English   /   Kannada   /   Nawayathi

ایک بار پھررام مندر کا راگ

share with us

حال ہی میں رام مندر تحریک کے متحرک وفعال رہنما اور وشو ہندو پریشد (وی ایچ پی) کے سینئر لیڈر رہے اشوک سنگھل کوخراج عقیدت پیش کرنے کے لئے منعقد ایک پروگرام میں آر ایس ایس کے سربراہ موہن بھاگوت نے کہا کہ اس بارے میں ہندو نظریاتی رہنما کے خواب کو پورا کرنے کے لئے ’سنجیدہ کوشش‘ کرنی چاہئے۔(گویا اب تک کی تمام کوششیں غیرسنجیدہ تھیں) انہوں نے یہ بھی کہا کہ رام مندر کی تعمیر کا عزم پورا کیا جائے گا۔ (لیکن وقت نہیں بتایا جائے گا) سنگھل کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے بھاگوت نے اس ماہ کے آغاز میں ان سے ہوئی آخری ملاقات کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ وہ دو چیزیں پوری کرنا چاہتے تھے۔ایک رام جنم بھومی پر رام مندر کی تعمیر اوردوسرے دنیا بھر میں ویدوں کوپھیلانے کاکام۔ ان مقاصد کی سمت میں خلوص کے ساتھ کام کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ مجھ سے ملاقات کے دوران اشوک سنگھل نے اپنے دو ارادوں کا اظہار کیا تھا۔اگر ہمیں اشوک سنگھل کے دونوں عہدوں کا احساس ہے تو ہمیں آج ارادہ کرنا ہوگا کہ ہم ان کے عہد کو اپنا عہد بنائیں گے۔انھوں نے کہا کہ ہمیں رام مندر کی تعمیر مکمل کرنے کے لئے سنجیدہ کوشش کرنی ہوگی۔ ان کے لئے یہی سچی خراج تحسین ہوگی۔ ہمیں اشوک سنگھل کے دکھائے راستے پر آگے بڑھنا ہے اور کام کرنا ہے اور آئندہ سالوں میں ہمیں امید ہے کہ ہم رام مندر کی تعمیر کا ان کا خواب پورا کرنے کی سمت میں کام کریں گے۔
جہاں ایک طرف موہن بھاگوت رام مندر کی تعمیر کے عزم کا اظہار کر رہے تھے وہیں دوسری طرف وشو ہندو پریشد کے جنرل سکریٹری پروین توگڑیا پارلیمنٹ میں قانون منظور کر ایودھیا میں رام مندر بنانے کی مانگ دہررہے تھے۔ توگڑیا نے اشوک
سنگھل کی موت پر منعقد ایک دوسرے جلسے میں کہاکہ ، سنگھل رام مندر تحریک کے حامی تھے۔ان کو اصلی خراج تحسین رام مندر کی تعمیر کرنا ہے۔اس پروگرام میں گجرات کی وزیر اعلی آنندی بین پٹیل اور گورنر او پی کوہلی بھی موجود تھے۔ توگڑیا نے کہا ’’ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ مندر کی تعمیر کے لئے سردار پٹیل کے طریقے کا استعمال کیا جائے۔ سومناتھ مندر کی تعمیر کے لئے سردار پٹیل لوگوں سے بات کرنے نہیں گئے اور نہ ہی انہوں نے عدالت کے حکم کا انتظار کیا تھابلکہ انہوں نے پارلیمنٹ میں ایک قرارداد پیش کی تھی۔اسی طرح موجودہ پارلیمنٹ میں رام مندر کی تعمیر کے لئے ایک قانون لایا جانا چاہئے۔ ‘‘
160 اشوک سنگھل بابری مسجد کے مقام پر عالیشان رام مندر نہ بنواسکے مگر دلی میں بی جے پی کی حکومت بنوانے میں کامیاب ہوگئے۔ وہ وشوہندو پریشد کے لیڈر تھے مگر بی جے پی کو ان کی مدد سے ملک میں پھیلنے کا موقع ملا اوراس کی حکومت قائم ہوئی۔ یہ سنگھل ہی تھے جنھوں نے رام مندر تحریک کے دوران زبردست اشتعال نگیزی کی اور نتیجہ کے طور پر نہ صرف بابری مسجد کی شہادت ہوئی بلکہ ملک بھر میں فرقہ وارانہ فسادات بھی ہوئے اور ہزاروں افراد کی جانیں گئیں۔ وہ نریندر مودی کے اقتدار میں آنے سے بہت خوش تھے اور کہتے تھے کہ آٹھ سو سال بعد ہندوستان میں ہندووں کی حکومت قائم ہوئی ہے۔اشوک سنگھل رام جنم بھومی تحریک کے وقت کافی اشتعال انگیز تقریر اور نعرے کے لئے بھی جانے جاتے تھے۔ وہ زندگی بھر ہندووں اور مسلمانوں کے بیچ دوریاں پیدا کرنے میں لگے رہے ۔اشوک سنگھل، ہندوتو کا وہ فائربرانڈ نام ہے جس نے رام جنم بھومی تحریک کو جنم دیا۔اس کے بعد اسی ایجنڈے کے سبب بی جے پی کو طاقت حاصل ہوئی اور وہ ملک کے اقتدار تک پہنچی۔ حالانکہ اقتدار میں آنے کے بعد ہندو ووٹروں سے کیا گیا اپنا وعدہ اسے یاد نہیں رہا۔ آج وہ مرکز میں بھاری اکثریت کے ساتھ حکمراں ہے اور اس کے ’ہندو ہردے سمراٹ‘ کی تصویر رکھنے والے نریندر مودی وزیر اعظم ہیں مگر اب وہ اپنے اس پرانے وعدے سے پہلوتہی کر رہی ہے کیونکہ رام مندر اس کے لئے بھگوان رام سے عقیدت کے سبب ایشو نہیں بنا تھا، بلکہ ووٹ پانے کا حربہ تھا اور ووٹ حاصل کرنے کے بعد وہ اسے بھول گئی۔ہمیں یقین ہے کہ بابری مسجد کے مقام پر رام مندر کی تعمیر بی جے پی کبھی نہیں کراپائے گی اور جس طرح سے وہ اس ایشو کو ووٹ کے لئے استعمال کرتی رہی ہے کرتی رہے گی۔

Prayer Timings

Fajr فجر
Dhuhr الظهر
Asr عصر
Maghrib مغرب
Isha عشا