English   /   Kannada   /   Nawayathi

شیموگہ میں وی ایچ پی اور بجرنگ دل کا احتجاج، جانوروں کی نقل وحمل او ربیف کی دوکانوں پر پابندی کیا مطالبہ

share with us

شیموگہ 18/ جون 2019(فکروخبر /ذرائع) گؤ کشی، جانوروں کی نقل وحمل پر پابندی اور بیف کی دوکانوں کو بند کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے بجرنگ دل اور وی ایچ پی کے رضا کاروں نے مئیر گنیش لتا کو میمورنڈم پیش کیا۔ اس وقع پر ویشوا ہندو پریشد صدر رمیش بابو نے کہا کہ موجودہ غیر قانونی مذبح خانوں کو بند کرنے کا مطالبہ کئی سالوں سے کیا جارہا ہے لیکن اس کے خلاف کسی طرح کی کارروائی نہیں کی جارہی ہے۔ کھلے عام گؤ کشی کی جارہی ہے۔ انہو ں نے میئر سے سوال کیا کہ آخر کارروائی کرنے میں کیوں لاپرواہی برتی جارہی ہے؟ انہو ں نے مطالبہ کیا کہ بیف کی دوکانوں کو بند کرنے کے لیے پولیس، محکمہئ صحت، کارپوریشن اور وٹر نری کے عہدیداروں پر مشتمل ایک ٹیم تشکیل دی جائے۔ اس موقع پر مئیر لتا گنیش نے کہا کہ بیف کی دوکانوں کو بند کرنے کے معاملہ پر کارپوریشن کے عام اجلاس میں بحث کی گئی ہے۔ شہر کے چند محلوں میں جاکر بیف کی دوکانداروں کو وارننگ دی گئی ہیں۔ اس موقع پر سکریٹری ایم آر نٹراج، کے جی جگدیش چندارہ راجیش گوڑا وغیرہ موجود تھے۔ تاہم گؤ سنگر نادلانے کارپوریشن دفتر کے روبرو احتجاج سے خظاب کرتے ہوئے بجرنگ دل سنچالک دیند یال نے کہا کہ احتجاج کا مقصد گائے کا تحفظ او ربیف کی دوکانوں کو بند کرنا ہے۔ ہندو دھرم میں گائے کی پوجا کی جاتی ہے اور ماں کا درجہ دیا گیا ہے۔ گؤ کشی سے ہندوؤں کے مذہبی جذبات مجروح ہوتے ہیں۔ کارپوریشن کی حدود میں تقریباً 65بیف کی دوکانیں ہیں جہاں روزانہ سینکڑوں جانوروں کو ذبح کیا جاتا ہے۔ یہ لوگ گائے کا گوشت کھاتے ہیں، ہم ان کی پوجا کرتے ہیں۔ حکومت کا کہنا ہے کہ گؤ کشی پر پابندی سے اقلیتوں کے جذبات کو ٹھیس پہنچے گی۔انہوں نے سوال کیا کہ پھر اکثریتی طبقہ کے لوگوں کے جذبات کی کوئی قدر نہیں ہے؟ انہوں نے الزام عائد کیا کہ کارپوریشن کی حدود میں ایک طرف گؤکشی تو دوسری طرح مسلمانوں کا غنڈہ راج چل رہا ہے۔ انہوں نے گاندھی بازار کے فٹ پاتھ پر ہاتھ گاڑیوں کے ذریعہ پھل فروش کرنے والوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پیشانی پر کم کم رکھنے والے اور ٹوپی پہننے والوں کو ایک ہی قانون ہونا چاہیے۔ فٹ پاتھ پر ہاتھ گاڑیوں کے ذریعہ بیوپار کی ہماری مخالفت نہیں ہے۔ ایک جگہ پر کھڑے ہوکر بیوپار کرنے کی مخالفت کی گئی ہے۔ انہو ں نے الزام عائد کیا کہ یہاں ہندو لڑکیوں سے چھیڑ چھاڑ کیا کرتے تھے اور سڑے ہوئے پھل پھینکا کرتے تھے اور ہندو لڑکیوں کو غلط نگاہ سے دیکھا کرتے تھے۔ اس لیے بجرنگ دل نے اس کے خلاف آواز اٹھائی۔ حال ہی میں بی ایچ روڈ پر پولیس نے چار ہاتھ گاڑیوں کو ہٹھانے کی کوشش کی تو کیا حالات پیدا ہوگئے، خود انہو ں نے ہی پھلوں کو سڑک پر پھینک کر پولیس پر الزام لگایا اور پولیس کے خلاف ہی کھڑے ہوگئے۔ انہو ں نے پی ایف آئی اور ایس ڈی پی آئی کو ملک مخالفت تنظیم قرار دیتے ہوئے کہا کہ ونکٹیشورا سویٹ ہاؤس کے قریب فٹ پاتھ پر تالوں کی چابی بنانے والوں نے تین ہندو لڑکوں پر حملہ کیا یہ باپ کی جگہ نہیں بلکہ فٹ پاتھ کی اراضی ہے۔ انہو ں نے جئے نگر عید گاہ میدان کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ یہ اراضی کا رپوریشن کی ہے، مسلمانو ں کو سال میں صرف دو مرتبہ نماز پڑھنے کی اجازت دی گئی ہے۔ اس جگہ پر ایک مسلمان پھلوں کی ددکان لگایا ہوا ہے۔ اس کو بجرنگ دل ہٹانے کا کام کرے گی، انہو ں نے الزام عائد کیا کہ شہر کے کئی محلوں میں غنڈہ مسلمانو ں کا راج چل رہا ہے، ان کو کوئی پوچھنے والا نہیں ہے۔ نئے برج کے کنارے جو دیوار تعمیر کی گئی ہے اس کے قریب فٹ پاتھ کی جگہ کومسلمانوں نے لاری اسٹینڈ اور گجری کے دوکانوں میں تبدیل کردیا ہے، اس موقع پر صدر پرشتم، رامو، جگدیش، ناگیش، مئیر اور ڈپٹی مئیر وغیرہ موجود تھے۔ 
 

Prayer Timings

Fajr فجر
Dhuhr الظهر
Asr عصر
Maghrib مغرب
Isha عشا