English   /   Kannada   /   Nawayathi

شہریت ترمیمی بل اور ملک بھر میں این آر سی کی توسیع کو شکست دیں  پاپولر فرنٹ کی عوام سے اپیل

share with us

 


نئی دہلی:18جون2019(فکروخبر/ذرائع)پاپولر فرنٹ آف انڈیا کی قومی مجلس عاملہ کے اجلاس میں تمام شہریوں اور پارٹیوں سے یہ اپیل کی گئی ہے کہ وہ متنازعہ شہریت ترمیمی بل (سی اے بی) کے دوبارہ نفاذ کی کوششوں کو شکست دیں اور آسام میں نافذ شہریوں کے قومی رجسٹر (این آر سی) کے عمل کو ملک کے ہر حصے میں نافذ کرنے کے ارادوں کو ناکام بنائیں۔
مرکزی حکومت کے ذریعہ پیش کیا گیا شہریت ترمیمی بل واضح طور پر مسلمانوں کے ساتھ امتیاز برتنے والا ہے۔ چونکہ یہ بل اسلام کے علاوہ بقیہ تمام مذاہب کے پیروکاروں کو ہندوستانی شہریت حاصل کرنے کی اجازت دیتا ہے، اس لیے یہ بل سیکولرزم اور جمہوریت کے آئینی اصولوں کو کمزور کرنے والا اور مسلمانوں کو اجنبی قرار دینے والا ایک نہایت ہی گھناؤنا سرکاری قدم ہے۔

آسام میں این آر سی کی آخری تاریخ میں توسیع کی جائے
اجلاس نے سپریم کورٹ سے آسام این آر سی کی آخری تاریخ میں توسیع کرنے کی اپیل کی ہے۔ آسام این آر سی سے باہر رہ گئے لوگوں کے لیے اپنے دعوے اور اعتراضات درج کرانے کے لیے سپریم کورٹ سے ملی آخری تاریخ 31/جولائی قریب آ رہی ہے، لیکن زمینی رپورٹ یہ بتاتی ہے کہ اس عمل کی پیچیدگی کی وجہ سے بہت سے افراد اپنے دعوے اور اعتراضات درج نہیں کروا پائے ہیں۔ محض طریقہ کار کی خامی کی وجہ سے ہزاروں افراد شہریت سے ہاتھ دھو بیٹھیں اور اپنے ہی ملک میں جہاں وہ پیدا ہوئے، پلے بڑھے اور اس کے لیے لڑائی لڑی، بغیر کسی شہری حقوق کے قیدی بن کر رہ جائیں، اس المیے سے گریز کرنے کی ضرورت ہے۔لہٰذا ہم عدالت عظمیٰ سے حالات کی سنگینی پر غور کرتے ہوئے مقررہ وقت میں مناسب تاریخ تک اضافہ کرنے کی اپیل کرتے ہیں تاکہ لوگوں کو اس عمل کی تکمیل کے لیے وقت مل سکے۔
اجلاس نے ملک بھر میں این آر سی کی توسیع کی کوششوں پر سخت اعتراض جتایا ہے۔ غیرملکی (ٹربیونل) آرڈر، 1964 میں مرکزی وزارت داخلہ کے ذریعہ 30/مئی کو کی گئی ترمیم کے اقلیتوں کی زندگیوں پر دوررس نتائج رونما ہوں گے۔ یہ ترمیم ریاستی حکومت، ضلع انتظامیہ حتیٰ کہ تمام ریاستوں کے ضلع مجسٹریٹ کو ٹربیونل بنانے اور شہریت کے مسئلے پر فیصلہ لینے کے لیے مقدمات کو ریفر کرنے کا اختیار دیتی ہے۔ ایک بار اگر کسی شخص کی شہریت پر سوال اٹھ گیا، تو اسے یہ ثابت کرنا پڑے گا کہ وہ ایک قانونی شہری ہے۔ آسام میں، قانونی شہریوں خاص کر بنگالی بولنے والے مسلمانوں کی زندگی این آر سی کے غلط نفاذ اور غیرملکی ٹربیونل کے متعصب رویے کی وجہ سے بکھر کر رہ گئی ہے۔ تمام ریاستوں سے ”بیرونی مذاہب“ سے تعلق رکھنے والے ”دراندازوں“ کو کھدیڑنے کے امت شاہ کے انتخابی وعدے کو دیکھتے ہوئے یہ کہا جا سکتا ہے کہ دیگر ریاستوں میں بھی آسام جیسے حالات پیدا کرکے اقتدار کا سیاسی استعمال کیا جا سکتا ہے۔ اجلاس نے خبردار کرتے ہوئے کہا کہ اگر اس قسم کی چالوں کو ہر قیمت پر روکا نہیں گیا، تو پورے ملک میں افراتفری کا ماحول پیدا ہو جائے گا۔

ہندوستان کا اسرائیل کے حق میں ووٹ دینا فلسطینی کاز کے ساتھ دھوکہ
پاپولر فرنٹ کی قومی مجلس عاملہ کے اجلاس میں پاس کردہ ایک دوسری قرارداد میں بے ایمان اسرائیلی ریاست کے تئیں ہندوستان کی بڑھتی حمایت کی تنقید کی گئی۔ اقوام متحدہ کی اقتصادی و سماجی کونسل میں فلسطین کی غیرسرکاری تنظیم ’شاہد‘ کو مبصر کی حیثیت سے محروم رکھنے کے لیے اسرائیل کے حق میں ووٹ دینے کا ہماری حکومت کا فیصلہ فلسطینی کاز کی حمایت کے ہمارے طویل موقف سے انحراف ہے۔ اسرائیلی ریاست کے قیام کے وقت سے ہی ہندوستان نے اس معاملے میں اصولی موقف اختیار کیا ہے۔ ہندوستان فلسطینی زمینوں پر اسرائیل کے قبضے کی مخالفت اور فلسطینی عوام کی آزادی اور خودمختاری کی جدوجہد کی حمایت کرتا آیا ہے۔ لیکن اقوام متحدہ میں غیرمنصفانہ طریقے سے اسرائیل کی حمایت کا مودی حکومت کا فیصلہ فلسطینی عوام کے ساتھ دھوکہ ہے۔

خفیہ اور پُراسرار گروہوں سے ہوشیار رہیں:
پاپولر فرنٹ کی قومی مجلس عاملہ کے ذریعہ پاس کردہ ایک اور قرارداد میں مسلم نوجوانوں کو خبردار کیا گیا ہے کہ وہ ملک کے کچھ حصوں میں سرگرم خفیہ گروہوں سے ہوشیار رہیں۔ اس قسم کی رپورٹیں ملی ہیں کہ کچھ انتہا پسند جماعتیں سوشل میڈیا اور دوسرے ذرائع سے نوجوانوں کو ورغلا رہی ہیں۔ اگر ان رپورٹوں پر یقین کیا جائے تو بے قصور لوگوں پر بلاتفریق اور اندھے تشدد کا ان جماعتوں کا منصوبہ مکمل طور سے اسلام کے آفاقی اصولوں کے خلاف ہوگا۔ساتھ ہی ان طریقوں کو کسی بھی جمہوری اور تکثیری سماج میں برداشت نہیں کیا جا سکتا۔پاپولر فرنٹ نے شروع میں ہی اس مسئلے کی شناخت کر لی تھی اور وہ بارہا عوام کو یہ تعلیم اور ہدایت دیتی رہی ہے کہ وہ ان کے جال میں کبھی نہ آئیں۔ یہ پیغام مختلف مواقع پر عوام تک پہنچایا گیا ہے۔ حالیہ رپورٹوں کو دیکھتے ہوئے، اجلاس نے اس جانب اشارہ کیا ہے کہ سماج کو ان خفیہ جماعتوں کے خلاف ہر طرح سے ہوشیار رہنا ہوگا۔
چیئرمین ای ابوبکر نے اجلاس کی صدارت کی، جس میں جنرل سکریٹری ایم محمد علی جناح، نائب چیئرمین او ایم اے سلام، سکریٹری عبدالواحد سیٹھ اور انیس احمد و دیگر ارکان کونسل شریک رہے۔

ایم محمد علی جناح
جنرل سکریٹری
پاپولر فرنٹ آف انڈیا

 

Prayer Timings

Fajr فجر
Dhuhr الظهر
Asr عصر
Maghrib مغرب
Isha عشا