مسلم نوجوانوں کی گرفتاریاں

share with us

پروفیسر منوج کمار جھا
(پارلیمانی رکن برائے راجیہ سبھا)

 

بنے ہیں اہل ہوس مدعی بھی منصف بھی

کسے وکیل کریں کس سےمنصفی چاہیں!

اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ نائن الیون کے بعد دنیا ویسی نہیں رہی وہ جیسی ہوا کرتی تھی۔ دہشت گردی کی اصطلاح گڑھی گئی اور ایک خاص قوم کو نشانہ بنایا گیا۔ 2001 میں امریکہ کی دو عمارتیں زمیں بوس ہوئیں اس کے بعد یکے بعد دیگرے مسلمان ملکوں میں زبردست تباہی کا نظارہ دنیا نے اپنی آنکھوں سے دیکھا۔ اسی دوران گجرات کے وزیر اعلی نے ہم ہندوستانیوں کے علم میں اضافہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ ورلڈ ٹریڈ سینٹر کو بموں سے اڑانے والے، بامیان بدھ کو گرانے والے اور سومناتھ کا مندر لوٹنے والے درحقیقت ایک ہی قبیلے کے لوگ ہیں! یہ جملہ ایک ایسی قوم کے بارے میں کہا گیا تھا جو اس ملک کی سب سے بڑی اقلیت ہے! کچھ دنوں بعد گجرات میں مسلمانوں کو منصوبہ بند اور منظم طریقےسے قتل کیا گیا۔
پڑوسیوں کو اجنبیوں میں بدل ڈالنےکے عمل کا نام ہے گجرات ! اور اس فرقہ پرستی کا اسکرپٹ لکھنے والے لوگ آج سینہ پھلائے عوامی سیاستدان بنے بیٹھے ہیں۔ افسوس تو یہ ہےکہ یہ سب کچھ اس جگہ پر ہوا جو باپو کی سرزمین تھی۔ یہ ہوتا رہا اور دم توڑتی ہوئی انسانیت خاموش تماشائی بنی رہی۔ وہاں مسلمانوں کا جرم محض اتنا ہی تھا کہ ان کا مذہب اس ملک کےدوسرے لوگوں سے مختلف تھا۔ ارجن اپادرائی نے چھوٹی تعداد کے خوف کے بارے میں بتایا تھا مگر یہ ڈر اس حد تک بڑھ کر ہماری تنگ نظر قوم پرستی کی اٹوٹ ضرورت بن جائے گااس کا ہم سب کو ذرا دیر سے اندازہ ہوا۔ خوف کی اسی نفسیات نے طارق احمد ڈار کا12 منٹ والا راستہ 12سال میں تبدیل کر دیا۔ حیرت انگیز بات ہے کہ جس مذہب کے نام پر خوف کا ماحول پیدا کیا گیا اور جس سے آج لوگ ڈررہے ہیں اس کا وجود امن اور سلامتی سے مرکب ہے۔ لیکن اس پورے عمل میں اسلام عبث بدنام ہوتا رہا۔
یہی وہ دشمنی کے جملے تھے اور یہی وہ نفرت کا نظریہ جس کی وجہ سے اكیسوی صدی کا پہلا دو سال دنيا کے مسلمانوں کے لیےتباہی کا پیغام لے کر آیا۔ ہمارے ملک میں اسلامک موومنٹ آف انڈیانامی تنظیم کے نام پر بہت سارے نوجوانوں کو پکڑ کر جیلوں میں ٹھونس دیا گیا۔ یہ الگ بات ہے کہ ان میں سے زیادہ تر بے گناہ بری ہوئے، بہت سے ایسے ہیں جن کی قسمت عبد الواحد شیخ اور طارق احمد ڈار جیسی بھی نہیں ہے کہ جو آج تک جیلوں میں سڑ رہے ہیں!ورلڈ ٹریڈ سینٹر کی عمارت بموں سے اڑائی گئی اور پوری دنيا میں ایک بھونچال آگیا، ادرنگ کے پروجیکٹ میں سب لگ گئے، دشمن بنائے گئے، سیمی پر پابندی لگائی گئی اور ایک بیانیہ تشکیل کیا گیا جس میں بے قصورمسلم نوجوانوں کو انسانیت کا دشمن قرار دے کر یہ اعلان کردیا گیا کہ ملک میں جتنے بھی بم دھماکے ہوئے وہ تمام کے تمام مسلم انتہا پسند تنظیموں کی طرف سے کئے گئے ہیں۔ ایک سے بڑھ کر ایک تنظیموں کے نام ڈھونڈکر لائے گئے۔ بہت سارے مسلمان لڑکوں کو پولیس ریمانڈ میں جانے کے بعد خبر ہوئی کہ ان کے پاس بم تھے یا وہ سیریل بم دھماکوں کے ماسٹر مائنڈ تھے۔
ستمبر 2001 جس دن سے سیمی پر پابندی لگائی گئی، اس دن سے آج تک نہ جانے کتنے گھر اجڑ گئے، بچے یتیم ہوئے، خواتین بےآسرا ہوگئیں، اور ماں باپ اپنے بچوں کے لئے بلكتے رہے لیکن ہمارے مہذب سماج کو اتنی فرصت نہیں مل پائی کہ ان خاموش چیخوں پر کان دھرے اور شاید نہ ہی ہماری عدلیہ کے پاس اتنی مہلت ہے کہ وہ تھرڈ ڈگری ٹارچر ہونے والے اپنے شہریوں کی پکار سن سکے۔ انھیں اورنگ زیب کی اولاد کے لقب سے نوازا گیا اور کہا گیا کہ وہ ملک کے دشمن اور غداروطن ہیں! ہمارے درمیان ایسے کتنے افراد ہیں جو آج اپنے بچوں کا نام اورنگ زیب رکھنے کی جرأت کرسکتے ہیں؟ ہم نے ایک خوبصورت نام کا قتل کردیا۔ کیا کیا قتل کرنا پڑے گا ہمیں ؟ شاید میرے ملک کے مسلمان اپنے نام کی سزا بھگت رہے ہیں۔

انہیں میں جیتے انہیں بستیوں میں مر رہتے
یہ چاہتے تھے مگر کس کے نام پر رہتے
پیمبروں سے زمینیں وفا نہیں کرتیں
ہم ایسے کون خدا تھے جو اپنے گھر رہتے

ویسے ہمارا ملک بھی غضب کا ملک ہے، دھماکے بعد میں ہوتے ہیں نام پہلے طے ہوجایا کرتے ہیں ! جسٹس بلال ناذكی نے شاید ٹھیک ہی کہا تھا کہ یورپ اور ہندوستان کی پولیس میں بس اتنا فرق ہے کہ یورپ کی پولیس ثبوت کے ذریعےمجرم تک پہنچتی ہے مگر ہمارے ملک کی پولیس پہلے قصورواروں کوگرفتار کرتی ہے پھر ان سے ثبوت لیتی ہے۔ اور باری جب مسلمانوں کی ہوتو پھر قانون، انصاف اور انسانیت کا سبق کچھ زیادہ ہی دوہرایا جاتا ہے۔


ہماری الیکٹرانک میڈیا اور اخبارات کے کیا کہنے ! اگر ان کی باتیں مان لی جائیں تو ان کے مطابق ملک کا ہر تیسرامسلمان اپنی جیب میں ہتھیار لیے پھرتا ہے اور پاکستان جانے کی خواہش رکھتا ہے۔ ہمارے ملک کی پولیس عدالت میں کنفیشن کے علاوہ کوئی دوسرا ثبوت حاضر نہیں کرپاتی!جہاں تک رہی بات کنفیشن کی تو شاید عبدالواحد شیخ کےالفاظ اس پوری کہانی کو کہہ جاتے ہیں کہ، "تشدد کے حالات یہ تھے کہ اس وقت اگر وہ لوگ مجھ سے یہ بھی کہتے کہ امریکہ پر حملہ کرنے والے تم ہی تھے نا ؟ تو میں وہ بھی قبول کرلیتا۔ جیل وہ جگہ ہے جہاں انسان توکیا پتھر بھی بول پڑتے ہیں۔ غالبا ابو غریب اور گوانتاناموبے کے جیلوں کو یہیں سے حوصلہ افزائی ملتی ہے۔ چومسکی درست کہہ رہے تھے کہ اجتماعی اتفاق رائے جیسی کوئی چیز نہیں ہوتی ہے یہ تو تیار کی جاتی ہے! مسلمانوں کے خلاف پوری دنیا میں عوامی اتفاق رائے بنانے کے لیے بڑی بڑی فیکٹریاں کھولی گئیں۔ سی آئی اے اورموساد نے ہماری خفیہ ایجنسیوں کو اچھی تربیت سےآراستہ کیا ہے۔

میڈیا تو اس حد تک گوارا نہیں کرتی ہے کہ کسی بھی دہشت گردی کے معاملے کی جانچ پڑتال کرے، حکومت کی جانب سے بنائی جانے والی ٹریبونل کی کاروائیوں کو سنے بلکہ انھیں تو سرکاری وکیل جو بتادیتے ہیں وہی ان کاپہلا اور آخری ثبوت ہوتا ہے۔ اور رہی بات حکومت کی تو وہ قانون کا ایسا جال بناتی ہے جسے مضبوط اور طاقتور تو توڑ کر نکل جاتا ہے مگر کمزور انسان اس میں مکڑی کی طرح پھنس کر بقیہ تمام زندگی بے گناہی ثابت کرتے کرتے اپنا سب کچھ قربان کردیتا ہے۔ ان سے وفاداری کا ثبوت مانگا جاتا ہے، وطن پرستی کوتولا جاتا ہے اور پھر اعلان کردیا جاتا ہے کہ مسلمانوں سمیت ان کے حق میں بولنے والوں کو پاکستان بھیج دیا جائے گا۔ کسی تنظیم پر ایکٹ برائے غیر قانونی سرگرمیوں کے تحت ہر دو سال میں پابندی عائد کردی جاتی ہے اور دوسری طرف ایک دوسری تنظیم کو کھلے عام اجازت دے دی جاتی ہے کہ وہ جتنی نفرت اور تشدد پھیلاناچاہتے ہیں ان پر کوئی روک ٹوک نہیں۔ مگر مجال ہے جو کوئی اس پر انگلی اٹھانے کی ہمت بھی کرسکے، ہاتھ توڑ دیے جائیں گے اور سرقلم کردیے جائیں گے۔ مملکت کا مقام ماں کے مانند ہے اگر وہ اپنے ہی شہریوں کے ساتھ سوتیلی ماں جیسا سلوک کرنے لگے تو پھر اسے سوتیلے بیٹے کا سامنا کرنا ہی پڑے گا۔ یاد رہے کہ جرمنی میں ہٹلر نے یہودیوں کو قانون بنا کر ہی مارا تھا۔ کیا ہم بھی وہی کر رہے ہیں اور پھر سے وہی تاریخ دوہرانا چاہتے ہیں؟ کیا ہم پھر سے کوئی کنسنٹریشن کیمپ تیار کرنا چاہتے ہیں؟ ایسے حالات میں جب آپ کا ملک طالبان بن جائے تو جرم بے قصور نوجوانوں کا ہی نہیں بلکہ ہماری حکومت اور عدلیہ بھی اتنی ہی ذمہ دار ہے۔ اگر ہمارے ملک کےمسلمان بھولنا بھی چاہیں توانھیں قدم قدم پر یاد دلایا جاتا ہے کہ وہ مسلمان ہیں، ثانوی درجے کے شہری ہیں اور اس ملک کے ساتھ اپنا تال میل نہیں بیٹھا پارہے ہیں۔ آخر ہم کیسے اپنے ملک کے اس منافقانہ نظام پر بھروسہ کرلیں!

ضرورت تو اس بات کی ہے کہ جیلوں میں بے رحم زندگی کاٹنے والے نوجوانوں کی آوازیں عوام کے ساتھ ساتھ سیاسی گلیاروں میں سنائی جائیں۔ میں نے پہلے بھی کئی بار لکھا ہے کہ ہمارے ملک میں ہر روز باپو کا قتل ہوتا ہے۔ ایک دن مرنا ہو تو پھر بھی مرجائیں، ہر روز مر کے جینا تو کوئی ان سے پوچھے جو تل تل مرتے اور جیتے ہیں۔ جب جب کوئی انسان دس سالوں اور پندرہ سالوں بعد باعزت رہا ہوتا ہے تب تب ہماری تہذیب اور عدلیہ دونوں کی شکست ہوتی ہے۔

مضمون نگارکی رائے سے ادارہ کامتفق ہونا ضروری نہیں۔ 
11؍ فروری 2019
ادارہ فکروخبر بھٹکل

Prayer Timings

Fajr فجر
Dhuhr الظهر
Asr عصر
Maghrib مغرب
Isha عشا