English   /   Kannada   /   Nawayathi

لاک ڈاؤن کے فوائد اور اس کے مثبت اثرات

share with us

رویض عیدروسہ

اللہ رب العزت کا اس دنیا میں یہ قانون اور دستور رہا ہے، پہلے بھی تھا اور اب بھی چلتا آرہا ہے کہ وہ اس وقت تک کسی قوم یا بستی پر عذاب یا مصیبت نازل نہیں کرتا جب تک کہ وہ خود کوئی ظلم یا گناہ کا کام نہ کر بیٹھے،اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (وما أصابکم من مصیبة فبما كسبت أيديكم ويعفوا عن كثير) ترجمہ: تمہیں جو کوئی مصیبت پہنچتی ہے وہ تمہارے اپنے ہاتھوں کیے ہوئے کاموں کی وجہ سے پہنچتی ہے،اور بہت سے کاموں سے تو وہ درگزر ہی کرتا ہے.
اللہ تعالیٰ لوگوں کو ایک متعینہ مدت تک وقت دیتا ہے اور دیکھتا ہے کہ وہ اس مدت میں کیا کام کرتے ہیں، جب کوئی قوم برائی پر آمادہ ہوتی ہے اور فساد فی الارض ہونے لگتا ہے اللہ کی نافرمانیاں کھلے عام ہونے لگتی ہیں، نہ شریعت کی پرواہ رہتی ہے اور نہ دین کی پرواہ، تو اللہ تعالیٰ ایسی قوم سے انتقام لینے کا فیصلہ کرتے ہیں تاکہ اس قوم کو تباہ و برباد کر کے وہاں ایسی قوم کو بسایا جائے جو اللہ کی عبادت کرنے والی ہو، تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ پچھلی صدیوں سے لے کر آج تک جتنی قومیں گزری ہیں چاہے أنبیاء کے ادوار میں ہی کیوں نہ ہو اللہ نے ان کے گناہ کی وجہ سے اس زمین کو پاک و صاف کرنے کے لیے مختلف عذاب بھیجے، ہر قوم کا الگ الگ عذاب، ان کا کیسا جرم ویسی سزا، ہم بارہا سنتے آرہے ہیں کہ فلاں گاؤں میں زلزلہ آیا، فلاں گاؤں میں طوفان آیا، غرض ہر قسم کے عذاب،اللہ تعالیٰ کو مقصود یہ چیز ہوتی کہ اس زمین پر رہ کر جس نے تم کو پیدا کیا اور وہی تم کو کھلا پلا رہاہے اسی کی نافرمانی پر تلے ہوئے ہو! یہ کیسا انصاف ہے؟
قرآن نے اس کا اشارہ کچھ یوں دیا ہے (فكلا أخذنا بذنبه فمنهم من أرسلنا عليه حاصبا ومنهم من أخذته الصيحة ومنهم من خسفنا به الأرض ومنهم من أغرقنا وما كان الله ليظلمهم ولكن كانوا أنفسهم يظلمون) ترجمہ:ہم نیان سب کو ان کے گناہ کی وجہ سے پکڑ میں لیا، چنانچہ ان میں سے کچھ وہ تھے جن پر ہم نے پتھراؤ کرنے والی ہوا بیجھی،اور کچھ وہ تھے جن کو ایک چنگھاڑ نے آپکڑا، اور کچھ وہ تھے جن کو ہم نے زمین میں دھنسادیا، اور کچھ وہ جنھیں ہم نے پانی میں غرق کر دیا، اور اللہ ایسا نہیں تھا کہ ان پر ظلم کرتا لیکن یہ لوگ خود اپنی جانوں پر ظلم کیا کرتے تھے. اور اخیر میں فرمایا اللہ کسی پر ظلم نہیں کرتا لیکن لوگ خود اپنی ذات پر ظلم کرنے والے ہوتے ہیں معلوم ہوا کہ جب کوئی قوم ظلم کرتی ہے تو اللہ اس قوم سے انتقام لیتا ہے.
ہم سب جانتے ہیں کہ چند مہینوں پوری دنیا میں کروناوبا آفت بنی ہوئی ہے جس نے پوری دنیا کے لوگوں کو اپنے خوف و ہراس میں لے رکھا ہے، چیونکہ یہ آفت ایسے آئی ہے کہ کسی کے ذہن ودماغ میں بھی نہیں تھاکہ ایک وبا آکر پوری دنیا کی آمدورفت کو روک دے گی،یہ اللہ کی طرف سے طے شدہ امر تھا (وإذا أراد الله بقوم سوئاً فلا مردّله ومالهم من دونه من وال) ترجمہ:جب اللہ کسی قوم پر آفت لانے کا ارادہ کرتا ہے تو اس کو ٹالنا ممکن نہیں، اور ایسے لوگوں کا خود اس کے سوا کوئی رکھوالا نہیں ہو سکتا.
جس کی وجہ سے پوری دنیا کی چہل پہل رک گئی، لوگ اپنے اپنے مسکنوں میں محصور ہوگئے، سواریاں بند ہو گئیں، کمپنیوں کو بند کیا گیا، مدارس اور تعلیم گاہوں کو تالے لگ گئے، یہاں تک کے مساجد میں لوگوں کو نماز پڑھنے سے روکا گیا، اوراس سے بڑھ کر محیر العقول بات یہ ہے مقدس سر زمین میں کعبۃ اللہ کے طواف جیسے عمل کو روکا گیا، کوئی ایسا وقت یا ایسا لمحہ نہیں گزرتا تھا کہ وہاں پر کوئی طواف کرنے والا اور خدا کی عبادت کرنے والا موجود نہ ہو، عقل اس بات کو تسلیم نہیں کرتی کہ اس جیسے جلیل القدر عمل کو بھی روکا جائے گا، غرض دنیا کی پوری سرگرمیاں مکمل طور پر رک گئی، ایسا نظر آنے لگا کہ دنیا صدیوں پیچھے چلی جاچکی ہے اس میں حیوانات کو ابھی پیدا نہیں کیا گیا، اس چھوٹی سی آفت کو دور کرنے کے لیے انسان کتنا بے بس اور لاچار نظر آیا حالاں کہ موجودہ دور میں دنیا کتنی ترقی کر چکی ہے، اور کیسی کیسی ٹکنالوجی کا استعمال عام ہو چکا ہے صاف ظاہر ہوا کہ دنیا کی ترقیات اور قسم قسم کی ٹکنالوجی اور نت نئے آلات جس سے عقل حیران ہوتی ہے لیکن رب العالمین کے ایک چھوٹے سے فیصلے کے سامنے دھرے کے دھرے رہ جاتی  ہیں، اس چھوٹے سے وائرس کے مقابلے کے لیے دنیا بھر کی حکومتوں نے ہنگامی اقدام کے طور پر اپنے اپنے ملک میں لاک ڈاؤن کی پابندیاں نافذ کر کے لوگوں کی نقل و حرکت گھروں تک محدود کی اور انہیں سماجی دوری سمیت مختلف احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کا پابند بنایا، ایسا ماحول پیدا ہواکے لوگ ایک دوسرے سے جدا ہونے لگے، نہ مریض کی عیادت کا موقع، نہ جنازے میں شرکت کی اجازت، ہر اچھے برے کاموں سے روکا گیا، نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی پیاری سنت مصافحہ تک کرنے سے لوگ گریز کرنے لگے، مریضوں کے علاج معالجہ سے ڈاکٹروں پر پابندیاں لگائیں گئیں، گویا اس سے قیامت کا منظر سامنے آنے لگا جس دن کوئی کسی کے کام نہیں آئے گا ہر ایک کو اپنی فکر، قرآن مجید نے اس کی منظر کشی یوں کی ہے (يوم يفر المرء من أخيه وأمه وأبيه وصاحبته وبنيه لكل امرىء منهم يومئذ شأن يغنيه) ترجمہ: یہ اس دن ہوگا جب انسان اپنے بھائ سے بھی بھاگے گا، اور اپنے ماں باپ سے بھی، اور اپنے بیوی بچوں سے بھی، کیوں کہ اُن میں سے ہر ایک کو اُس دن اپنی ایسی فکر پڑی ہوگی کہ اسے دوسروں کا ہوش نہیں ہوگا.
میں بتانا چاہتا ہوں کہ اس لاک ڈاؤن کی مدت میں ہمیں کیا فائدے حاصل ہوئے اور کام کرنے والوں نے کیا کچھ کیا. اللہ رب العزت کا فضل اور اسی کا کرم ہے کہ کتنے لوگوں نے ان اوقات کو ضائع کرنے کے بجائے بڑے بڑے کارنامے انجام دیے، سب سے بڑھ کر قابل مبارک باد وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنے اوقات کو کار آمد بنا کر کلام اللہ کے حفظ کی سعادت حاصل کی، چھوٹی سی مدت میں تقریباً تین یا چار مہینے کے دوران اتنے بڑے کلام کو یاد کرنا بڑی خوش نصیبی کی بات.
         (خدمت خلق)
قابل تحسین بات یہ ہے کہ ان دنوں لوگوں کے اندر خدمت کا ایسا شوق اور جذبہ پیدا ہوا کہ خدمت کو لوگ بڑی عبادت سمجھ کر کرنے لگے، ہوایوں کہ اکثر اوقات لوگوں کے اندر خدمت کا جذبہ ہی نظر نہیں آتا تھا، موقع ملتا تب بھی خدمت کو خدمت نہیں سمجھاجاتاتھا خواہ وہ رشتہ دار کی خدمت ہو یا پڑوسی کی، یا علاقے والوں کی، یا کسی دوسرے کی، ان دنوں میں ضرورت مندوں کی جتنی خدمت کی گئی اور پڑوسیوں کے ساتھ اچھا سلوک کیا گیا رشتہ داروں اور خاندان والوں میں تعلقات اور خبر گیری کے وہ نمونے دیکھے گئے جو عام دنوں میں نظر نہیں آئے. خاص کر نوجوانوں نے دل وہ جان سے خدمت کی، نہ انہوں نے دن و رات کی پرواہ کی، نہ گرمی اور سردی کی، ہر وقت اسی فکر میں رہتے تھے رمضان کے روزوں کے ساتھ بھی انہوں نے اس کارِخیر کو نہیں چھوڑا بلکہ اس میں ترقی ہی نظر آئی.

والدین کے ساتھ حسن سلوک، اور اہل خانہ بیوی بچوں کے ساتھ اچھا برتاؤ
واعبدوا الله ولا تشركوا به شيئا وبالوالدين إحسانا وبذالقربىٰ واليتمىٰ والمساكين والجار ذي القربىٰ والجار الجنب والصاحب بالجنب وابن السبيل وما ملكت أيمانكم إن الله لا يحب من كان مختالاً فخورا   ترجمہ: اللہ کی بندگی،کرو اور اس کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ ٹھراؤ، اور والدین کے ساتھ حسن سلوک کرو، نیز رشتہ داروں، یتیموں، مسکینوں، قریب والے پڑوسی، دور والے پڑوسی، ساتھ بیٹھے (یا ساتھ کھڑے) ہوئے شخص، اور راہ گیر کے ساتھ اور اپنے غلام باندیوں کے ساتھ بھی (اچھا برتاؤ رکھو) بیشک اللہ کسی اترانے والے شیخی باز کو پسند نہیں کرتا.
والدین: ماں باپ کے ساتھ اچھا سلوک کیجئے اور حسن سلوک کی توفیق کو دونوں جہاں کی سعادت سمجھئے خدا کے بعد انسان پر سب سے زیادہ حق ماں باپ ہی کا ہے، ماں باپ کے حق کی اہمیت کا انداذہ اس سے کیجئے کہ قرآن پاک نے جگہ جگہ ماں باپ کے حق کو خدا کے حق کے ساتھ بیان کیا ہے یعنی اپنی عبادت کے ساتھ متصل رکھا ہے، اور خدا کی شکر گزاری کے ساتھ ساتھ ماں باپ کی شکر گزاری کی بھی تاکید کی ہے،
وقضىٰ ربك ألا تعبدوا إلا إياه وبالوالدين إحسانا إما يبلغنّ عندك الكبر أحدهما أو كلٰهما فلا تقل لهما أفّ ولا تنهرهما وقل لهما قولاً كريما     ترجمہ: تمھارے پروردگار نے یہ حکم دیا ہے کہ اس کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو، اور والدین کے ساتھ اچھا سلوک کرو. اگر والدین میں سے کوئی ایک یا دونوں تمہارے پاس بڑھاپے کو پہنچ جائیں تو انہیں اُف تک نہ کرو،اور نہ انہیں جھڑکو، بلکہ ان سے عزت کے ساتھ بات کیا کرو.
اسی سے معلوم ہوا کے ان کا کتنا بڑا حق بنتا ہے، اس دوران اپنے والدین کی خدمت کا بھر پور موقع ملا، خاص طور پر ان لوگوں کے لیے جو پورا پورا دن اپنی مشغولیات میں یا اپنے کاموں میں مصروف رہتے ہیں، اب پتا چلا کے والدین کی خدمت کیا ہوتی ہے.

اہل خانہ اور بیوی بچوں کے ساتھ اچھا برتاؤ
یہ بات بھی قابل توجہ ہے کہ بیوی بچوں اور گھر والوں کے ساتھ اچھا سلوک کرنے کا موقع کم ملتا تھا، کیوں کہ آدمی پورا پورا دن اپنے کام میں اور دکانوں وغیرہ میں مشغول رہتا ہے، اور اس کو اپنے بیوی بچوں کے ساتھ مل بیٹھنے کا موقع نہیں ملتا، بعض مرتبہ کئی کئی ہفتے یا مہینے گزر جاتے ہیں لیکن اپنے بچوں کو اطمینان سے دیکھنے اور ان کے ساتھ مل بیٹھ کر باتیں کرنے کا موقع نہیں ملتا، ان دنوں اپنے بچوں کی تربیت کرنے کا اچھا موقع ملا، اور ان کو کچھ پڑھانے سکھانے کا خوب موقع ملا.

گناہ
اس مدت میں لوگ اپنے اپنے گھروں میں محصور ہوگئے، جس کی وجہ سے پوری دنیا میں ظاہری گناہ کے بے شمار کام رک گئے، دنیا کے اندر ایسی فحاشی اور بری چیزیں عام ہو گئی تھیں کہ لوگ اسے کھلم کھلا کرنا بھی عیب نہیں سمجھتے تھے بلکہ اسی پر فخر کرتے تھے، بے شمار شراب خانے، جوا خانے، تھیٹر، سنیما، کلب وغیرہ ایسے چلتے کہ گویا دنیا اسی کے لیے بنائی گئی ہے، گناہ ایسے عام ہوگئے تھے کہ کسی کو کوئی پرواہ نہیں تھی، گناہ کو گناہ نہیں سمجھا جاتا تھا، نوجوان مرد اور نوجوان عورتیں شراب اور جوئے کے رسیا ہو چکے تھے، عریانیت اور فحاشی کھلے عام ہونے لگی تھی، ایسا لگتا تھا کہ پوری انسانیت خود کشی کے راستے پر تیزی کے ساتھ گامزن ہے، انسان اپنے خالق اور مالک کی عبادت کو بھول چکا ہے، اور خود اپنے آپ کو اور اپنے مستقبل کے انجام کو فراموش کرچکا ہے، اس کے اندر بھلائی اور برائی میں تمیز کرنے کی بھی صلاحیت باقی نہیں ہے، ایسا معلوم ہوتا ہے کہ انسانوں کے دل ودماغ کسی چیز میں کھوچکے ہیں، ان کو دین و آخرت کی طرف سر اٹھا کر دیکھنے کی بھی فرصت نہیں ہے، اور روح و قلب کی غذا، اخروی فلاح، إنسایت  کی خدمت اور اصلاح حال کے لیے ان کے پاس ایک لمحہ نہیں ہے، یہ صورت حال اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کی ہو بہو تھی کہ (ظهر الفساد في البر والبحر بما كسبت أيدي الناس ليذيقهم بعض الذي عملوا لعلّهم يرجعون) ترجمہ:بلائیں پھیل پڑی ہیں خشکی و تری میں لوگوں کے کرتوت سے، اس غرض سے کہ اللہ ان کے بعض اعمال کا مزہ ان کو چکھائے تاکہ وہ لوگ باز آجائیں.
لہٰذا اللہ تعالیٰ کی مشیت اور حکمت کا فیصلہ تھا کہ اللہ تعالیٰ نے پوری دنیا کو ان برے  اور فحاشی کے افعال کو روکنے یا ختم کرنے کے لیے دنیا میں اس وبائی مرض کو بھیجا، دیکھے کہ آیا انسان اب بھی ان خبیث اور گندے کاموں سے باز آتا ہے یا نہیں، لہٰذا اللہ تعالیٰ نے ایسی تدبیر سوجھی کہ لوگوں کو مجبوراً ایسے کاموں سے رکنا پڑا اور لوگ رک گئے، اللہ کے کرم سے شراب خانوں کو تالے لگ گئے، سنیما ہالوں اور کلبوں کی دیواریں تاریک ہوگئیں، جوا خانے بند ہو گئے، اللہ کا کرم ہے کہ کتنے گناہ اور برے اعمال رک گئے. 

پیسہ ہی سب کچھ نہیں ہے!! 
عام طور پر دنیا کا اصول رہا ہے کہ انسان کے پاس مال و دولت آجاتی ہے تو اسی پر بھروسہ کر بیٹھتا ہے، اور اسی کو سب کچھ سمجھنے لگتا ہے، حالاں کہ بات تو کچھ اور ہے. 
یہ بات خاص طور پر دیکھی گئی کہ لوگ کم پر إکتفا کرکے آسانی سے اپنی زندگی گزار سکتے ہیں، کتنے ہی دولت مند حضرات جو دولت اور پیسے ہی کو سب کچھ سمجھتے تھے ان کے سامنے یہ بات واضح ہوگئی کہ پیسہ ہی سب کچھ نہیں ہے، معلوم ہوا کہ پیسہ ہوتے ہوئے بھی انسان کچھ کر نہیں سکتا، دیکھئے ان ایام میں لوگوں کے پاس اچھی خاصی دولت بھی تھی اور پیسہ بھی تھا، لیکن اس کے باوجود وہ کچھ کر نہیں سکتے تھے، نہ کچھ خرید سکتے تھے، نہ کچھ اور،،، 

مثبت اثرات
  
1) زیادہ تر لوگ آسانی کے ساتھ گھر بیٹھ کر کام کر سکتے ہیں۔
2)  ہم، ہماری فیملی اور ہمارے بچے فاسٹ فوڈ کھاۓ بغیر زندہ رہ سکتے ہیں۔
3) ہم غریبوں پر بہت کچھ خرچ کر سکتے ہیں۔
4) ہم اپنی چھٹیاں بغیر گھومے بھی گزار سکتے ہیں۔
5) ہم اپنے خاندانی نظام کو صحیح سلامت رکھ سکتے ہیں۔
6) اگر ہم سمجھ داری سے اپنا پیسہ روپیہ خرچ کریں تو ہمارے پاس بہت پیسہ بچ سکتا ہے۔
7) ترقی یافتہ قومیں بھی اسی طرح کمزور ہیں جس طرح کے غریب اقوام، بلکہ اس سے بھی کئی زیادہ کمزور ہیں۔
8) کرونا وائرس کے چند مفید اثرات میں سے ایک ماحولیاتی آلودگی میں واضح کمی  ہے، لوک ڈاون کے سبب کارخانے بند ہونے، گاڑیوں اور ایندھن کے کم استعمال کی وجہ سے یہ کمی آئی، آلودگی  میں کمی ہونے کے انسانی صحت پر خاصے مفید اثرات سامنے آرہے ہیں. 
9) اس سال موسم بہار میں جہاں انسان کرونا کی وبا کے باعث اپنے گھروں تک محدود ہو کر رہ گئے تھے، وہیں جنگلی حیات کو بھی اس دوران انسانی مداخلت، آلودگی پیدا کرنے والے ذرات اور ٹریفک سے چھٹکارا ملا، سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ اس لاک ڈاؤن کے دوران جس جانور کی حیات نو کو واضح طور پر دیکھا گیا ہے وہ ہے شہد کی مکھی، دنیا بھر میں شہد کی مکھیوں کی آبادی تیزی سے کم ہو رہی ہے، اور دیگر وجوہات کے ساتھ ایک وجہ کیڑے مار ادویات کا استعمال ہے، آلودگی درختوں اور پودوں کی کمی ہے، یہ ہمیں ایک مکمل ماحولیاتی نظام مہیا کرتی ہے. 
10)ایک خبر کے مطابق بہت سے علاقوں میں ہرن اور اس طرح کے جنگلی جانور اپنی قدرتی آماجگاہ سے باہر نکل آئے، لاک ڈاؤن کے باعث انسانوں کی سرگرمیاں محدود ہونے سے جانوروں کو فطری آزادی میسر آنے لگی، جانور عام سڑکوں اور شاہراہوں پر گھومتے نظر آئے. 
11)طلبہ اور عام لوگوں کو اس مدت میں زیادہ سے زیادہ کتابوں اور علمی چیزوں سے فائدہ اٹھانے کا اچھا موقع ملا، اس کے علاوہ ذکر و اذکار اور تلاوت وغیرہ کثرت سے کرنے کا موقع ملا(عام دنوں کے مقابلے میں)
 
            تمت بالخير

Prayer Timings

Fajr فجر
Dhuhr الظهر
Asr عصر
Maghrib مغرب
Isha عشا