English   /   Kannada   /   Nawayathi

نحوست کے متعلق اسلامی وغیر اسلامی نظریات 

share with us

از: ۔حنظلہ ابن مشتاق دھولیوی 

متعلم عربی پنجم جامعہ ڈابھیل 

  آج امت مسلمہ کا اک بڑا المیہ یہ ہے کہ نحوست کے متعلق ہر قسم کے توہمات اور غلط عقائد معاشرے میں دن بدن پھیلتے جارہے ہیں، جس کی وجہ سے ایک مسلمان نہ صرف دنیا میں بہت سی حلال اور جائز چیزوں کو اپنے اوپر حرام کرلیتا ہے؛ بلکہ شرک کی آمیزش و تلویث سے اپنی آخرت برباد کردیتا ہے، نحوست کا یہ تصور مشرکانہ اور غیر اسلامی تصورات و خیالات کی پیداوار ہے؛ ورنہ مذہبِ اسلام نے ہمیں یہ تعلیم دی ہے کہ نحوست و بے برکتی اور آفات و مصائب آنے کا تعلق ماہ وسال,لیل ونہار,عددورنگ,حجروشجر, اور کسی مخصوص وقت اور مخلوق کے ساتھ نہیں؛ بلکہ نحوست و ناکامی کا تعلق کفر و شرک، بدعت ومعصیت اور فسق وفجور کے ساتھ ہے. 
  گذری ہوئی قوموں کی تاریخ ہمیں یہ درس دیتی ہے کہ اللہ تعالی کے قہرو غضب اور اس کی لعنت کا موجب انسان کی بد اعمالیاں اور نافرمانیاں تھیں 
مگر افسوس صد افسوس! آئے دن اسلامی تعلیمات سے دوری اور مغربی تہذیب کی طرف بڑھتے قدم مسلمانوں کے عقیدۂ توحید کو کمزور کرتے جارہے ہیں؛ ورنہ کل تک مصیبتوں کا پہاڑ بھی ٹوٹ جائے تو توحید پرست یہی کہتا تھا کہ" كل من عند الله "کہ سب کچھ اللہ کی طرف سے ہیں اور پھر اک ستم یہ بھی ہوا کہ مختلف سیاسی و معاشی اور دیگر مسرت وغم کی تقریبات میں غیر اسلامی تصورات و  نظریات سے اس قدر  سابقہ پڑتارہا کہ پتہ ہی نہ چلا  کب ہم باطل خیالات کے حامی اور جاہلانہ تصورات کے عادی  بن گئے 
  جی ہاں! یہی وجہ ہے کہ آج لبادۂ اسلام زیب تن کرنے کے باوجود بھی ایک مسلمان اپنے قدموں تلے آنے والی چیزوں سے خوفزدہ ہوجاتا ہے، بلی راستہ کاٹ دے تو سمجھتا ہے کہ اب نقصان  ہوگا، صبح سویرے کوا دیکھنے کو برا جانتا ہے، ایسے بہت سارے باطل خیالات ہیں جنہیں وہ نحوست کے اسباب گردانتا ہے
جیسے (۱)رات کے وقت  جھاڑو لگانے سے غریبی کا آنا
(۲)الو بولے تو سمجھنا کہ مہمان آنے والے ہیں 
(۳)منگل کے دن بال اور ناخن کانٹنے کو معیوب سمجھنا 
(۴)نئی بہو کے آنے بعد گھر میں کسی کا انتقال ہوجائے تو بہو کو منحوس سمجھنا 
(۵)کوئی نقصان ہو جائے تو اس دن یا اس ہفتہ کو منحوس سمجھنا
(۶)صبح صبح کسی دشمن پر نظر پڑجائے تو اس دن کو منحوس تصور کرنا
 
ماہ صفر کو ہی لے لیجیے کہ اس مہینے کے حوالے سے لوگوں میں بہت سی غلط فہمیاں پائی جاتی ہیں، گویا توہم پرستی اور بد شگونی کا ایک بہت بڑا باب اس مہینے میں کھلتا ہے اور یہ آج سے نہیں؛ بلکہ زمانۂ جاہلیت میں بھی اہل عرب اس مہینے کو منحوس سمجھتے اور بد شگون خیال کرتے تھے اور بڑے عجیب و غریب قسم کے خیالات رکھتے تھے 
بڑے افسوس کی بات ہے کہ  آج بھی زمانۂ جاہلیت کے وہ فاسد خیالات اور باطل عقائد ہمارے معاشرے میں نسل در نسل چلے آرہے ہیں، حالانکہ ان کا دینِ اسلام سے کوئی تعلق نہیں، جیسے اس مہینے میں خوشی کی تقریبات شادی بیاہ،لڑکی کی رخصتی،اور عقیقہ وغیرہ سے مکمل احتراز کرنا،صرف اسی مہینے میں جنات سے حفاظت کے خاطر اعمال کرنا،صندوقوں اور در و دیوار کو ڈنڈے مارنا، چنے ابال کر محلے میں بانٹنا؛ تاکہ بلائیں ٹل جائیں اور رزق میں ترقی ہو،اس مہینے کو مردوں پر زیادہ بھاری تصور کرناوغیرہ
 
ماہِ صفر کی دو بڑی بدعتیں 

(۱) تیرہ تیزی کی بدعت: بعض لوگوں کا یہ ماننا ہے کہ ماہ صفر  کے ابتدائی تیرہ دن نہایت منحوس ہوتے ہیں؛ کیونکہ ان دنوں میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سخت بیمار ہوگئے تھے اور یہ بیماری اسی نحوست کا اثر تھی؛ اسی لیے بعض علاقوں میں لوگ تیرہ صفر کو چنے ابال کر تقسیم کرتے نظر آتے ہیں؛ تاکہ بلائیں ٹل جائیں 
(۲)آخری چہار شنبہ (بدھ) کی بدعت : لوگ اس دن خوشیاں مناتے ہیں،مٹھائیاں تقسیم کرتے ہیں،سیر و تفریح کے لیے جاتے ہیں اور بعض جگہ تو اس دن روزہ رکھا جاتا ہے اور ایک خاص طریقے سے نماز بھی پڑھی جاتی ہے اور وجہ یہ بیان کی جاتی ہے کہ اس دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو  بیماری سے شفا ملی، اسی طرح بہت سے لوگ اس دن تعویذ بناکر مصیبتوں اور بیماریوں سے بچنے کی غرض سے پہنتے ہیں. 

  ان دونوں چیزوں کا حقیقت سے دور دور تک کوئی واسطہ و رشتہ نہیں ہے؛ اس لیے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے مرض وفات میں جو تیرہ دن بیمار رہے وہ صفر کے ابتدائی تیرہ دن نہیں تھے؛ بلکہ وہ تو صفر کے آخری اور ربیع الاول کے ابتدائی ایام تھے 
معلوم ہوا کہ  صفر کے اوائل کو منحوس سمجھنا اور آخری بدھ کو خوشیاں منانا تاریخی اعتبار سے بھی  درست نہیں ہے؛ بلکہ حقیقت یہ ہے کہ آخری بدھ سے تو مرض وفات کی شدت کا آغاز ہوا تھا، جس پر یہودیوں نے عداوت و شقاوت اور اپنے کینہ و بغض کی وجہ سے خوشی کا اظہار کیا تھا۔اور یہ گستاخی ایرانی مجوسیوں سے منتقل ہوکر ہندوستان آئی اور یہاں کے بے دین بادشاہوں نے اسے پروان چڑھایا، آپ ہی فیصلہ کیجیے کہ  اہلِ اسلام کا بھی خوشی مناناکس قدر بے غیرتی اور بے ادبی کی بات ہے

ماہ صفر کے متعلق من گھڑت روایات

   ماہِ صفر کے متعلق نحوست والا عقیدہ پھیلانے کے خاطر دشمنانِ اسلام نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف جھوٹی روایات منسوب کرنے سے بھی دریغ نہیں کیا،   ایسی ہی ایک من گھڑت حدیث ہے: "من بشرني بخروج صفر بشرته بالجنة" کہ جو شخص مجھے صفر کے مہینے کے ختم ہونے کی  خوشخبری دے گا میں اسے جنت کی خوشخبری دوں گا. 
یہی وہ روایت ہے جس سے استدلال کیا جاتا ہے کہ ماہ صفر منحوس ہے؛ اسی لیے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس مہینے کے صحیح سلامت گزرنے پر جنت کی خوشخبری دی ہے. 
لیکن ہر مسلمان کو جان لینا چاہیے کہ  کبار ائمۂ حدیث  نے اس حدیث کو موضوع اور من گھڑت قرار دیا ہے، جن میں ملاعلی قاری،علامہ عجلونی ،علامہ شوکانی،اور علامہ طاہر پٹنی رحمهم اللہ وغیرہم شامل ہیں 
 
  ماہ صفر کے منحوس ہونے کی اس من گھڑت روایت کے مقابلے میں بے شمار ایسی معتبر احادیث موجود ہیں جو ماہ صفر کی نحوست کی  نفی کرتی ہیں، صحیح حدیثوں کے مقابلے میں ایک من گھڑت و موضوع  روایت پر عمل کرنا خلاف  عقل ہے. 
اور اگر بالفرض اس روایت کو صحیح تسلیم کرکے الفاظ پر غور کیا جائے تو بھی ان الفاظ سے ماہ صفر کی نحوست ثابت نہیں ہوتی بلکہ اس کا صحیح مطلب اور مصداق یہ ہوگا کہ سورہ نصر میں  آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کا اشارہ مل چکا تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم موت کے بعد اپنے خالق ومالک کی زیارت کے مشتاق تھے اس لئے ربیع الاول کے شروع ہونے اور صفر کے گذر جانے کی خبر کا آپ کو انتظار تھا  اور اسی خبر لانے پر آپ نے بشارت سنائی تھی،  چنانچہ تصوف کی بعض کتابوں میں اسی مطلب کو پیش نظر رکھتے ہوئے اس حدیث کو ذکر کیا ہے. 
    ماہ صفر سے متعلق ہمارا عقیدہ بس اتنا ہے کہ اس مہینے میں شریعتِ مطہرہ نے نہ تو کوئی خاص عبادت مقرر کی ہے اور نہ اس مہینے میں کوئی خاص توہم پرستی کی تعلیم دی ہے، اور صرف اسی ایک مہینے پر کیا موقوف ہے؛ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نیتو  توہم پرستی پر مبنی تمام عقائد و نظریات کو یکسر ختم فرما دیا ہے؛ بالخصوص ماہ صفر کے بارے میں تو ارشاد فرمایا "لا صفر " (صحیح بخاری۔۵۷۵۷)یعنی صفر کے مہینے کو منحوس سمجھنے کی کوئی حقیقت نہیں. 
جی ہاں! اسلام میں نحوست کا کوئی تصور نہیں، اسلام میں اگر کوئی نحوست اور بد شگونی کی چیز ہے تو وہ انسان کی اپنی بد اعمالیاں،فسق وفجور، ناچ گانا،فحاشی و عریانی اور خدا کے احکام کی نافرمانیاں ہیں جو گھر گھر میں ہورہی ہیں، اگر ہم واقعی نحوست سے بچنا چاہتے ہیں تو خدا کے قہر کو دعوت دینے والے کاموں سے خود بھی بچیں اور اپنیمعاشرے کو بھی بچائیں 
خدا تمام باطل تصورات و نظریات  سے امت مسلمہ کی حفاظت فرمائیں۔ آمین

مراجع۔ماہ صفر کی خرافات،ماہ صفر المظفر اسلام کی نظر میں،صفر کا مہینہ اور بد شگونی، ماہ صفر اور جاہلانہ خرافات

Prayer Timings

Fajr فجر
Dhuhr الظهر
Asr عصر
Maghrib مغرب
Isha عشا