English   /   Kannada   /   Nawayathi

صرف جانوروں کی قربانی ہی مقصود نہیں

share with us
Qurbani, mufti fayyaz, mufti fayyaz barmare, barmare, barmare husaini , barmare kokan,

مفتی فیاض احمد محمود برمارے حسینی

ماہ ذی الحجہ تاریخی حیثیت سے بڑی اہمیت کا حامل مہینہ ہے۔ اس لئے کہ اس ماہ سے حج اور قربانی جیسی عبادتیں وابستہ ہیں۔ ہرسال کی طرح امسال بھی لاکھوں عاشقان حرم پہنچ کر حج بیت اللہ کی ادائیگی سے روحانی تسکین اور بخشش کا حسین گلدستہ حاصل کرنے والے ہیں ۔ اسی طرح سنت ابراہیمی کی ادائیگی سے بھی ایک مثالی اور تاریخی قربانی کی یاد تازہ کرکے متبع سنت ہونے کا ثبوت پیش کرنے والے ہیں،اس سنت کی ادائیگی کا مسلمانوں میں بڑھتا ذوق یقینا قابل دید ہے،,اسی طرح حاجیوں کی بڑھتی تعداد بھی قابل تحسین ہےلیکن ایک بڑی تعداد ایسی ہے جو حج کی استطاعت رکھنے کے باوجودحج نہیں کرتی، اسی طرح قربانی کرنے کی طاقت رکھنے کے باوجود اس سنت سے محروم رہ جاتے ہیں جب کہ عبادات اور اطاعت کے کاموں میں سبقت کرنے کاحکم دیا گیا ہے۔

قربانی  صاحب استطاعت پر ہرسال سنت ہےاور قربانی سے یہ مقصود نہیں ہے کہ جانور ذبح کرکے گوشت تقسیم کیا جائے اور خوب کھالیا جائے بلکہ اصل مقصود یہ ہے ایک مومن کے اندر اپنی محبتوں اور خواہشات کی قربانی کا جذبہ پیدا ہو جائے۔ اسی وجہ سے عین قربانی کے وقت جانور خرید کر قربان کرنے کے بجائے چند روز پہلے اسے گھر لاکر اسے کھلا پلا کر خوب موٹا تازہ کیا جائے اس پر محبت بھری نظریں ڈالی جائے اس کے ساتھ احسان واکرام کا معاملہ کیا جائے تاکہ قربانی کے وقت دل میں یہ احساس پیدا ہو جائے کہ کوئی محبوب چیز ہم سے جدا ہورہی ہے۔ جس کے لئے اپنے ہی علاقہ میں شعائر اسلام کی بقاء کے لئے قربانی کرنا بہتر ہے۔

اصل قربانی تو جان کی قربانی ہوتی ہے لیکن اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر رحم فرماتے ہوئے انھیں جانوروں کی قربانی کا حکم دیا ہے ۔ جانوروں کی قربانی کے وقت جان کی قربانی دینے والوں کی عظمت اور عقیدت ہمارے دلوں میں موجزن ہونا چاہیے نیز یہ جذبہ پیدا ہونا چاہیے کہ ضرورت پڑنے پر ہم بھی اہل غزہ کی طرح قربانی سے پس وپیش نہیں کریں گے،اسلام کی تعلیمات میں کسی کی دل آزاری اور ایذارسانی سے منع کیا گیا ہے لیکن بسااوقات ہمارا قربانی کا عمل دوسروں کی دل آزاری کا سبب بنتا ہے،چوں کہ کبھی  قربانی کی نسبت سے غریب رشتہ داروں اور متعلقین وغیرہ کے سامنے فخریہ گفتگونیز برادران وطن کی جذبات کو مجروح کرنے والے ہمارے افعال وحرکات دل آزاری کا سبب بنتے ہیں۔ قربانی جیسے مقدس عبادت کی ادائیگی اگر دوسروں کی دل آزاری کا سبب بن جائے تو نیکی برباد گناہ لازم کے مصداق ہماری قربانی بے کار ہو جائے گی نیز شریعت نے خود کی جان مال اور عزت کی حفاظت کا ہمیں مکلف بنایا ہے،اس وقت فرقہ پرستی کے ماحول میں قربانی کے ایام میں بہت ہی چوکنا رہنے کی ضرورت ہے،جانوروں کو لانے لیجانے میں ،قربانی کے جگہوں اور وقت کے انتخاب میں ایسا لائحہ عمل تیار کریں کہ کسی قسم کے نقصان اور فساد کی نوبت نہ آئے ،ورنہ فائدہ حاصل کرنے کے لئے نقصان کو سر پر تھوپ لینا عقل کے تقاضہ کے خلاف ہے ہی شریعت کے مزاج کے بھی خلاف ہے،یہی اصل قربانی ہے کہ بظاہر جانور کی قربانی کے لئے بہت سی چیزوں کو قربان کئے بغیر کامیابی اور سرخروئی ممکن نہیں ہے۔

Prayer Timings

Fajr فجر
Dhuhr الظهر
Asr عصر
Maghrib مغرب
Isha عشا