English   /   Kannada   /   Nawayathi

بابری مسجد : وہی قاتل وہی منصف ، عدالتی فیصلہ پر اسد الدین اویسی کا سخت رد عمل

share with us

:30ستمبر 2020(فکرو خبر/ذرائع)عدالت کے اس فیصلے کے بعد اے ایم آئی ایم آئی کے سربراہ اسد الدین اویسی نے اپنے ٹویٹر اکاؤنٹ پر ایک شیر ٹوئٹ کیا، جسے اس فیصلے سے منسلک کر کے دیکھا جا رہا ہے۔ اویسی نے لکھا ’’وہی قاتل، وہی منصف، عدالت اس کی وہ شاہد... بہت سے فیصلوں میں اب طرف داری بھی ہوتی ہے۔‘‘

سی بی ائی کی کورٹ کے  فیصلہ کو  ہندوستانی تاریخ کا سیادہ دن قراردیتے ہوئے اویسی نے کہا کہ اڈوانی کی رتھ یاترا جہاں کہیں بھی گئی وہاں خونریزی ہوئی معصوموں کا قتل ہوا، خاندان اجڑے اور برباد ہوئے ، اور دنیا جانتی ہے کہ کس طرح بابری مسجد کی شہادت کے بعد بی جےپی کے سنیئر رہنما مٹھائی بانٹ رہے تھے اور خوشیاں منا رہے تھے ، دنیا جا نتی ہے کہ اوما بھارتی نے یہ الفاظ کہے تھے کہ ایک دھکا اور دو بابری مسجد توڑ دو لیکن آج انہیں چھوڑ دیاگیا

 عدالت کے فیصلہ کے بعد اویسی نے سوال پوچھا کہ کیا مسجد جادو سے گرائی گئی یا جادو کے ذریعہ وہاں مجسمہ رکھوائے گئے ، انہوں نے سوال کیا کہ آخر کس نے مسجد توڑدی تھی ، مجھے اس وقت شرم آتی تھی جب مسجد شہید کر دی گئی اور پھر آج اس طرح کا فیصلہ سنایا گیا ہے ،

حیدرآباد کے رکن پارلیمنٹ کا مزید کہنا تھا کہ اس معاملے پر انصاف نہیں کیا گیا ہے۔ وہ تمام افراد ، جنھوں نے  یہ جرم کیا ، آج انہیں بری کردیا گیا۔ مجھے نہیں معلوم کہ سی بی آئی اس فیصلہ کے خلاف  اپیل کرے گی یا نہیں اور اگر کرتی ہے تو  اس میں کتنا وقت لگے گا۔ لیکن انہیں اپیل کرنی چاہئے

ہم بتادیں کہ خصوصی عدالت کے جج ایس. یادو نے فیصلے میں کہا تھا کہ بابری مسجد مسمار کرنے کا واقعہ پہلے سے منصوبہ بند نہیں تھا۔ یہ ایک حادثاتی واقعہ تھا۔ انہوں نے کہا کہ ملزم کے خلاف کوئی مضبوط ثبوت نہیں ملا ، بجائے اس کے کہ ملزم نے حوثی ہجوم کو روکنے کی کوشش کی۔

 

 

 

 

Prayer Timings

Fajr فجر
Dhuhr الظهر
Asr عصر
Maghrib مغرب
Isha عشا