English   /   Kannada   /   Nawayathi

منیٰ : ماضی اور حال کا منظر کتنا مختلف

share with us

15/جولائی/2024ء(فکروخبر/ذرائع)ویسے تو فریضہ حج صدیوں سے جاری ہے مگر ہر گذرتے برس حکومت وقت نے حجاج کی خدمت اور انہیں ہر ممکن آرام و آسائش مہیا کرنے کو اپنا طرہ امتیاز سمجھتی ہے۔

پچھلے کچھ دھائیوں سے حج سروسز میں تیزی کے ساتھ تبدیلیاں اور بہتری آئی۔ سعودی عرب نے حجاج کی خدمت میں جو معیاری اور ترقیاتی تبدیلیاں کی ہیں ان کی بہ دولت ماضی کی نسبت حج زیادہ منظم، مربوط، پرسکن اور آرام دہ ماحول میں ہوتا ہے۔

 

e4ed201b-2aa3-4b3c-b369-4fd6024d91c5

 

پرانے دور کے حج کے مناسک کے مناظر کو دیکھا جائے تو پتا چلتا ہے کہ عازمین طویل سفر پیدل یا روایتی طریقوں سے جانوروں کو سواری کے طور پر استعمال کرتے تھے۔

 

ماضی اور حال کے منی کا ایک منظر

ایک دورآیا جب بسوں کےذریعے عازمین منیٰ پہنچنے لگے۔ تب بھی حج کو مشکل سمجھا جاتا تھا۔ گئے وقتوں میں حج کا سفر کرنا اپنی جان خطرے میں ڈالنے کے مترادف تھا۔ عازمین میلوں کا سفر پیدل چلتے۔ انہیں کبھی آگ برساتے سورج اور کبھی طوفانی بارشوں سے گذرنا پڑتا۔

ترویہ کا دن

زائرین ذوالحجہ کے مہینے کی آٹھ تاریخ کی صبح منیٰ پہنچ کر یومِ ترویہ گزار تے ہیں۔ اس دوران وہ کثرت کے ساتھ تسبیح و تہلیل اور تلبیہ کا ورد کرتے ہوئے سنت نبوی ﷺ کو زندہ کرتے ہیں۔

حجاج کے سفر کے دوران آٹھ ذوالحجہ کو یوم ترویہ کہا جاتا تھا کیونکہ اس دن حجاج پینے کا پانی ساتھ لاتے ہیں۔ نو ذی الحجہ کو عرفات کے دن کی تیاری کے لیے برتنوں میں پانی منیٰ لے جاتے تھے۔ عازمین منیٰ میں رات گذارتے ہیں۔ سنت نبوی ﷺ کی پیروی کرتے ہوئے پانچ نمازیں ادا کرتے ہیں۔

Prayer Timings

Fajr فجر
Dhuhr الظهر
Asr عصر
Maghrib مغرب
Isha عشا