حماس مخالف امریکی قرارداد عالمی برادری کے لیے نیا امتحان ہے،عزت الرشق

share with us

دوحہ :06ڈسمبر2018(فکروخبر/ذرائع)اسلامی تحریک مزاحمت حماس کے جنرل اسمبلی میں فلسطینی مزاحمت کے خلاف پیش کی جانے والی قرارداد کے حوالے سے کہا ہے کہ عالمی برادری ایک بار پھر امتحان سے دوچار ہے۔ ایک طرف فلسطینی قوم کے دیرینہ حقوق اور ان کے اصولی مطالبات ہیں اور دوسری طرف امریکا کی صہیونیت نوازی اور اسرائیل کی طرف داری ہے۔ عالمی برادری کو فیصلہ کرنا ہے کہ اسرائیل کے مجرمانہ ایجنڈے کی امریکا کے ساتھ ہے یا فلسطینی قوم کے اصولی مطالبات اور ان کی تحریک آزادی کی حامی ہے۔تفصیلات کے مطابق حماس کے سیاسی شعبے کے سینئر رکن عزت الرشق نے کہا کہ امریکا اسرائیل کے مجرمانہ عزائم اور وحشیانہ اقدامات کی حمایت میں جنرل اسمبلی کے فورم کو استعمال کر رہا ہے۔ عالمی برادری کو فیصلہ کرنا ہے کہ آیا وہ فلسطینیوں کی نصرت اور قضیہ فلسطین کے منصفانہ حل کی حامی ہے یا امریکااور اسرائیل کے توسیع پسندانہ پروگرام کے ساتھ کھڑی ہے۔انہوں نے کہا کہ فلسطینی قوم کو جنرل اسمبلی میں عالمی برادری کے فیصلے کا انتظار ہے۔ ہم یہ دیکھنا چاہتے ہیں کہ آیا دنیا امریکی پروگرام کے ساتھ ہے یا فلسطینیوں کی پشت پر کھڑی ہے۔عزت الرشق نے اقوام متحدہ میں امریکی قرارداد کو بین الاقوامی قوانین اور عالمی قوانین کی سنگین خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ انہوں نے ہے کہ فلسطینی تحریک آزادی کوجرم اور دہشت گرد قرار دینا عالمی قوانین، جنیوا معاہدے اور دیگر عالمی معاہدوں کے تحت فلسطینیوں کو دیے گئے حقوق کی نفی کے مترادف ہے۔ 

Prayer Timings

Fajr فجر
Dhuhr الظهر
Asr عصر
Maghrib مغرب
Isha عشا