English   /   Kannada   /   Nawayathi

کشمیر معاملہ پر سپریم کورٹ میں ہوئی سماعت ، قومی سلامتی کے ساتھ عام ذندگی کو یقینی بنانے کی سرکار کوہدایت

share with us

نئی دہلی :16ستمبر2019(فکروخبر/ذرائع)بھارت کی عدالت عظمی نے دفعہ 370 کی منسوخی پر دائر کی جانے والی عرضیوں پر سماعت کے دوران کہا کہ مرکزی حکومت اور جموں و کشمیر انتظامیہ معمولات زندگی کو یقینی کو بنائیں۔

سپریم کورٹ نے کہا کہ مرکزی حکومت اور جموں و کشمیر انتظامیہ وادی میں قومی سلامتی کو دھیان رکھنے کے ساتھ ساتھ معمولات زندگی کی بحالی کو بھی یقینی بنائیں۔

سپریم کورٹ نے مرکزی حکومت سے جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کو چیلنج کی جانے والی عرضیوں پر سماعت کرتے ہوئے ایک حلف نامہ داخل کرنے کو کہا ہے۔

سپریم کورٹ میں اب اس معاملے میں آئندہ سماعت 30 ستمبر کو ہوگی۔

کشمیر ٹائمس ایکسپریس کی ایڈیٹر نے اپنی عرضی میں کہا تھا کہ وادی میں عوام کو طبی سہولیات فراہم نہیں کی جا رہی ہے۔ اس پر سپریم کورٹ نے جواب دیتے ہوئے اٹارنی جنرل آف انڈیا کے کے وینو گوپال نے کہا کہ ریاست بھر میں ساڑھے پانچ لاکھ سے زائد لوگوں نے طبی سہولیات کے لیے عوامی ہسپتالوں کا رخ کیا ہے اور انہوں نے انورادھا بھاسن کو دعوے کو مسترد کر دیا۔

کشمیر ٹائمس ایکسپریس کی ایڈیٹر نے اپنی عرضی پر کہا تھا کہ حکومت اخبارات کی پبلشنگ پر پابندی عائد کر دی ہے۔

اٹارنی جنرل کے کے وینو گوپال نے اس دعوے کی مخالفت کی اور بھارتی حکومت کی طرف سے جواب دیا ہے کہ ریاست بھر میں تمام اخبارات شائع ہو رہے ہیں اور بہت سارے ٹی وی چینل بھی نشر کیے جا رہے ہیں۔

اٹارنی جنرل کے کے وینو گوپال نے سپریم کورٹ کو بتایا کہ ریاست میں میڈیا کو لینڈ سمیت مواصلات کی دوسری سہولیات بھی فراہم کی جا رہی ہے۔

Prayer Timings

Fajr فجر
Dhuhr الظهر
Asr عصر
Maghrib مغرب
Isha عشا