بچوں کو نماز کے لیے کیسے راغب کریں؟

share with us

کامران غنی صبا

نماز میں تساہلی ایک ایسا مرض ہے جس سے تقریباً نوے فیصد لوگ متاثر ہیں ۔ ہم یہ جانتے ہوئے بھی کہ نماز فرض ہے اور کسی بھی حال میں نماز چھوڑنے کی گنجائش نہیں ہے، اطمینان سے نماز کی ادائگی میں تساہلی سے کام لیتے ہیں ۔ حد تو یہ ہے کہ اچھے خاصے باشرع حضرات بھی جلسہ جلوس اور مختلف قسم کی علمی، ادبی، سیاسی یہاں تک کہ مذہبی محفلوں میں نماز کو قضا کردینا کوئی بڑی بات نہیں سمجھتے۔ نماز صرف ایک عبادت نہیں ہے بلکہ ایک فلسفہ ہے۔ بلکہ سچ پوچھیے تو اسلام کے تمام احکامات خواہ وہ عبادات سے تعلق رکھتے ہوں یا معاملات سے اپنے اندر بے شمار حکمتیں پوشیدہ رکھتے ہیں ۔ بسا اوقات ان حکمتوں کو سمجھنے میں صدیاں گزر جاتی ہیں ۔ نماز بندے اور رب کے درمیان محبت، وفاداری اور اطاعت کا ایک اگریمنٹ ہے۔ اب اگر ہم اپنے رب سے کیے گئے اگریمنٹ کو ہی توڑ بیٹھیں (جس کے ہم پر بے شمار احسانات ہیں )تو بھلا ہم کس کے وفادار ہوں گے؟؟
عموماً نماز میں تساہلی کی ایک بڑی وجہ تربیت کا فقدان ہے۔ ہمارے یہاں بچپن سے نماز پر اس طرح زور ہی نہیں دیا جاتا جس طرح دوسری باتوں پر دیا جاتا ہے۔ مجھ سے بہت سارے طالب علم یہاں تک کہتے ہیں کہ اُن کے والدین اور سرپرست پابندی سے نماز پڑھنے پر انہیں عجیب و غریب انداز سے دیکھتے ہیں اور بسا اوقات براہ راست یا اشارۃً بہت زیادہ نماز وغیرہ پڑھنے سے منع تک کرتے ہیں ۔ انہیں ایسا لگتا ہے کہ مذہبی اثرات قبول کرنے کے بعد ان کا بچہ دنیاوی ترقی نہیں کر سکتا۔ عام طور سے اس طرح کی ذہنیت رکھنے والے والدین کے بچے نفسیاتی اعتبار سے ضد اور انتہا پسندی کا شکار ہو کر مذہب کی غلط شبیہ پیش کر بیٹھتے ہیں ۔ جن گھروں کا ماحول مذہبی ہوتا ہے وہاں عموماً ایسی شکایتیں نہیں ملتیں ۔ سچ پوچھیے تو جو طالب علم نماز کے پابند ہوتے ہیں اُن کے اندر دوسری بہت ساری خصوصیات بھی پائی جاتی ہیں ۔ مثلاً وہ وقت کے پابند ہوتے ہیں ۔ اصول پسند ہوتے ہیں ۔ نظم و ضبط کی پابندی کرتے ہیں ۔ وفا شعار اور بااخلاق ہوتے ہیں ۔ ان کے اندر اعتماد پایا جاتا ہے۔ البتہ اس طرح کی خصوصیات پیدا کرنے کے لیے روایتی قسم کی نماز کی عادت کافی نہیں ہے۔ ہمیں چھوٹی عمر سے ہی بچوں کو نماز اور دوسری عبادات میں پوشیدہ حکمتوں سے بھی روشناس کراتے رہنا چاہیے تاکہ وہ عبادات کی اصل روح تک پہنچ سکیں ۔
یاد رکھیے! عادتیں ہی پختہ ہو کر کردار کو جنم دیتی ہیں ۔ مشہور عیسائی مبلغ ڈریک پرنس (Derek Prince) کہتے ہیں :
Your character is the sum total of your habits. Your habits are formed by repeated decisions.
(آپ کی عادتیں آپ کے کردار کا آئینہ ہوتی ہیں اور عادتیں لگاتار لیے گئے فیصلوں سے بنتی ہیں ۔ )
بچوں کو بچپن سے ہی جیسی عادتیں دی جائیں گی اُسی بنیاد پر ان کے کردار کی تشکیل ہوگی۔ مولانا مودودیؒ نے نماز کے تعلق سے طلبہ کے اندر پائی جانے والی تساہلی پر ایک جگہ لکھا ہے:
اگر ایک طالب علم نماز کو جان بوجھ کر ترک کرتا ہے تو اس صورت میں آپ کو اس طالب علم کو ملامت نہیں کرنا چاہیے بلکہ اس نظامِ تعلیم کو ملامت کرنا چاہیے جس نے اس کو اول روز سے یہ سکھایا کہ فرض ایک ایسی چیز ہے جس کو فرض جاننے کے بعد بھی چھوڑا جا سکتا ہے۔ اپنے بچوں کو اللہ تعالیٰ سے بے وفائی سکھانے کے بعد آئندہ یہ امید ہرگز نہ رکھیں کہ وہ قوم و ملت، ریاست یا کسی بھی چیز کے مخلص اور وفادار ہوں گے۔

بچوں کو نماز کی ترغیب کس طرح دی جائے: 
اس کے لیے سب سے پہلی شرط یہ ہے کہ ہمیں خود نماز کی پابندی کرنی ہوگی۔ بچے سب سے زیادہ بالواسطہ آموزش (Indirect Learning) سے سیکھتے ہیں ۔ ہم انہیں بہت کچھ خود نہیں سکھاتے ہیں ، وہ ہمیں دیکھ کر خود ہی سیکھ جاتے ہیں ۔ اگر ہمارے گھر کے سبھی افراد ہر طرح کی مصروفیات کے باوجود نماز میں کسی قسم کی تساہلی نہیں کریں تو یقینا بچے بھی اس کے اثرات قبول کریں گے۔ بہت سارے گھروں خاص طور سے مدارس وغیرہ میں نماز کے لیے بے جا اور ضرورت سے زیادہ ڈانٹ پھٹکار بھی کی جاتی ہے۔ بچوں کی تربیت کے لیے کبھی کبھار تنبیہ اور سرزنش بھی ضروری ہے لیکن ہمیشہ ڈانٹ ڈپٹ کرنے سے ان میں ضدپیدا ہو سکتی ہے اور بہت ممکن ہے کہ ان کا ذہن متنفر ہو جائے۔
بچوں میں نماز کی ترغیب پیدا کرنے کے لیے ہمیں انہیں نماز کی فضیلت سے متعلق قرآنی آیات اور ہلکی پھلکی احادیث مبارکہ یاد کرانی چاہئیں ۔ سائنسی نقطۂ نظر سے نماز کے فوائد پر روشنی ڈالنی چاہیے۔ اس سلسلہ میں میرا ایک ذاتی تجربہ بھی بہت حد تک کارآمد ثابت ہوا ہے۔ آپ اسے بھی آزما سکتے ہیں ۔ بچوں کو ایک چارٹ پیپر دیجیے جس میں پانچ سے دس روز کا پانچ کالم ہو۔ کالم کا خاکہ اس طرح کا ہو سکتا ہے:
تاریخ۔ فجر۔ ظہر۔ عصر۔ مغرب۔ عشاء۔ دستخط(والد/والدہ)
ان کالموں میں نماز کی کیفیت لکھی جائے گی یعنی نماز یں کس طرح ادا کی گئیں ۔ مثال کے طور پر اگر بچے کی فجر کی نماز چھوٹ گئی تو اس کالم کے سامنےقضا لکھا جائے گا، ظہر کی نماز جماعت سے ادا کی تو باجماعت لکھیں گے۔ ۔ ۔ اسی طرح عصر، مغرب، عشاء سبھی نمازوں کی کیفیت لکھنے کے بعد آخر میں والد، والدہ یا گھر کا کوئی بڑا اس چارٹ پیپر کے آخری کالم میں دستخط کرے گا۔ اس طرح بچہ اچھی پرفارمنس کے لیے کوششیں کرے گا۔ اگر پانچ یا دس دنوں کے بعد اُس کی کارکردگی اچھی نظر آئے تو اُس کی حوصلہ افزائی کی جانی چاہیے۔ بہتر ہوگا کہ اچھی پرفارمنس پر اسے کچھ انعام بھی دیا جائے۔
یاد رکھیے ! نماز کسی بھی حال میں معاف نہیں ہے۔ اگر ہماری تساہلی اور تربیت کی کمی کی وجہ سے خدا نخواستہ بچہ بد دین ہوگیا تو کل بروز قیامت ہم بھی گرفت میں آئیں گے۔

مضمون نگار کی رائے سے ادارہ کا متفق ہونا ضروری نہیں ۔ 
13؍ مئی 2018
ادارہ فکروخبر بھٹکل

Prayer Timings

Fajr فجر
Dhuhr الظهر
Asr عصر
Maghrib مغرب
Isha عشا