English   /   Kannada   /   Nawayathi

اذیت ناک حالات اور وقت احتساب

share with us

 عبدالکریم ندوی گنگولی
استاد : جامعہ ضیاء العلوم کنڈلور کرناٹک

 تاریخ عروج و زوال شاہد ہے کہ مسلمانوں کی زندگیوں میں ایسے تاریک ترین و جاں گداز حالات اور اذیت ناک و کربناک واقعات پیش آئے ہیں، جہاں انھیں اپنا وجود بھی خطرے میں نظر آنے لگا تھا، روئے زمین پر ان کی پہیم پریشانیوں اور مصیبتوں کا کوہ آتش فشاں پھوٹ پڑا تھا اور ان کی دلِ سوزاں کے خاک کو دشمنوں کے نفرت انگیز شعلے خاکستر کررہے تھے، جی ہاں! وہی مسلمان، جو روئے زمین پر خالق کائنات کی مرضیات کے نمائندے اور اس کے احکام تشریعیہ کے پابند ہیں اور عادۃ اللہ بھی رہی ہے کہ جب وہ اپنی منصبی ذمہ داریوں کو ادا نہیں کرتے اور بے اعتدالیوں کے شکار ہوکر جادۂ حق سے ہٹنے لگتے ہیں تو ان کے ارد گرد حالات کا گھیرا تنگ کردیا جاتا ہے اور زمین باوجود کشادگی کے گراں بار بن جاتی ہے تاکہ وہ اپنی بے راہ روی، غفلت شعاری کو چھوڑ کر مرضیِ حق کے تابع ہوجائیں اور کبھی یہ نامساعد حالات اس لیے بھی آتے ہیں تاکہ آزمائش کی بھٹی میں ڈال کر یہ دیکھا جائے کہ آیا وہ صبر و ثبات قدمی کے تقاضوں کو پورا کرتے ہیں یا ان کے پائے استقامت میں لغزش آجاتی ہے، ارشاد باری ہے: "وَلَنَبْلُوَنَّکُمْ بِشَیْءٍ مِنَ الْخَوْفِ وَالْجُوعِ وَنَقْصٍ مِنَ الأمْوَالِ وَالأنْفُسِ وَالثَّمَرَاتِ وَبَشِّرِ الصَّابِرِینَ الَّذِینَ إِذَا أَصَابَتْہُمْ مُصِیبَةٌ قَالُوا إِنَّا لِلَّہِ وَإِنَّا إِلَیْہِ رَاجِعُونَ" (البقرہ) اور ہم تمہارا امتحان کریں گے کسی قدر خوف سے اور فاقہ سے اور مال اور جان اور پھلوں کی کمی سے اورآپ ایسے صابرین کو بشارت سنادیجیے کہ ان پر جب کوئی مصیبت پڑتی ہے تو وہ کہتے ہیں کہ ہم تو اللہ تعالیٰ کی ہی مِلک ہیں اور ہم سب اللہ تعالیٰ ہی کے پاس جانے والے ہیں".
             اس طرح یہ حالات باعث رحمت بھی ہوتے ہیں اور غضب الٰہی کا مظہر بھی، یہ زحمت اس وقت قرار پاتے ہیں جب ان حالات کے نتیجے میں انسان کو توبہ، استغفار اور رجوع الی اللہ کی توفیق نصیب ہو؛ لیکن اگر ان حالات کے باوجود بھی ہم غفلت کی دبیز چادر میں لپٹے اپنی دنیا میں مست اور احکام الٰہیہ سے دور رہتے ہیں، تو یہ اس بات کی دلیل ہے کہ یہ حالات قہر الٰہی کا مظہر تھے، اس وقت مسلمان، انفرادی و اجتماعی اعتبار سے جن مسائل کے شکار ہیں اور بالخصوص 2014ء کے الیکشن کے بعد ہمارے ملک کی جو مجموعی صورت حال ہے، یہ ہمیں دعوت دیتی ہے کہ ہم ان حالات کو صرف ظاہری اسباب سے جوڑ کر نہ دیکھیں؛ بلکہ عملی اعتبار سے اپنا محاسبہ بھی کریں، کیونکہ کہ موجودہ وقت ہمیں حکمت عملی اور دور اندیشی کے ساتھ میدان عمل میں اترنے کا نہ صرف تقاضا کرتا ہے بلکہ ہماری کامیابی و کامرانی کا راز بھی اسی میں مضمر ہے اور یہ ذہن میں راسخ اور دل پر نقش کرلیں کہ دنیا کی کوئی دینی نظیم، جماعت، تحریک یا کوئی سیاسی و سماجی پارٹی ہماری تقدیر بنا یا بگاڑ نہیں سکتی ہے؛ بلکہ ہمیں خود اپنی بنیادوں سے مضبوط وابستگی، انابت الیٰ اللہ، جذبۂ ایمانی اور حکمت و بصیرت سے کام لینے کی ضرورت ہے.
            فی زماننا غیر معمولی حالات اور غیر متوقع نتائج کے باوجود ہمیں مایوسی کی قطعاً ضرورت نہیں ہے اور اسلام میں مایوسی کفر ہے اور مایوسی کی سیاہ آوارہ آندھیاں ان شاء اللہ رحمت خداوندی سے چھٹ جائیں گی، کیونکہ کہ قوموں کی زندگیوں میں انھیں جھنجھوڑنے اور خواب غفلت سے بیدار کرنے کے لیے اس طرح کے حالات آتے ہیں؛ البتہ اب وقت آگیا ہے کہ حالات کا صحیح تجزیہ کرکے مستقبل کا لائحۂ عمل طے کریں، لہذا ان حالات میں سب سے پہلے ہمیں رجوع الیٰ اللہ کی ضرورت ہے؛ کیوں کہ ہم مسلمانوں پر جو ناگفتہ بہ حالات آتے ہیں ان میں ہماری بے راہ روی اور خدا کی نافرمانی کو بڑا دخل ہے، سورۂ شوریٰ میں ارشاد ربانی ہے: "وَمَا أصابکم من مصیبة فبما کسبت أیدیکم ویعفو عن کثیر" "اور تم کو جو کچھ مصیبت پہنچتی ہے وہ تمہارے ہی ہاتھوں کے کیے ہوئے کاموں سے پہنچتی ہے اور بہت سے تو اللہ درگزر ہی کردیتا ہے"_اس کے علاوہ بھی متعدد آیات واحادیث میں اس حقیقت سے نقاب کشائی کی گئی ہے، اس لیے ہمیں اپنے آپ کے احتساب اور انفرادی گناہوں سے بھی توبہ کی ضرورت ہے اوراجتماعی جرائم سے بھی، آپسی اختلاف، برداری واد، چھوٹے موٹے ذاتی مفادات کے لیے اجتماعی مصالح کو بھینٹ چڑھادینا بھی اجتماعی جرائم میں شامل ہے.
             مسلمانوں کا ربط و تعلق کسی بھی مذہب و ملت کے افراد سے ہو، انہیں ہر صورت میں یہ ملحوظ رکھنا ہے کہ ہم تو مسلمان ہیں، ہماری زبان و بیان سے ہرگز کسی کو تکلیف نہ پہنچنے پائے، کیونکہ اسلام نے غیر مسلموں کے ساتھ بھی معاشرتی اور اخلاقی تعلقات کی تاکید کی ہے، ارشاد خداوندی ہے: لَا یَنْہَاکُمُ اللّٰہُ عَنِ الَّذِینَ لَمْ یُقَاتِلُوکُمْ فِی الدِّینِ وَلَمْ یُخْرِجُوْکُمْ مِنْ دِیَارِکُمْ اَنْ تَبَرُّوْہُمْ وَتُقْسِطُوْا إِلَیْہِمْ إِنَّ اللّٰہَ یُحِبُّ الْمُقْسِطِیْنَ" (سورۃالممتحنۃ 8) اللہ تعالیٰ تمہیں اس بات سے منع نہیں کرتا،کہ تم ان لوگوں کے ساتھ حسن سلوک اور عدل و انصاف کا برتاؤ کرو؛ جنہوں نے تم سے دین کے معاملے میں جنگ نہیں کی اور نہ تمہیں تمہارے گھروں سے نکالا۔ بیشک اللہ تعالیٰ عدل و انصاف کرنے والوں کو پسند کرتاہے.
              حقیقت تو یہ ہے کہ مسلمان خواہ وہ اسلامی مملکت میں ہو یا جمہوری حکومت میں، وہ ہر مقام پر محبت کے پیام کو عام کرنے والا، الفت کے پھول بکھیرنے والا، گفتار وکردار ہر لحاظ سے امن وسلامتی کا پیکر ہوتا ہے، اسے انسانیت کی فلاح وبہبود کے لئے ہی وجود بخشا گیاہے، اللہ تعالی کا ارشاد ہے: کُنْتُمْ خَیْرَ أُمَّۃٍ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ (سورۂ آل عمران 110)"تم بہترین امت ہو،جو تمام انسانوں کے فائدہ کے لئے لائی گئی ہو"__ ایک مسلمان جس طرح دوسرے مسلمان کے حق میں سلامتی کا پیکر ہوتاہے، اسی طرح وہ غیر مسلم افراد کے حق میں بھی سلامتی کا پیکر ہوتاہے، تیر وتلوار، نیزہ وہتھیار تو کجا وہ اپنی زبان سے بھی کسی کو تکلیف نہیں پہنچاتا، ارشاد باری تعالیٰ تعالی ہے: وَقُوْلُوْا لِلنَّاسِ حُسْنًا (سورۃ البقرۃ 83) لوگوں سے اچھی بات کہا کرو!.
               دوسری بات یہ ہے کہ ایسے مخالف ماحول میں اپنے آپ کو حالات کے رحم وکرم پر چھوڑ دینا ہمارے شعور ایمانی کے خلاف ہے، اس وقت سب سے زیادہ اس امر کی ضرورت ہے کہ مسلمانوں کے خلاف ماحول اور ذہن بناکر نفرت و عداوت کی جو کھائیاں پیدا کردی گئی ہیں، انھیں پاٹ کر برادران وطن تک محبت و انسانیت کا پیام پہنچایا جائے، بہ حیثیت ”خیرامت“ ہماری دینی ذمہ داری ہے کہ ہم برادران وطن سے اپنے فاصلے کم کریں، خواہ وہ آر ایس ایس اور شدت پسند ہندو تنظیموں کے کارکنان کیوں نہ ہوں، ہم ایک مستقل لائحۂ عمل کے ساتھ ان سے ملیں، براہ راست ایک ایک فرد تک پہنچنے کی کوشش کریں، یہ ہمارا کتنا بڑا اجتماعی جرم ہے کہ کائنات کی سب سے بڑی صداقت ”اسلام“ جس کے ہم امین ہیں، ملک کے اسّی کروڑ عوام تک اسے پہنچانے کے حوالے سے اب تک ہم کوئی لائحۂ عمل بھی تیار نہ کرسکے، اب وقت آگیا ہے کہ کانگریس یا بی جے پی کی تفریق کے بغیر خدا کے کنبے کا فرد اور برادروطن ہونے کے ناطے ہر ایک سے ملیں، اسلامی اخلاق اور اسلامی تعلیمات پیش کرکے ان کے ذہن ودماغ کو کفر ونفرت کی خباثتوں سے پاک کرکے دین و صداقت کی روشنی سے منور کرنے کی کوشش کریں، یہ بہت نازک اور اہم معاملہ ہے؛ لیکن ہماری ملی قیادتیں اور دینی مدارس اگر اس پر سنجیدگی سے غور کریں اور مشترکہ لائحۂ عمل طے کریں تو ایک ایسے وقت میں جب کہ پوری دنیا اسلام کی آہٹ محسوس کررہی ہے کوئی وجہ نہیں کہ ہندوستان اس عظیم نعمت سے محروم رہے، دعوتی کام کے لیے یہ ماحول انتہائی سازگار اور موزوں ہے، یورپ اور امریکہ میں مسلمانوں پر شکنجہ کسنے اوراسلام کے خلاف پروپیگنڈوں کے بعد ہی ہدایت کی روشنی کی طرف آنے والوں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے، اس کے لیے طویل المیعاد منصوبہ بنانا ہوگا اور نتائج کے لیے صبر و اخلاص کے ساتھ کام میں لگے رہنا ہوگا.

مضمون نگار کی رائے سے ادارہ کا متفق ہوناضروری نہیں۔ 

06 اکتوبر 2020 

Prayer Timings

Fajr فجر
Dhuhr الظهر
Asr عصر
Maghrib مغرب
Isha عشا