی اصول کو کارفرمارکھا۔ اس لیے کہ عدل و اِنصاف کا یہی تقاضہ تھا۔ ظاہر ہے ، آج بھی اُس کا وہی اُصول کارفر Operational ہونا چاہیے اور یہی اصول قیامت تک سرگرمِ کار رہیں۔ہم یہاں کچھ مثالوں سے سمجھائیں گے کہ کس طرح ہمارے دانشور وقتی تجزیوں کی بھول بھلیوں میں کھو جاتے ہیں اور عارضی قرادادِ عمل سے بڑے نتائج کی توقع وابستہ کر لیتے ہیں اور حقیقی اسباب سے چشم پوشی کرجاتے ہیں۔اور کس طرح اِلٰہی قوانین سے صرفِ نظر کر جاتے ہیں۔
m پہلی مثال یہ کہ اللہ کا یہ قانون ہے کہ وہ اپنے پروگرام کے تحت(نہ کہ انسانوں کی Convenienceکے لیے)مختلف ایّام اور گرم نرم حالات سے انسانوں کو گزارتا ہے۔جیسا کہ تیسری سورۃ کی ایک سو چالیسویں آیت میں ہے:’’۔۔اور یہ( عروج و زوال کے وہ) ایّامTime Periods ہیں،جنہیں ہم (یکے بعد دیگرے)
انسانوں(کے مختلف گروہوں)کے درمیان گردش دیتے رہتے ہیں(اُن کی تعمیری یا تخریبی سرگرمیوں کی مناسبت سے)۔‘‘لیکن ہم ہیں کہ اس حقیقت کو غیر شعوری یا شعوری طور پر تسلیم نہیں کرتے کہ اس وقت بھی ہم رب تعالے ٰ کے پروگرام کے مطابق اپنی ذلت کے ایّام سے گزر رہے ہیں اورہوجاتے ہیں مصروف ، اپنی ذلّت کے ناپائدار اسباب تلاس کرنے میں یا کسی دوسری قوم کی سازش کو اس کا سبب بتانے میں ہماری ’’ترقی کی راہیں‘‘ مسدود ہیں تو اس صورتحال کو اسی آیت کے تناظر میں دیکھنا چاہیے۔
mدوسری مثال یہ کہہم کبھی اعتراف نہیں کرتے کہ ہمارے مصائب ہمارے کرتوتوں کا نتیجہ ہوتے ہیں۔ہمارے کرتوتوں میں ہماری تباہی کی صلاحیت بدرجۂ اتم موجود ہوتی ہے۔ پھر بھی ہم پر مالک کا یہ احسان ہوجاتا ہے کہ ان کرتوتوں کے Destructive Potentialکو وہ مسلسل کم کرتا رہتا ہے اور ہمیں سنبھالتا رہتا ہے۔ ورنہ یہ کم عقل انسان نہ جانے کیسی کیسی خطرناک مصیبتوں میں اپنے آپ کو گرفتار کر لیتا ہے اور انجام کی پرواکیے بغیرRiskاُٹھاتا رہتا ہے۔یہ حقیقت ایک ایسی حقیقت ہے کہ خدا کا منکر بھی اس کا انکار نہیں کر سکتا،جو بیالیسویں سورۃ الشوریٰ کی تیسویں آیت میں بیان کی گئی ہے:’’اور جب بھی کوئی مصیبت تمہیں اپنی گرفت میں لے لیتی ہے،تو(سمجھ لینا چاہیے کہ )یہ(مصیبت دراصل ) تمہاری اپنی ہی دست درازیوں کا نتیجہ ہے اور( تم پر اُسکا یہ احسان ہے کہ) وہ( خود تمہارے اپنے پیدا کردہ مصائب کے اسباب میں سے) بیشتر(اسباب )کا قلع قمع( کرکے مذکورہ مصائب سے تمہیں چھٹکاراعطا) کرتا ہے۔‘‘ لیکن ہمارا حال کیا ہے، ہم اپنے تنزل کی ذمہ داری دوسروں کے سر تھوپنے سے کبھی نہیں شرماتے اور اللہ کا یہ احسان کبھی نہیں مانتے کہ اس نے نہ صرف ہمارے کرتوتوں کے حسب حال ہمیں مکمل تباہ نہیں کیا بلکہ اُن اسباب کو بھی اُس نے ختم کر دیا جو ہمارے نکمہ پن کا نتیجہ تھے۔مثلاًاُس نے سنامیوںTsunamiکو محض کچھ ساحلوں تک محدود رکھا،زلزلوں کو کچھ مختصر علاقوں کی حدود میں سمیٹ دیا(شاید اس لیے کہ ہم زندہ رہیں اور ’ ’موانع ترقی اُمت‘‘کے موضوع پر گفتگوؤں کا مزہ لیتے رہیں)۔
mتیسری مثال یہ کہ ہم اپنی اُمت کے ماضی کا اِس پہلو سے جائزہ لے کر،جوہماری ترقیوں کی شرائط میں سے ایک اہم شرط Prerequisiteہے، کبھی نہیں دیکھتے کہ ہر سال تواتر کے ساتھ آنے والے مصائب پر کبھی ہمیں توبہ کی توفیق نصیب بھی ہوئی یا نہیں، ہم نے ان سے کوئی سبق سیکھا بھی یا نہیں؟جبکہ نویں سورۃ کی ایک سو چھبیسویں آیت میں یہ تقاضہ موجود ہے:’’کیا وہ(اپنی زندگی کے اُس تجربے کو) نہیں دیکھتے کہ انہیں سال میں(کم از کم) ایک یا دو بار (کسی نہ کسی) فتنہ میں(ڈال کر) آزمایا جاتا ہے،پھر بھی وہ(اپنے رب کی طرف) نہیں پلٹتے اور نہ(اِن تجربات سے کوئی ) سبق سیکھتے ہیں(اور نہ اپنی روش پر نظر ثانی کرتے ہیں)۔‘‘ اور ہمارا حال یہ ہوتا ہے کہ ہمیں یقیناًاس آیت میں بیان کی گئی صداقت کا اعتراف ہوتا ہے لیکن کبھی سر جوڑ کر اس کے عصری انطباق کی طرف متوجہ نہیں ہوتے۔
چوتھی مثال یہ کہ اللہ کے بارے میں اکثر اللہ کے ماننے والے ہی اِس غلط فہمی کا شکار ہو جاتے ہیں کہ رب تعالے اپنے بندوں کو مصیبتوں میں مبتلا کرکے اُن کے نکلنے کے تمامOptionsبند کر دیتا ہے۔ حالانکہ اُس کے ایماندار بندے مصائب کے دائروں میں گھر کر جب اُس کی مدد کے خواہاں ہو جاتے ہیں تو اللہ خود اُن کے قلب میں ایسی تدبیریں سجھاتا ہے کہ جن کے ذریعہ وہ اپنی زوال پذیری کو ختم کر سکتے ہیں۔چوسٹھویں سورۃ کی گیارویں آیت میں یہ اہم بات موجود ہے اور ترقئ اُمّت کے سلسلے میں متفکر دانشوروں کے لیے عبرت کا سامان فراہم کرتی ہے:’’اِ ذنِ الٰہی کے بغیر کوئی مصیبت نہ وارد ہوتی ہے( نہ کچھ ضرر پہنچا سکتی ہے)اور(جب بھی) اللہ کاکوئی بندۂ مومن(مصائب کے بھنور سے اُبھرنے کے لیے اللہ کی مداخلت کا خواہاں ہوتا ہے تو) وہ، اُس کے قلب و(ذہن )کو رہنمائی (کے اشارے)
عنایت کرتا ہے (اور اُس سے یہ اعتراف کرواتا ہے کہ حقیقت میں) اللہ(ہی اُس کے مصائب کی علت سے جُڑی) ہر شے سے با خبر ہے۔‘‘ 
پانچویں مثال،انسان اپنی زندگی میں جن خدا فراموشانہ کرتوتوں کو انجام دیتا رہتاہے،اُن سے رب تعالےٰ اپنی صفتِ رحیمی و کریمی کی بنا پراکثر درگزرہی کامعاملہ کرتا رہتاہے۔سچ پوچھا جائے تواس احسان کا کبھی ہم بدلہ چکا ہی نہیں سکتے۔ہم نے اگر ترقی کی راہیں گم کردی ہیں تو اخلاقاًہمیں کوئی شکایت اپنے رب سے نہیں ہونی چاہیے۔پینتیسویں سورۃ کی پینتالیسویں آیت میں ارشادفرمایا گیا:’’اور اگر اللہ انسانوں کی سرمستیوں کے سبب اُن کا مواخذہ کرنے لگے توپھرسطح زمین پرکوئی(ذی روح کبھی) متحرک دکھائی نہیں دے گا۔! دراصل وہ اُن کی رسی کو دراز کیے جاتا ہے، ایک مقررہ مدت تک کے لیے۔۔‘‘ ہمارا حال تو یہ ہونا چاہیے کہ اُس کی بارگاہ میں ہم جھک جائیں۔ہمیں گڑگڑانا چاہیے، بالکل اُسی طرح جس طرح حضرت زکریا علیہ السلام کی دُعا میں یہ کیفیت نظر آتی ہے اور حضرت زکریا علیہ السلام کی یہ ایمان پرور دُعااُنیسویں سورۃ کی چوتھی آیت میں رکارڈ پر موجود ہے: ’’(حضرت زکریا علیہ السلام نے گڑگڑاتے ہوئے کہا)اے میرے پالنہار !(گو کہ) میری ہڈیوں پرضعف طاری ہے اورمیرے سر کے سفید بالوں سے (بوڑھاپے کی انتہاء کی وجہ سے) شعلہ مار رہے ہیں،(پھر بھی)میرے مولا!دعاؤں سے (اورتیری بارگاہ میں گڑگڑاتے رہنے سے میں کبھی) تھکوں گا نہیں۔‘‘ بظاہر اپنی مراد کا دامن بھرتانظرنہیںآتا،پھر بھی اپنے وقت کا یہ عظیم پیغمبراپنے مالک کے در سے ہٹتا نہیں۔بلکہ کے گڑگڑاتے رہنے کو اپنی شان سمجھتا ہے۔یا یہ کیفیت حضرت موسیٰ علیہ السلام کے اُس عزم و حوصلے میں بھی ہمیں نظر آتی ہے جس کی بنیاد ’’ توکل علی اللہ ‘‘ کے سوا کچھ نہ تھی۔ایک جلیل القدر پیغمبراپنی اجتماعیت کے ساتھ مصائب میں گھر جاتا ہے،لیکن دامنِ توکل علی اللہ کو نہیں چھوڑتا۔چھبیسویں سورۃ کی اکسٹھویں اور باسٹھویں آیتوں میں بیان فرما یا:’’(حضرت موسیٰ علیہ السلام اپنے ساتھیوں کے ہمراہ نکلے، کہیں کوئی راہ نظر نہیں آتی تھی کہ دفعتاً)دونوں فریقین نے ایک دوسرے کو دیکھ لیا(سامنے بحرِ مطلاطم اورتعقب میں فرعون کا لشکر، اس ہیبت ناک منظر کو دیکھ کر)موسیٰ علیہ السلام کے ساتھی چیخ اُٹھے: موسیٰ ؑ !ہم تو پھنس گیے (لگتا ہے ہم بُری طرحTrapہوگیے ہیں!)،(موسیٰ علیہ السلام نے پُراعتماد لہجے میں) ڈھارس بندھائی کہ( ہر گز نہیں۔تمہاراپھنس جانا ) ہر گز ممکن نہیں۔ بالیقین میرا رب میرے ساتھ ہے( اور مجھے یقین ہے)کہ وہ( اس بحران سے نکلنے کی کوئی نہ کوئی)راہ Way out ضرور سجھائے گا۔‘‘ 
چھٹی مثال یہ کہ دنیاوی مصائب کو بے وقعت کرنے کے لیے ایک ہمہ گیر معنی ٰ کے حامل ایک نہایت ہی کارگر Statementسے ہمیں نوازا گیا تھا:33۔ہمیں بشارت دی گئی تھی کہ مصائب کے درمیان ان الفاظ کو اپنی زبانوں پر جاری کرلیں۔دوسری سورۃ کی ایک سو پچپنویں اور ایک سو چھپنویں آیت میں صاف صاف بیان کیا گیا ہے کہ:’’۔۔اور(اِن)خوگرانِ صبر(و ثبات) کو پیغام بشارت دیجیے (تاکہ) ان حضرات کو کوئی مصیبت اپنی گرفت میں لے لے تو وہ پکار اُٹھیں:’’اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّآ اِلَیْہِ رٰجِعُوْنَ۔‘‘ لیکن دیکھیے کہ ! ہم نے اس مبارک ذکر کو کہاں اور کس قدر محدود کر دیا ہے کہ جب کوئی موت کی آغوش میں چلا جاتا ہے تو اس پر ان الفاظ کو ادا کرنے کی صرف ایک رسم بنا لی ہے اور بس۔ہو نا تو یہ چاہیے تھا کہ صرف اور صرف33کے موضوع پر سمینار منعقد کیے جاتے، کانفرنسیں ہوتیں۔ ’’خدائے واحد ہی کی طرف سے آنے اور خدا ہی کی طرف پلٹنے‘‘ کے موضوع پر مقالے مرتب ہوتے اور ایک لائحہ عمل مرتب کرتے ہوئے اس اُمت کی ترقی اور عروج کی راہیں تلاش کی جاتیں، تاکہ اِس کے ایک ایک فرد کی نگاہوں میں ترقی یا تنزل کی کوئی وقعت باقی نہ رہ جائے اور وہ حقیقی فلسفۂ عروج سے آگاہ ہو جائے۔لیکن افسوس کہ اس ’ذکر‘ کی رسماً ادائیگی ہوتی رہی اور سر سے مصائب نہیں ٹلے نہ تنزل کی کیفیت ختم ہوئی ۔ 
بے شمار مثالوں میں سے ایک اور مثال پر ہم اکتفا کریں گے۔ ’اللہ پر توکل‘ کو ایک زمینی حقیقت بنانے کے لیے ایک عظیم اور مشعل بردارآیت ہمارے پاس موجود تھی جس کی روشنی میں تنزل کی راہوں سے باہر نکلنے کا ایک صاف اور سیدھا راستہ میسر آ سکتا تھا۔جس پر چل کر ترقی کی راہوں میں زبردست کامیاب ہونے کی پیغمبرانہ مثالیں بھی موجود ہیں۔لیکن ان کی طرف ہماری توجہ نہیں جاتی اور ہم ٹھوکروں پر ٹھوکریں کھانا پسند کرتے ہیں۔نویں سورۃ کی اکیاونویں آیت کے الفاظ ہیں:’’(نبیئ محترم )آپ ؐ(یہ حقیقت واضح) فرمادیں کہ ہم پرکسی قسم کی مصیبت وارد ہو ہی نہیں سکتی (نہ ضرر پہنچا سکتی ہے)بجزاُس مصیبت کے ، جسے اللہ نے ہمارے لیے مقدر فرما دیا ہو،(نیز اپنے کیفیتِ دل کا یہ کہتے ہوئے اظہار فرما دیجیے گا کہ:) وہی ہمارا مولا ہے(جس پرتوکل ہمیں احساسِ تحفظ عطا کرتا ہے) اور(ظاہر ہے!)صاحبینِ ایمان کو(مصائب کے بیچ) تو اللہ ہی ( کی ذات) پر توکّل کرنا چاہیے۔‘‘ 
ہمارا طرز عمل کس قدر مختلف ہے اور ہم ہیں بظاہر ترقئ اُمت کی جستجو کرنے والے۔! ان آیات کا مطالعہ کرنے وا لوں کے سینوں میں اگر دل ہیں اور سروں میں دماغ ہیں تو شاید ہی کوئی دل اور شاید ہی کوئی دماغ ایسا بچے گا جو پگھلے بغیر یا اثر قبول کیے بغیر رہ جائے۔ورنہ بقول شاعر یہ کہے بغیر چارہ نہیں ہوگا کہ ؂
سروں میں دل ہیں تمہارے ، دماغ سینوں میں میں سوچتا ہوں تمہیں دل کی بات کیسے کہوں (عزیزؔ بلگامی)
اِن کے مطالعہ کے بعد ہمیں دیگر نتائج کے ساتھ یہ نتیجہ اخذ کرنے میں کسی قسم کی مشکل نہیں پیش آئے گی کہ فی الواقع ’’اُمت کی ترقی‘‘ کی راہ میں ’’خود اُمت‘‘ ہی اپنے آپ کو’’ موانعِ ترقی‘‘ کی فہرست میں شامل کر چکی ہے ۔
ہمارا یہ احساس ہے کہ ہم اگر روایتی موانع کا ذکر چھیڑتے ہیں تو گزری ہوئی سطور کے وقار کو ہم نقصان پہنچا سکتے ہیں۔ تاہم ہم سمجھتے ہیں کہ اُس محاذ کا ذکر ضرور کریں جس کے سلسلے میں کوتاہیاں کی ایک قطار نظر آتی ہے۔اور بد قسمتی یہ ہے کہ اِن کوتاہیوں کی نشان دہی کے باوجود کوئی اُس’’ طرح ‘‘سے ہٹنے پر راضی نہیں ہوتا جو صدیوں سے پڑ چکی ہے۔انگریزی کا ایک مقولہ ہے: Old habits die hard۔دنیا کے رنگ ڈھنگ اگر کسی کو نظر نہیں آتے اور قیامت کی چال چل رہے زمانے کی طرف کسی کی نگاہ نہ ہو تو کس میں دم ہے کہ فرسودگی کے ماروں کا کچھ بگاڑ سکیں۔ہاں کچھ عقل کے بینا افراد کچھ کرنا چاہیں تو ہمارے پاس کہنے اور کرنے کو بہت کچھ ہے۔
وہ محاذہیں ہمارے وہ ادارے جو علم کے علمبردار ہیں، جن میں ایک طرف اسکول، ہائی اِسکول،کالج اور یونیورسٹیاں ہیں اور دوسری طرف ہمارے مدارس، خانقاہیں اور رُشد و ارادت کے سلسلے ہیں جن میں ہماری خواتین کو علم کی دولت سے مالا مال کرنا بھی شامل ہے۔ اس محاذ پر اُمت کی ہٹ دھرمیاں، ترقی کی راہ میں بڑی مستحکم موانع بن کر کھڑی ہوگئی ہیں۔ اس سلسلے میں ایک نقطۂ نظر پیش ہے۔
چونکہ اس محاذ کا تعلق قلم سے ہے اس لیے لامحالہ ہماری توجہ قُرآن مجید کی متعلقہ آیات کی طرف مبذول ہو جاتی ہے جن میں قلم کے حوالے سے ہر اُس گروہِ انسانی کی ترقی کے راز پنہاں ہیں، جو ان سے مستفید ہونا چاہتے ہیں۔یہ وہ آیات ہیں جن کے ذریعہ ایک اہم شے کی طرف خود مالک کائنات نے انسانوں کی توجہ مبذول کرائی تھی۔یعنی زندگی کے مختلف محاذوں پر برپا ہر نوع کے Chaos میں انسانوں کو قلم کی طرف متوجہ کیا تھاتاکہ وہ اس کی حقیقت کا ادراک کرتے ہوئے دنیا و دین کی ترقی سے سرفرازہو جائیں۔آج بھی یہی نعمت اُمت کے موانع ترقی میں سے کسی مانع کوباقی نہ رہنے دے گی۔پھرمنشائے الٰہی کی تکمیل میں ذخیرۂ حدیث کا حصہ بننے والی حضرت محمد مصطفےٰ صلی اللہ علیہ و سلم کی مشہور احادیث پکار پکار کر کہتی ہیں کہ دنیا و دین کی ترقی چاہتے ہوتو ان پر عمل کیا جائے۔ ہم بڑی احساسِ ذمہ داری کے ساتھ اِنہیں پیش کر رہے ہیں۔اِس لیے کہ حالیہ دنوں میں اِن آیات اور احادیث میں سے چند کابڑی غیر ذمہ داری کے ساتھ استعمال ہوا ہے۔ اپنے لیے ہر نوع کے علم کی گنجائش اِن ہی آیات سے نکالنے کی کوشش کی گئی ہے اور علم کے نام پر جو جی میں آیا پڑھا اور پڑھایا گیا ہے۔آیات اور ان کی ترجمانی ذیل میں پیش کی جا رہی ہے۔ سورۂ علق کی آیات سے کون واقف نہیں(قوسین میں آیات کے مطالب و معانی کو وسعت دینے کی کوشش کی گئی ہے):
اللہ الرحمٰن الرحیم کا نام لے کر علق کی آیتیں پیش ہیں:’’پڑھیے !آپ ؐ اپنے رب کے نام سے جس نے(ہر شے کی ) تخلیق کی۔انسان کی تخلیق( اُس نے) علق سے کی، آپ بس پڑھتے جائیں اورآپ کا رب ( وہی ربِّ) اکرم ہے،جس نے (انسانوں کو) قلم کے ذریعہ علم کی دولت سے سرفراز کیا۔ایسے علم سے انسان کو نوازاجس کی اُسے خبر تک نہیں تھی۔(تاہم)ہر گز(درست) نہیں(ہوتا کبھی انسان کا طرز عمل)۔بلا شبہ اِنسان ضرور سرکشی(کا طرز عمل اختیار ) کرجا تا ہے(اس لیے) کہ وہ(بظاہر یہی) دیکھتا ہے کہ (کسی جواب دہی کے احساس سے وہ) مستغنی ہو گیا ہے۔ بے شک آپؐ کے رب ہی کی طرف(ہر ذی روح کو) لوٹ جانا ہے( زندگی کا حساب دینے کے لیے)۔‘‘
یہ وہ آیات ہیں جنہیں ہمارے مدارس، ہمارے کالجس اور ہمارے یونیورسٹیوں کامنشورConstitutionبننا چاہیے۔ان آیات کا خلاصہ کچھ اس طرح ہو سکتا ہے: ’’پڑھنا ہے اور بس پڑھتے رہنا ہے اور رب کے نام سے،جو ہر شے کا خالق ہے ، پڑھتے رہنا ہے اور بار بار پڑھنا ہے۔ وہ خالق ہے تو مالک بھی ہے اور بے خبر انسان کو اپنی ملکیت کی ہر شے کا مکملIntroductionدینا چاہتا ہے۔ ایک ایسے اِنسان کو جو اپنی اصل میں بے حقیقت ہے اورجسے ’ علق ‘ سے پیدا کیا گیا ہے، یعنی وہ شے یا وہ Process ، جس میں انسانی Genesکا ایک گندہ خلیہ Cell صرف نو ماہ کے عرصے میں ایک مکمل انسان کی خصوصیات لے کر عالمِ وجود میں آتا ہے۔ چونکہ رب تعالےٰ عزت و وقار والا اور عظمت و اکرام والا ہے اور وہی منبعِ علم بھی ہے ، اس لیے اسی سے فیضِ علم حاصل کرنا بے خبر اور بے حیثیت انسانوں کی عزت و وقار، عظمت و اکرام کی ضمانت ہے اور اس ضمانت کوMaterialiseکرنے کے لیے ہاتھ میں قلم کا ہونا ضروری ہے جو ترقی کرتے کرتے عصر حاضر میںLaptopکے Key Board کی منزل تک پہنچ گیا ہے۔ 
انسان اگرچہ اپنی طبعیت میں پہلے ہی سے سرکش واقع ہوا ہے، تاہم اگر وہ اپنے رب سے کسب علم کرتا ہے تواپنے رب کی طرف اسے ہدایت ملنے لگتی ہے اور وہ اپنی ترقی کے موانع میں سے ایک ایک مانع کو دور کرلیتا ہے، ورنہ سرکشی کی اُس کی روش میں مزید اضافہ ہ ہوتا چلا جاتا ہے اور اگر اپنے رب کے نام سے یعنی اُس کی تعلیمات کے مطابق کسب علم نہیں کرتا تو علم والا ہو کر بھی سرکش بن سکتا ہے اس لیے کہ وہ خود کو ربّانی علم سے بے نیاز اور جواب دہی کے احساس سے مستغنی کر لیتا ہے اور دنیا میں خدا فراموشانہ آزاد ی کا رسیا بن کر بھول جاتا ہے کہ اُسے لوٹ کر اپنے رب کے پاس جانا ہے اور اپنی زندگی کا حساب دینا ہے۔‘‘
رسالت مآب صلی اللہ علیہ و سلم نے اپنی تیئس سالہ دعوتی زندگی میں انسانوں کوقرآنِ حکیم کی آیتیں ہی سنائیں ، اور ان کی عملی تعبیر کا ایک مستحکم رکارڈ احادیث کی شکل میں اُمت کو پیش کیا۔اُنہوں نے سورۂ علق جیسی سورتوں اور آیتوں کی بنیاد پر جو اُسوہ چھوڑ اہے ، وہ آج بھی ہماری ترقی میں حائل سارے موانع کو ہٹا سکتا ہے ، جوقلم سے دست برداری کے نتیجے میں اُبھر آئے ہیں۔ہم جانتے ہیں کہ ہجرت کے بعد شہر مدینہ میں آپ کی آمد کے صرف ۱۴ مہینوں میںآپ صلی اللہ علیہ و سلم نے ترسیلِ پیغامِ وحی کی اپنی مصروفیات کو جاری رکھتے ہوئے ،ایک ایسی اسکول کی بنا ڈالنے کی ضرورت کو محسوس کیا جس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو غیر مسلم ٹیچرس کا تقرّر کرنے میں تک تامل نہیں ہوا۔اور یہ ٹیچر حضرات وہ لوگ تھے جو جنگ بد ر میں آپ سے لڑنے کے لیے آئے تھے اور قیدی بنا لیے گیے تھے۔ اس واقعہ میں تعلیم اور علم کی ضرورت اوراس کے مفید ہونے کے بارے میں جو پیغام پوشیدہ ہے،اِسے سمجھنا کچھ مشکل نہیں۔ 
اسی طرح علم کے حصول کے لیے دور دراز مقامات کے ذکر کے ساتھ سفر چین کے ذکر والی وہ حدیث بھی، جس کے ضعف کے محدثین میں بڑے چرچے ہیں،اپنے ضعف کے حق میں تمام تر دلائل کے باجود استدلال کا ایک پہلو ایسا بھی رکھتی ہے، جس میں غور و فکر کا سامان موجود ہے:یہ ایک مشہور روایت ہے ، جسے امام
ابو الفرج ابن الجوزیؒ نے حسن بن عطیہ عن ابی عاتکہ عن انسؓ کے طریق سے ذکر فرمایا ہے:’’اطلبو االعلم و لو بالصین، فان طلب العلم فریضۃ علی کل مسلم‘‘۔’’علم حاصل کرو خواہ چین میں (کیوں نہ حاصل) ہو، کیوں کہ علم حاصل کرنا تمام مسلمانوں پر فرض ہے۔‘‘ ۱؂
اگر فی الواقع حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے قول مبارک میں ’چین‘ کا ذکر فرمایا ہے تو اس میں کسی قباحت کے در آنے کا کوئی احتمال نظر نہیںآتا،یہ ایسے ہی ہے
جیسے فی زمانہ ہم اپنے بچوں کو علم حاصل کرنے کے لیے یوروپ ، امریکہ یا آسٹریلیا بھیجنے میں کوئی قباحت محسوس نہیں کرتے۔اس حدیث کے ضعف کے معاملہ کو نظر انداز کرتے ہوئے اس کی صحیح توجیہ کے ذریعہ پیغامِ علم اس سے کشید کر لیا جائے۔ اس لیے کہ یہاں ملکِ چین کا ذکر اپنے آپ میں بڑی اہمیت کا حامل ہے۔اس لیے کہ اُس زمانے میں یہ ایک ایسا ملک تھا جس کی پیپر کی صنعت پراور ریشم کے کپڑے کی انڈسٹریPaper and Silk Industry پر اجارہ داری تھی۔اس کا مطلب یہ ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی توجہTechnical Know Howکے حصول پر برابر ہوا کرتی تھی۔ ورنہ اُس زمانے میں ایک چین ہی دور دراز کا ملک نہیں تھا۔ اس کا بطورِ خاص ذکر ضرور کوئی معنی رکھتاہے۔اگر ہم اس بظاہر ضعیف حدیث سے Technicalتعلیم کا مضبوط پیغام لیتے ہیں تواس کے مژدۂ جاں فزا ہونے میں کوئی شبہ باقی نہیں رہے گا۔نبی صلی اللہ علیہ و سلم چالاک چائنی لوگوں کی اُن کوششوں سے بھی واقف تھے کہ چین کی دیوارِ عظیم اُٹھا کر وہ اپنے خزانوں اور اپنے علم کے میدانوں کی ترقیوں کو حفاظت کے نام پر چھپانا چاہتے تھے اور پیغمبر ؐ اپنے صحابہ پر زور دیتے تھے کہ جاؤ۔ !اور علم کے حصول کے لیے کسی بھی دیوار کو عبور کرلو۔اس سے ہم کو یہ سبق لینا چاہیے کہ کسی شے کی اہمیت، قدر و قیمت اور قابلِ فیض ہونے کی دلیل یہ ہوتی ہے کہ اسے حاصل کرنے کے لیے دشمن خود چل کر اِس کے پاس آئے۔آج جب امریکہ اور یورپ کو گالیاں دینے والے دانشور اپنے بچوں کی اعلیٰ تعلیم کے لیے امریکن امبیسیزEmbassies کے چکر کاٹتے ہیں تو کسی کو تعجب نہیں ہو نا چاہیے اور اِس پر بھی کسی کو تعجب نہیں ہو نا چاہیے کہ آج ملک گیر ہی نہیں عالم گیر سطح پر ہمارے(مسلمانوں کے) تعلیمی اداروں میںیا مدارسِ اِسلامیہ میں داخلے کی کسی غیر مسلم میں کوئی رغبت نہیں پائی جاتی، نہ وہ ہمارے اداروں میں داخلہ لے کر اپنی زندگی کو داؤ پر لگانا چاہتا ہے۔یہ ہمارے لیے عبرت کا مقام ہے۔
مختصر یہ کہ ہماری ترقی کی راہ کا سب سے بڑا روڑہ یہ ہے کہ ہمارے ہاتھوں سے قلم چھوٹ گیا ہے،حالانکہ سورہ علق کے ذریعہ اللہ تعالےٰ چودہ سو سال سے ہمیں بار بار یاد دہانی کراتا رہا ہے۔بعض اہلِ علم بڑے فخر سے کہتے ہیں کہ ہمیں لکھنے میں کوئی دلچسپی نہیں یا فرصت نہیں۔اس قبیل کے لوگوں میں پتہ نہیں کتنے علماء ، کتنے حکماء، کتنے دانشور شامل ہیں، جن کی زبانیں چلتی ہیں اور جن کے قلم خاموش ہیں۔ پھر یہ مرض بھی ہمیں لگا ہے کہ ہم وہ چیز پڑھنا نہیں چاہتے جس کو نہ صرف پڑھنے کے لیے، بلکہ بار بار پڑھنے کے لیے کہا گیا ہے۔قرآن کا مطلب ہی بار بار پڑھی جانے والی کتاب ہے۔یہ کہ ہم وہ علم حاصل کرنا نہیں چاہتے جو قلم کے ذریعہ حاصل ہوتا ہے۔سیاہی والا قلم ہاتھ میں ہو تو ہو، Key Boardوالا قلم ابھی تک ہماری انگلیوں کی گرفت میں نہیں ہے۔ہم ترقیئ امت کو خالصتاً Materialisticنقطۂ نظر سے دیکھنا چاہتے ہیں، حالانکہ Materialisticترقی ہماری اصل دینی ترقی کا Byproduct ہے۔ہمارے دانشور اگر Pre-concievedنظریات کے تحت قرآن کوApproachکرنے کے بجائے،قرآنی فکر و نظر کو اپنی سوچ کی بنیاد بنانے لگیں گے تو اُمت کی ترقی کے مختلف مفاہیم پرغور فکر کا سلسلہ بند ہو جائے گا، اور لازماً اس سلسلے میں وہ Concesusاُبھرے گا،جو با لآخر موانع ترقیِاُمت کے لیے سمِّ قاتل ثابت ہوگا۔
۱؂’’موضوعات‘‘ الامام ابن الجوزیؒ ، کتاب العلم ج ایک ص ۲۱۵ مکتبہ السلفیہ بالمدینہ المنورہ ۱۳۸۶ھ ؁، حوالہ تحقیقات اسلامی، جولائی اگست ستمبر۱۹۹۴ء ؁ ، مضمون’’طلبِ علم سے متعلق ایک روایت کی تحقیق‘‘ ازمولانا غازی عزیز صاحب)۔(عزیز بلگامی : ’’۔۔۔یہ مضمون ۱۶ صفحات پر مشتمل ہے اور محولہ حدیث کو ضعیف ثابت کرنے کے لیے وقف ہے۔مولانا غازی عزیز صاحب کی تحقیقی جستجو اور تنقیدی نظر کو سلام کرتے ہوئے ہم ادباً کہیں گے کہ علم کی وقعت کو اُجاگر کرنے والی احادیث کو بے وقعت کر نا تحقیق و تنقید کی’’ قابلِ قدر‘‘ خدمت ہو تو ہو، ایک زوال پذیر اورمحرومِ علم اُمت کی کوئی خوشگوار خدمت قرار نہیں دی جا سکتی۔ہمیں معلوم ہونا چاہیے کہ ’’ ترقئ اُمت‘‘ کی بنیاد ہی علم ہے جیسا کہ سورۃ نمبر۴۴ کی آیت ۳۲ میں اِرشاد فرمایا گیا ہے ۔۔۔‘‘ :

مضمون نگار کی رائے سے ادارہ کا متفق ہونا ضروری نہیں۔ 
05؍ جولائی 2018
ادارہ فکروخبر بھٹکل 

 

Prayer Timings

Fajr فجر
Dhuhr الظهر
Asr عصر
Maghrib مغرب
Isha عشا