ممبئی ہائی کورٹ نے حج ہاؤس کے امام کی باعزت رہائی کے خلاف داخل اپیل کو خارج کیا

share with us

جمعیۃ علماء کی بروقت قانونی امداد سے دیگر تین ملزمین کو بھی راحت ملی

ممبئی :12؍جون2018(فکروخبر/ذرائع) مہاراشٹر انسداد دہشت گرد دستہ ATS کو آج اس وقت زبردست ہزیمت اٹھانی پڑی جب ممبئی ہائی کورٹ نے دہشت گردی کے الزامات سے باعزت بری کیئے گئے ممبئی میں واقع حج ہاؤس کے امام کے خلاف اپیل کو مستردکردیا اور اپنے فیصلہ میں کہا کہ نچلی عدالت نے ثبو ت و شواہد کی روشنی میں درست فیصلہ صادر کیا تھا اور ہائی کورٹ کوریاستی حکومت کی اپیل میں ایسی کوئی بھی بات نظر نہیں�آئی جس سے نچلی عدالت کے فیصلہ کو تبدیل کرسکیں۔یہ اطلاع آج یہاں ممبئی میں گرفتاری سے قبل حج ہاؤس کی مسجد میں امامت کے فرائض انجام دینے والے غلام حسین یحیٰ کو قانونی امداد فراہم کرنے والی تنظیم جمعیۃ علماء مہاراشٹر (ارشد مدنی)قانونی امداد کمیٹی کے سربراہ گلزار اعظمی نے دی ۔
گلزار اعظمی نے بتایا کہ ممبئی ہائی کورٹ کی دو رکنی بینچ کے جسٹس گوئی اور جسٹس کوتوال نے ریاستی حکومت کی جانب سے غلام یحیٰ کے خلاف داخل اپیل 122/2011 کو جمعیۃ علماء کے وکیل متین شیخ کے دلائل کی سماعت کے بعد خارج کردیا ۔
ایڈوکیٹ متین شیخ نے عدالت کو بتایا کہ غلام یحیٰ کو ۱۴؍ جون ۲۰۰۶ء کو گرفتار کیا تھا اور انہیں مقدمہ سے باعزت بری ہونے کے بعد ہی جیل سے رہائی نصیب ہوئی تھی نیز خصوصی عدالت نے استغاثہ کے گواہوں کے بیانات کے بعد اپنا فیصلہ ملزم کے حق میں سنایا تھا لہذا ریاستی حکومت کی اپیل کو عدالت کو خارج کردینا چاہئے۔
دو رکنی بینچ نے اپنے فیصلہ میں نا صرف امام غلام حسین یحیٰ کو راحت دی بلکہ دیگر تین ملزمین کی سزاؤں میں اضافہ کی ریاستی حکومت کی درخواست کو خارج کردیا جس سے انسداد دہشت گرد دستہ کو منہ کی کھانی پڑی کیونکہ نچلی عدالت کا فیصلہ آنے کے بعدہی ریاستی حکومت نے ملزمین ارشد حسین غلام احمد، خورشید احمد عبدالغنی لون، محمد رمضان حاجی عبدالوہاب پر شکنجہ کسنا شروع کردیا تھا ، اب جبکہ ہائی کورٹ نے اپنا فیصلہ سنا دیا ملزمین نے راحت کی سانس لی۔
آج کی عدالتی کارروائی کے بعد چار سال تین ماہ جیل کی سلاخوں کی صعوبتیں برداشت کرنے والے غلام حسین یحیٰ نے جمعیۃ علماء ہند کے صدر مولانا سیدر ارشد مدنی ، گلزار اعظمی سمیت وکلاء کا شکریہ ادا کیا کہ انہیں بروقت قانونی امداد پہنچائی گئی جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ آج ہائی کورٹ نے بھی اس بات کی تصدیق کردی کہ اے ٹی ایس نے ان پر دہشت گردی اور دہشت گردوں کو پناہ دینے کا جھوٹاالزام عائد کیا تھا ۔
غلام یحیٰ نے کہا کہ حالانکہ انہیں ہائی کورٹ سے انصاف مل گیا لیکن جیل میں گذارے گئے ان کے ایام کو ن واپس کرے گا؟ کیا ریاستی حکومت انہیں جھوٹے مقدمہ میں پھنسانے والے پولس افسران کے خلاف کاررائی کریگی؟
واضح رہے کہ ۲۰۰۶ ء میں مہاراشٹر اے ٹی ایس نے سینٹرل حج کمیٹی آف انڈیا (حج ہاؤس) کی مسجد میں ا مامت کے فرائض انجام دینے والے غلام یحیٰ کو اس الزامات کے تحت گرفتار کیا تھا کہ انہوں نے تین کشمیری دہشت گردوں کو مبینہ پنا دی تھی اور وہ ان کے مسلسل رابطہ میں تھے جو ممبئی میں دہشت گردانہ کارروائیا انجام دینے کی غرض سے آئے تھے۔
مقدمہ کی سماعت کے بعد نچلی عدالت نے ایک جانب جہاں غلام یحیٰ کو مقدمہ سے باعزت بری کردیا تھا وہیں تین کشمیریوں کوغیر قانونی طور پر ہتھیار رکھنے کے الزامات کے تحت سات سال قید بامشقت کی سزاء سنائی تھی۔
دوران کارروائی عدالت میں جمعیۃ علماء کی جانب سے ایڈوکیٹ افروز صدیقی، ایڈوکیٹ شریف شیخ، ایڈوکیٹ انصار تنبولی، ایڈوکیٹ شاہد ندیم، ایڈوکیٹ ساجد قریشی، رازق شیخ ،ایڈوکیٹ ارشد سکسیس، ایڈوکیٹ ابھیشک پانڈے و دیگر بھی موجود تھے۔
جمعیۃ علماء مہاراشٹر

Prayer Timings

Fajr فجر
Dhuhr الظهر
Asr عصر
Maghrib مغرب
Isha عشا