دہلی: ایل جی کے گھر پر دہلی سی ایم کیجروال کا دھرنا

share with us

نئی دہلی:12؍جون2018(فکروخبر/ذرائع)دہلی کے وزیراعلی اروند کیجریوال نےنئی دہلی اپنے تین کابینی وزراء کے ساتھ دہلی کے لیفٹننٹ گورنر کے گیسٹ ہاؤس میں شب بسری کی۔انہوں نے احتجاج کرتے ہوئے ایل جی کے گھر شب بسری کی ہے۔دہلی حکومت اور وہاں کے لیفٹننٹ گورنر (ایل جی) انل بیجل کے درمیان ایک مرتبہ پھر ٹکراؤ کے حالات ہیں۔ وزیر اعلیٰ اروند کیجریوال اپنے مطالبات کو منوانے کے لیے سوموار کی شام سے احتجاج کرتے ہوئے ایل جی کے گھر پر ڈیرہ ڈالے ہوئے ہیں۔کیجریوال اور ان کے ہمراہ نائب وزیر اعلیٰ منیش سسودیا، وزیر گوپال رائے اور ستیندر جین اپنے مطالبات منوانے کے لیے احتجاج کرتے ہوئے پوری رات ایل جی کے گھر گزار دی۔کیجریوال دہلی حکومت کی ڈور ٹو ڈور (دروازے سے دروزے تک) راشن اسکیم کو منظوری دینے اور گزشتہ چار ماہ سے حکومت کے کام کاج کا بائیکاٹ  کرنے والے افسران پر کاروائی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔کیجریوال کا الزام ہے کہ ایل جی اس معاملے میں ٹال مٹول کا رویہ اپنا رہے ہیں۔ انہوں نے ٹویٹر پر لکھا کہ ان کے پاس سی بی آئی، پولیس، ای ڈی، آئی ٹی، آئی اے ایس اور  اے سی بی سب کچھ ہے۔ پھر وہ اتنا گھبرائے ہوئے  کیوں ہیں؟ ہمارے ساتھ سچ اور خود اعتمادی ہے اس لیے چہروں پر سکون اور مسکان ہے۔ سچ میں بڑی طاقت ہے۔وزیر اعلیٰ  کیجریوال کے بنگلے کے سامنے اسٹیج تیار ہو رہا ہے۔ اب یہیں احتجاج ہوگا اور کارکنان ایل جی ہاؤس نہیں آئیں گے۔منیش سسودیا نے اپنے ٹویٹ میں کہا کہ ہمارے اسکولوں میں وائٹ واش کا کام گرمی کی چھٹیوں میں ہونا تھا۔ اس بار آپ کے آئی اے ایس افسران کی ہڑتال کے سبب کام ہی شروع نہیں ہوا۔ بڑی مشکل سے سرکاری اسکولوں کی چمک لوٹنی شروع ہوئی تھی۔ یہ کام بند کروا کر آپ کہہ رہے ہیں، آئی اے ایس کام تو کر رہے ہیں۔

دہلی کے وزیر اعلیٰ نے صبح ٹویٹ کرتے ہوئے لکھا کہ میرے پیارے دہلی کے باشندگان، صبح بخیر! احتجاج جاری ہے۔

دہلی کے وزیر ستیندر جین نے ٹویٹ کیا،' صبح بخیر ساتھیو!، دہلی کی عوام کو ان کا حق دلوانے کے لیے ہماری جد و جہد جاری ہے۔ انقلاب زندہ باد

احتجاج میں شامل منیش سسودیا نے منگل کے روز صبح صبح ایل جی کو ٹویٹ کیا۔ اس ٹویٹ میں لکھا کہ دہلی کے وزیر اعلیٰ اور 3 وزراء شام سے اب تک آپ کے ویٹنگ روم میں آپ کا انتظار کر رہے ہیں۔ ہمیں امید ہے کہ آج آپ اپنے مصروف اوقات سے کچھ وقت ہمارے لیے نکال سکیں گے۔

 

1. افسران خواہ مخواہ کے اس ہڑتال کو ختم کریں۔
2. کام روکنے والے افسران پر کاروائی ہو۔
3. راشن کی ڈور ٹو ڈور اسکیم کو منظوری دی جائے۔
ادھر شوگر کے مریض وزیر اعلیٰ کو اس دوران اِنسولِن لینا پڑا۔ انہوں نے گھر کا کھانہ کھایا۔عام آدمی پارٹی کے کئی ارکان اسمبلی نے بھی گورنر ہاؤس کے باہر ڈیرہ ڈال دیا ہے۔ پولیس نے بیری کیڈ لگا دیے ہیں۔

کیجریوال نے لیفٹیننٹ گورنر (ایل جی) کے ویٹنگ روم سے شام 6 بجے ٹویٹ کیا کہ انل بیجل کو ایک خط سونپا گیا لیکن انہوں نے کاروائی کرنے سے انکار کر دیا۔ 
انہوں نے ٹویٹ میں لکھا،' انھیں درخواست دی، ایل جی نے کاروائی کرنے سے انکار کر دیا۔ کاروائی کرنا ایل جی کی آئینی ذمہ داری ہے۔ کوئی آپشن نہ بچنے پر ہم نے نرمی سے ایل جی سے کہا ہے کہ جب تک وہ سبھی موضوعات پر کاروائی نہیں کریں گے، تب تک ہم یہاں سے نہیں جائیں گے'۔

 وہیں ایل جی انل بیجل کا کہنا ہے کہ کیجریوال نے دھمکی بھرے لہجہ میں افسران کی ہڑتال ختم کروانے کا مطالبہ کیا۔ افسران میں خوف اور بے یقینی کا ماحول ہے، جنھیں وہی دور کر سکتے ہیں۔لیکن ان سے مثبت مذاکرات کی کوشش تک نہ ہوئی۔ ڈور ٹو ڈور راشن ڈیلیوری کی فائل 3 ماہ سے ریاستی وزیر عمران حسین کے پاس ہے۔ اس کے لیے مرکز کی منظوری ضروری ہے۔
قبل ازیں وزیر اعلیٰ کیجریوال نے سوموار کو اسمبلی میں کہا کہ اگر بی جے پی دہلی کو پوری طرح سے آزاد ریاست کا درجہ دے دے تو وہ 2019 میں بی جے پی کے لیے تشہیر کریں گے۔ دہلی کا ایک ایک ووٹ بی جے پی کو حاصل ہوگا، لیکن اس کے لیے بی جے پی کو ان کی شرط تسلیم کرنی ہوگی۔

 

Prayer Timings

Fajr فجر
Dhuhr الظهر
Asr عصر
Maghrib مغرب
Isha عشا