ہندوستان میں بڑھتی جنسی زیادتیاں اور اسلام کا نظام عصمت وعفت

share with us

نعمت اللہ محمد ناظم قاسمی

پچھلے چند دنوں سے پورا ہندوستان کم سن بچیوں کے ساتھ جنسی زیادتی کے کؤاقعات سے دہلا ہوا ہے،ہوس اور نفسانی خواہشات کی ان انسان نما بھیڑیے کی حرکت سے شیطان بھی شرمسار ہو گیا ہوگا،یہ واقعات دنیا بھر میں ہندوستان کی بدنامی کا باعث تو بنے ہی ساتھ ہی ان واقعات نے ان تمام انسانوں کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے جن کے سینے میں دل اور ان دلوں میں انسانیت کا خون دوڑ رہا ہو،یہ واقعات ہر صاحب عقل و خرد کو اس بات پر مجبور کرتے ہیں کہ وہ ان کے عوامل واسباب سے واقف ہو،تاکہ ان کے سدباب کے لئے مناسب قدم اٹھایا جاسکے۔
ذیل میں ان واقعات کے کچھ اہم اسباب پر روشنی ڈالی جارہی ہے۔

انسانیت کا فقدان
آج ہمارے معاشرہ میں انسانیت شرمسار ہے،ماضی قریب تک سماج اور سوسائٹی میں مختلف مسائل کا حل انسانی بنیادوں پر ڈھونڈا جاتا تھا،مگر ملک میں ایک طبقہ آج اسی انسانیت کا دشمن بن گیا ہے،اور وہ اپنی دشمنی کا نشانہ کبھی اپنے ہم مذہب اور کبھی دوسرے مذاہب کے لوگوں کو بناتا ہے،اس لئے آج معاشرہ کو انسانیت نواز بنانے کی ضرورت ہے،جس کی لئے ہر طبقہ کے لوگوں کو مل جل کر باہمی کوشش کرنی پڑے گے۔
اخلاقیات کی تعلیم
آج ہمارے اسکولوں میں طلبہ اور طالبات کو جو مضامین رٹائے جاتے ہیں،ان سے وہ ایک اچھاانجینئر،ماہر ڈاکٹر تو بن جاتے ہیں،مگر ایک اعلی انسان بننے کے لئے جو مضامین،تربیت درکار ہوتی ہے،وہ انہیں فراہم نہیں کی جاتی،اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ان اداروں کے طلبہ اعلی صفت انسان کا نمونہ نہیں بن پاتے ہیں،تو ضرورت اس بات کی ہے کہ عصری اداروں میں اخلاقیات کی تعلیم پر خصوصی توجہ دی جائی،جن سے طلبہ میں اخلاقیات کا شعور بیدار ہو،کیوں کہ اخلاق ہی وہ جوہر ہے جو انسان کو انسانیت پر باقی رکھ سکتا ہے۔
سوسائٹی کا کردار
انسان جس معاشرہ میں رہتا ہے اس کے اثرات سے وہ خود کو الگ نہیں رکھ سکتا،معاشرہ اگر صالح ہو تو اس کے اثرات افراد پر نظر آتے ہیں،اسی طرح اس کے برعکس معاشرہ اگر انسانیت سے عاری،اخلاقیات سے دور ہو تو اس کے منفی اثرات بھی اس پر پڑتے ہیں، اس لئے معاشرہ کی اصلاح بہت ضروری ہے،مگر اس کی اصلاح کیسے کی جائے؟یہ کوئی مختصر مدتی کورس نہیں جسے نافذ کرکے اس کے ثمرات کا انتظار کیا جائے،بلکہ یہ ایک طویل مدتی نظام اصلاح کا مطالبہ کرتا ہے،جسے مسلسل بلاتوقف معاشرہ میں جاری کرنے کی ضرورت ہے،اگر محلہ،گاو?ں،بلاک،ضلع،اور پھر صوبہ کی سطح پرمنظم کوشش کی جائے تو یقیناًاس کے مثبت اثرات رونما ہوں گے۔
مذہب بیزاری کا خاتمہ
انسان کوبرائی سے سب سے زیادہ روکنے والی چیز اپنے پیدا کرنے والا کا ڈر اور خوف ہے، دنیا میں جتنے مذاہب ہیں ان تمام میں اچھے کاموں پر ثواب اور برے کاموں پر عقاب خداوندی کا تصور موجود ہے،ضرورت اس بات کی ہے کہ انسان کے اندر اس شعور واحساس کو جگایا جائے،کہ مرنے کے بعد اسے برے کاموں کی سزا ملے گی،مگر معاشرہ میں مذہب سے دوری بلکہ مذہب بیزاری کی جو فضا ہے اس میں پہلے مرحلہ میں انسانوں کو مذہب سے قریب کرنے کی ضرورت ہے،تاکہ وہ مذہبی احکامات کی پاسداری کرسکے۔
سخت ترین ،عبرت آمیز قانون کا نفاذ
ان شرمسار کرنے والے واقعات کا ایک اہم حل مجرم کے خلاف سخت سے سخت قانون کا اجراء4 اوراس کا نفاذ ہے،ہندوستان میں جنسی زیادتی کی جو سزائیں ہیں ان پر نظر ثانی کرکے انہیں مزید سخت کرنے کی ضرورت ہے،تاکہ انسان کسی بھی گناہ کو کرنے سے پہلے ہزار بار سوچنے پر مجبور ہوسکے۔
مجرموں پر جلد از جلد سزا کا نفاذ
ہندوستان میں عدلیہ کے لئے ایک بڑا المیہ حصول انصاف میں تاخیر کا ہے،جب کہ انصاف میں تاخیر گویا انصاف کا ہی قتل ہے،جنسی زیادتی کا معاملہ ایسا حساس معاملہ ہے کہ اگر اس کا فیصلہ بر وقت ا?جائے اور مجرم کو قرار واقعی سزا ملے تو یہ مجرموں اور ان جیسے شرپسندوں کے لئے عبرت کا مقام ہوگا، اور انہیں ایسے جرائم سے باز رہنے میں معاون ہوگا،مگر افسوس کہ ہمارے ملک میں اس طرح انسانیت کے شرمسار کردینے والے واقعات کے مقدمات کے فیصلے بھی مختلف مخفی اسباب و وجوہات کی بنا پر ٹلتے جاتے ہیں،اور شرپسند،ظا لم مجرم اپنی قوت وطاقت کے نشہ میں مختلف حیلے بہانے بناکر اپنے خلاف آنے والے فیصلے کو مؤخر کراتا رہتا ہے۔
اب آئیے ہم ایک نظر اسلام کے نظام عصمت وعفت پر ڈالتے ہیں کہ شریعت اسلامی اس طرح کے جرائم کو روکنے کے لئے کیا اقدامات کرتی ہے ؟
ایک مسلمان ہونے کی حیثیت سے یہ ہما راکامل یقین بلکہ جزو ایمان ہے کہ انسانیت کی فلاح اور اچھے معاشرہ کا وجود خالق کائنات کے بھیجے ہوئے قوانین پر چل کر ہی ہوسکتا ہے،کیوں کہ اسی ذات کا بنایا ہوا قانون انسانیت کے لئے نفع بخش ہوسکتا ہے جو انسانوں کو بنانے والا ،اس کے دلوں کے راز اور اس کے عیوب وکمزوریوں سے واقف ہو، 
اسی قانون الہی کا اثر تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت سے پہلے جس معاشرہ میں زناکاری عام تھی ،عورتوں کی عزت اور ان کے ناموس کے ساتھ مختلف طریقوں سے کھلواڑ کیاجاتا تھا،یہی معاشرہ بعثت نبوی کے بعد اس قدر بدل گیا کہ زنا کا تصور بھی ان کی نگاہ میں ایک حرام عمل ٹھہرا،وہ کیا اسباب تھے جس نے لوگوں کے دلوں میں یہ انقلاب برپا کیا،؟یقیناً اس کا واحد سبب ان کا مشرف بہ اسلام ہونا اور نور نبوت سے فیض یاب ہونا تھا کہ جس کی کرنوں نے ان کے دلوں کی تاریکیوں کو لمحے میں روشنی میں بدل کر رکھ دیا،اسلام نے جنسی بے راہ روی سے پاک معاشرہ کے لئے ایک مکمل جامع نظام بتایا ہے،اگر اس پر عمل کیاجائے تو یقیناًہندوستان جیسے ملک میں بھی حالات بدل سکتے ہیں۔

زنا کی شناعت اور اس کی قباحت کا بیان
قرآن مجید میں اللہ رب العزت نے مختلف مقامات پر زنا کی قباحت کا تذکرہ کیا ہے،اور اسے بدکاری،( فاحشہ)،برا طریقہ (ساء سبیلا)سے تعبیر فرمایاہے،اس خدائی تعبیر نے اہل جاہلیت کو زنا کی قباحت سے آشنا کیا،
حرمت کی تصریح
پھر بہت سی آیات میں صراحت کے ساتھ زنا کی حرمت کا ذکر نازل ہواہے،ارشاد باری ہے: ولاتقربوا الزنا(الاسراء ۳۲)،اس حکم خداوندی کے بعدزنا کی حرمت صراحت کے ساتھ ان پر واضح ہوگئی،
سخت وعید
چنانچہ اتنی صریح وضاحت کے بعد بھی اگر کوئی اس سے باز نہ آئے تو اللہ رب العزت نے زانیوں کے لئے سخت سے سخت عذاب کی وعید کا تذکرہ کیا ،اللہ تعالی کا ارشاد ہے: یضاعف لہ العذاب یوم القیامۃ(الفرقان۹۶)(قیامت کے دن ایسے شخص کو دوگنا عذاب دیاجائے گا)۔
اسلام نے صرف انہیں احکامات پر ہی اکتفاء نہیں کیا ،بلکہ جو اسباب زنا کاری کی راہ معاون ہو سکتے تھے،اور جن سے اس کا دروازہ کھل سکتا تھا اسلام نے ان پر بھی بندش لگادی،چنانچہ اسلام نے مردوں اور عورتوں کو اپنی نگاہ نیچی رکھنے کا حکم دیا،اسی طرح عورتوں کو زیب و زینت کے ساتھ گھر سے باہر نکلنے سے منع فرمایا،مردوں کو جب وہ نکاح کی عمر کو پہونچ جائیں،جلد سے نکاح کرنے کی ترغیب دی،اپنے پڑوسی کی عزت وآبرو کی حفاظت کا خصوصی حکم دیا اور ان کے ساتھ بد نظری اور بدکاری کوگناہ کبیرہ اور سخت عذاب الہی کا باعث بتایا،اجنبی مردوعورت کو اکیلے میں ایک ساتھ جمع ہونے سے منع کیا گیا،بچے جب بڑے ہوجائیں تو ان کا بستر الگ کردینے کا حکم دیا گیا،اجنبی عورتوں کو مردوں سے بات کرتے وقت آواز میں نرمی نہ برتنے کا مشورہ دیا گیا،یہ اور اس طرح کے بہت سے ایسے احکامات دیئے گئے،جن سے اس جرم کا سدباب ہوسکے،اور ان راہوں کو بند کیا جاسکے جو معاشرہ میں بے حیائی،اور دوسری برائیوں کو فروغ دے سکتے تھے۔
غور کیجئے آج اگر ہمارے معاشرہ میں ان احکامات خداوندی پر عمل کیا جائے،اور ان فطری احکامات کو سوسائٹی اپنے اوپر نافذ کرلے تو یقیناًمعاشرہ میں صالح انقلاب برپا ہوگا،اور ہندوستان میں عورتوں کی عزت وناموس پر جو خطرات کا ماحول بنتا جا رہا ہے ان حالات سے بڑی حد تک نجات مل سکتی ہے۔

مضمون نگار کی رائے سے ادارہ کا متفق ہونا ضروری نہیں۔ 
14؍ مئی 2018
ادارہ فکروخبر بھٹکل 

 

Prayer Timings

Fajr فجر
Dhuhr الظهر
Asr عصر
Maghrib مغرب
Isha عشا