English   /   Kannada   /   Nawayathi

 جمعیۃعلماء مراٹھواڑہ کے زیر اہتمام ہنگولی میں تعزیتی اجلاس...........مولانا ناظر احمد خان ؒ کی ہمہ جہت شخصیت کو خراج عقیدت پیش کیا گیا

share with us

:28ستمبر 2020(فکرو خبر/ذرائع)مولانا ناظر احمد خان ملی اعلیٰ صلاحیتوں کے مالک،ہمہ جہت شخصیت،مختلف شعبوں اور تحریکوں کے محرک تھے۔آپ کے اچانک انتقال سے ہم ایک عظیم رفیق،بہترین رہنما اور عمدہ صلاحیتوں کے مالک اعلیٰ انسان کو کھو دیا۔ان خیالات کا اظہار مفتی مرزا کلیم بیگ ندوی صدر جمعیۃعلماء علاقہ مراٹھواڑہ نے مسجد مستان شاہ نگر ہنگولی میں منعقدہ تعزیتی اجلاس میں کیا۔

مفتی کلیم بیگ نے اپنے صدارتی خطاب میں کہا کہمولانا ناظر احمد خان ملی کے اچانک وصال سے تمام اہل علم اور دینی حلقوں میں اضطراب و بے چینی محسوس کی گئی،اور اسے ملت اسلامیہ کے لئے بڑے نقصان سے تعبیر کیا گیا۔مولانا مرحوم مسلمانوں کی قدیم جماعت جمعیۃعلماء ہند اور اس کے اکابر سے بہت عقیدت رکھتے تھے،آپ جمعیۃعلماء علاقہ مراٹھواڑہ کے نائب صدر کے عہدے پر فائز تھے۔

اس تعزیتی اجلاس میں جمعیۃعلماء علاقہ مراٹھواڑہ کے اکابر اور مقامی علماء کرام،سیاسی و سماجی شخصیات نے اپنے تاثرات کااظہار کیا۔ابتدائی کلمات میں نہال بھائی کونسلر نے مختصر انداز میں مولانا کے دینی و تعلیمی خدمات کو خراج تحسین پیش کیا،مولانا محفوظ الرحمٰن صاحب فاروقی رکن آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ نے مرحوم سے اپنی طویل رفاقت کا تذکرہ کیا اور مرحوم کے مخلصانہ و مجاہدانہ سر گرمیوں کو سلام پیش کیا۔

جناب خلیل صاحب بیلدار نے ملت کے تئیں مولانا کی طویل اور کامیاب سیاسی جد و جہد کا تذکرہ کیا۔مولانا جنید آزاد قاسمی رکن آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ نے نہایت جامع انداز میں مولانا کی تعلیمی و ملی میدان میں خدمات کا اعتراف کیا۔مولانا عیسی خان کاشفی خازن جمعیۃعلماء مراٹھواڑہ نے کہا کہ مولانا اپنے چھوٹوں کے ساتھ بھی بڑا ناصحانہ و مشفقانہ برتاؤ کرتے تھے اور ہمارے معاشرہ کا یہ المیہ ہے کہ ہم اپنے بڑوں کی ان کی زندگی میں قدر نہیں کرتے ہیں ان کے رخصت ہوجانے کے بعد انہیں ان کے کاموں سے یاد کرتے ہیں۔مولانا نظام الدین صاحب ملی اورنگ آباد نے مولانا مرحوم کی علاقہ مراٹھواڑہ میں طویل تعلیمی و فلاحی کاموں کو خراج عقیدت خوبصورت انداز میں پیش کیا،اور کہا ان کی زندگی کے خوبصورت گوشے ہمارے لئے مشعل راہ ہیں۔مولانا سید نصر اللہ حسینی سہیل ندوی نے مولانا ممدوح کی ملت اسلامیہ کے لئے مختلف الجہات کاوشوں کا تذکرہ کیا،اور کہا کہ ان کی یہ کاوشیں ناقابل فراموش ہیں میرا ان سے جمعیۃعلماء ہند کے پلیٹ فارم سے تعارف ہوا۔جمعیۃعلماء کے لئے ان کی انتھک جد و جہد اور سب کو ساتھ لیکر چلنے کا سلیقہ و جذبہ اور جمعیۃ کے کاز و کام کو مضبوط و منضبط کرنے کے جذبات ہمارے لئے رہنما خطوط ہیں۔ہم لوگ صرف ان تذکرہ نہ کریں بلکہ ان کی متروکہ دعوتی،تنظیمی،سیاسی و سماجی سرگرمیوں کو اپنے عملی میدان میں اپنانے کی کوشش کریں،یہی مرحوم کے حق میں صحیح معنوں میں خراج تحسین ہوگا۔مولانا شفیق ملی قاضی شریعت ہنگولی نے کہا کہ مولانا کے تلامذہ جن کی انہوں نے بڑی جانفشانی سے تربیت کی وہ آج دینی حلقوں میں ممتاز مقام رکھتے ہیں،وہ ان کے لئے ذخیرہ آخرت ہیں، مولانا نے کسب معاش کے لئے تجارت کا شعبہ اختیار کیا لیکن اس کی وجہ سے ادارہ کے فرض منصبی سے غافل نہیں ہوئے۔ہنگولی ضلع کی بزرگ شخصیت حضرت مولانا محمد مسعود الرحمٰن صاحب فاروقی ملی اشرفی مہتمم مدرسہ کفایت العلوم لمبالہ نے مولانا مرحوم کے اچانک وصال پر بڑے افسوس و غم کا اظہا کیا اور موت کے عنوان سے سیر حاصل بیان کیا اور کہا کہ موت کی اس حقیقت اذا جاء اجلہا لا یستاخرون الخ  کا ہمیں استحضار رہنا چاہئے۔حافظ اقبال انصاری اورنگ آباد نے اپنے تعزیتی تاثرات میں کہا کہ مولانا ناظر احمد خان صاحب ہمارے قدیم ترین رفیق تھے،ان کے اعلیٰ اوصاف میں بے باکی، بے خوفی، صحیح کام کرنے اور اس کو انجام تک پہونچانے کا جذبہ کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا تھا،ان کی اچانک وفات ہم سب کے لئے خصوصاً ناقابل تلافی نقصان ہے۔

قاری عبد الرشید حمیدی صاحب ناظم تنظیم جمعیۃعلماء مراٹھواڑہ نے تعزیتی اجلاس کی بہترین انداز میں نظامت کے فرائض انجام دیئے،مولانا عجاز خان بیتی صدر جمعیۃعلماء ضلع ہنگولی نے تمام شرکاء جلسہ کا شکریہ ادا کیا اس موقع پر انہوں نے مولانا حلیم اللہ قاسمی صاحب جنرل سکریٹری جمعیۃعلماء مہاراشٹر،لاتور کے صدر مولانا محمد اسرائیل صاحب،عثمان آباد کے صدرحافظ ناصر،ناندیڑ کے سکریٹری مولانا ایوب قاسمی اور ان کے رفقاء کے ارسال کردہ تحریری تعزیتی پیغام کو پڑھ کر سنایا۔اس جلسہ میں اورنگ آباد،جالنہ،پربھنی،جنتور،ہنگولی وغیرہ کے علماء کرام وذمہ داران نے بڑی تعداد میں شرکت کی،دیگر شرکاء میں حافظ عیسیٰ پربھنی،مصطفی خان صاحب خازن جمعیۃعلماء اورنگ آباد،ہنگولی کے مفتی عبد القدیر،حافظ محمد سالارخان کاشفی،حافظ خواجہ صاحب کمالی،مولانا جاوید،حافظ شیخ احمد،حافظ عبد الخالق،مولانا عمران صاحب،مولانا مسرت ملی،حافظ عبد الحکیم،مولانا عقیل ہاشمی،حاظ انیس،حافظ عبد الباسط وغیرہ تھے۔صدر جلسہ کی دعاء پر اس نشست کا اختتام عمل میں آیا۔ 

 

 

Prayer Timings

Fajr فجر
Dhuhr الظهر
Asr عصر
Maghrib مغرب
Isha عشا