English   /   Kannada   /   Nawayathi

رام جنم بھومی مقدمہ نچلی عدالت نے چار ملزمین کو عمر قید اور ایک ملزم کو باعزت بری کیا

share with us

 


جمعیۃ علماء نچلی عدالت کے فیصلہ کو ہائی کورٹ میں چیلنج کریگی، گلزار اعظمی


ممبئی :18جون2019(فکروخبر/ذرائع)14 سالوں کے طویل انتظار کے بعدآج الہ آباد کی خصوصی عدالت نے رام جنم بھومی (ایودھیا دہشت گردانہ حملہ) معاملے میں اپنا فیصلہ سنایا اور پانچ میں سے ایک جانب جہاں چار ملزمین کو عمر قید کی سزا دی وہیں ناکافی ثبوت وشواہد کی بنیاد پر ایک ملزم کو باعزت بری کردیا۔
لزمین کو قانونی امداد فراہم کرنے والی تنظیم جمعیۃ علماء مہاراشٹر (ارشد مدنی) قانونی امداد کمیٹی کے سربراہ گلزار اعظمی نے ممبئی میں اخبار نویسوں کو بتایا کہ خصوص عدالت کے ایڈیشنل سیشن جج دنیش چند نے آج دو پہر بعد سخت سیکوریٹی بندوبست میں اپنا فیصلہ پڑھ کر سنایا جس کے مطابق چار ملزمین ڈاکٹر محمد عرفان، محمد نسیم،محمد آصف اور شکیل احمد کو تعزیرا ت ہند کی دفعات 302 کے تحت عمر قید کی سزا سنائی ہے جبکہ محمد عزیز محمد بشیر نامی شخص کو ناکافی ثبوت وشواہد کی بنیاد پر باعزت بری کیئے جانے کے احکامات جاری کیئے۔
گلزار اعظمی نے کہا کہ گذشتہ ساڑھے تین سالوں سے جمعیۃ علماء لیگل سیل ملزمین کے مقدمات کی پیروی کررہی تھی اور ملزمین کے دفاع میں ایڈوکیٹ شمش الحسن، ایڈوکیٹ ایس صدیقی، ایڈوکیٹ عارف علی، ایڈوکیٹ فرقان خان و دیگر کو مقرر کیا گیا تھا۔ آج بھی فیصلہ کے وقت متذکرہ وکلاء عدالت میں موجود تھے جنہوں نے عدالت سے ملزمین کو کم سے کم سزا دینے کی گذارش کی تھی۔
انہوں نے کہا کہ شروعاتی دنوں میں ملزمین نے مقدمہ اپنے طور پر لڑا تھا لیکن ڈاکٹر عرفان کے جیل سے  حضرت مولانا سید ارشد مدنی کے نا م روانہ کیئے گئے خطوط جس میں انہوں نے جمعیۃ علماء سے قانونی امداد طلب کی تھی پر کارروائی کرتے ہو ئے ملزمین قانونی امداد فراہم کی گئی تھی ان کے مقدمہ کے جلد فیصل ہونے کے لیئے سپریم کورٹ سے رجوع کیا گیا تھا۔
گلزار اعظمی نے کہا کہ نچلی عدالت کا فیصلہ آنے کے بعد صدر جمعیۃ علماء ہند مولانا سید ارشد مدنی نے جمعیۃ علماء لیگل سیل کو حکم دیا کہ نچلی عدالت کے فیصلہ کو الہ آباد ہائی کورٹ میں چیلنج کیا جائے نیز ملزمین کی ضمانت پر رہائی کے لیئے بھی کوشش کی جائے۔
واضح رہے کہ سال 2005 میں بابری مسجد رام جنم بھومی کامپلیکس پر رونما ہونے والے دہشت گردانہ حملہ میں متعددلوگ ہلاک ہوئے تھے جس میں مبینہ طور پر جیش محمد نامی ممنوع تنظیم کے ارکان بھی شامل تھے۔ حملہ کے بعد تحقیقاتی دستوں نے متذکرہ پانچ ملزمین کو گرفتار کیا تھا اور ان کے خلاف تعزایت ہند کی مختلف دفعات کے تحت مقدمہ قائم کیا تھا۔
اس معاملے میں کل 65 سرکاری گواہوں نے اپنے بیانات قلمبند کرائے لیکن عدالت فیصلہ دینے میں تاخیر کررہی تھی جس کے خلاف سپریم کورٹ سے رجوع کیا گیا تھا۔ جمعیۃ علما ء کے ذریعہ سپریم کورٹ سے رجوع ہونے کے بعد آج خصوصی عدالت نے اپنا فیصلہ سنا دیا۔

جمعیۃ علماء مہاراشٹر 

Prayer Timings

Fajr فجر
Dhuhr الظهر
Asr عصر
Maghrib مغرب
Isha عشا