لیبیا کے ساحل پر تارکینِ وطن کی کشتی ڈوب گئی، 31 ہلاک

share with us

طرابلس:27؍نومبر2017(فکروخبر/ذرائع) شمالی افریقہ کی ریاست لیبیا کے ساحل کے قریب تارکینِ وطن کی کشتی ڈوبنے کے نتیجے میں 31 افراد ہلاک ہوگئے۔لیبیا کے کوسٹ گارڈ نے بر وقت کارروائی کرتے ہوئے 200 سے زائد مسافروں کو بچالیا اور انہیں واپس طرابلس کے ساحلوں تک پہنچا دیا۔لیبیا کے کوسٹ گارڈ کمانڈر ابو اجالا امیر عبدالباری کا کہنا تھا کہ تارکینِ وطن 2 کشتیوں میں سوار ہو کر طرابلس کے مشرقی علاقے گارابلی سے روانہ ہوئے تھے تاہم جب کوسٹ گورڈ کشتی ڈوبنے کے مقام تک پہنچے تو ایک کشتی پہلے ہی ڈوب چکی تھیں۔ان کا مزید کہنا تھا کہ کشتی ڈوبنے کی وجہ سے اس میں سوار مسافر سمندر میں پھیلے ہوئے تھے اور تیرنے کی کوشش کر رہے تھے۔انہوں نے بتایا کہ اس کشتی میں سوار افراد میں سے 60 افراد کو بچانے میں کامیابی حاصل ہوئی جوکہ  ڈوبی ہوئی کشتی کے ٹکڑوں کے سہارے سے تیر رہے تھے جبکہ 140 مسافروں کو دوسری کشتی نے بچالیا تھا۔کوسٹ گارڈ کمانڈر نے بتایا کہ مرنے والوں کی لاشوں کو جن میں زیادہ تعداد بچوں کی ہیں، واپس طرابلس کے ساحلوں پر منتقل کردیا گیا۔خیال رہے کہ لیبیا، براعظم افریقہ کے تارکینِ وطن کی جانب سے سمندر کے راستے یورپ جانے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے جہاں انسانی اسمگلر انہیں کشتیوں میں گنجائش سے کئی زیادہ تعداد میں بٹھا کر یورپ کے ساحلوں کی طرف روانہ کر دیتے ہیں اور اس دوران کشتی ڈوبنے کے واقعات بھی پیش آتے ہیں۔راوں برس ایک لاکھ سے زائر افریقی تارکینِ وطن اٹلی جاچکے ہیں جبکہ اس سے زائد تعداد میں لیبیا کے کوسٹ گارڈ واپس ساحلوں پر لا چکے ہیں۔علاوہ ازیں رواں برس 3 ہزار سے زائد تارکینِ وطن یورپ جانے کی خواہش میں بحیرہ روم کو عبور کرتے ہوئے سمندر میں ڈوب کر ہلاک ہو چکے ہیں یا پھر لاپتہ ہوچکے ہیں۔تارکینِ وطن کے حوالے سے کام کرنے والے ایک بین الاقوامی ادارے کی رپورٹ کے مطابق سن 2000 سے بحیرہ روم تارکینِ وطن کے لیے دنیا کی مہلک ترین سرحد ثابت ہوا ہے

Prayer Timings

Fajr فجر
Dhuhr الظهر
Asr عصر
Maghrib مغرب
Isha عشا