قومی اقلیتی کمیشن کو 'اقلیت' کی جدید تشریح کا حکم

share with us

نئی دہلی:11فروری2019(فکروخبر/ذرائع)ملک کی آٹھ ریاستوں میں ہندوؤں کو اقلیت کا درجہ دینے اور اسی کے مطابق سہولیات دینے کے مطالبے پر سپریم کورٹ میں ایک مفاد عامہ کی عرضی دائر کی گئی تھی۔

سپریم کورٹ نے قومی اقلیتی کمیشن کو تین ماہ کے اندر کسی بھی طبقے کے ریاستی سطح پر آبادی کے اعتبار سے اقلیت کی جدید تشریح و توضیح کا حکم دیا ہے۔سپریم کورٹ نے یہ حکم بی جے پی کے رہنما اشونی اپادھیائے کی طرف سے دائر کی گئی عرضی پر دیا۔

اشونی کمار اپادھیائے نے اپنی عرضی میں کہا تھا کہ جموں و کشمیر، پنجاب، لکش دیپ، میزورم، ناگالینڈ، میگھالیہ، اروناچل پردیش اور منی پور میں ہندو اقلیت ہیں۔ ایسی ریاستوں میں، ہندوؤں کو اقلیتوں کے حقوق ملنے چاہئيں۔

 درخواست گزار نے کہا تھا کہ 2011 کی مردم شماری کے مطابق ان آٹھوں ریاستوں میں ہندو اقلیت میں ہیں، جبکہ اقلیتوں کے لیے ملنے والی سہولیات کا فائدہ اکثریتی طبقے اٹھا رہے ہیں۔ 

اپادھیائے نے اس سلسلے میں 1993 میں جاری مرکزی حکومت کے نوٹیفکیشن کو بھی مکمل طور غیر آئینی قرار دینے کا مطالبہ کیا تھا۔ درخواست گزار کے مطابق کسی بھی کمیونٹی کی اقلیتی حیثیت صرف ان کی آبادی کی بنیاد پر ہی ہو نی چاہیے۔ اس معاملے میں وزارت قانون کو فریق بنایا گيا تھا۔

سپریم کورٹ کے سربراہ جسٹس رنجن گوگوئی کی سربراہی والی تین رکنی بنچ نے درخواست گزار اشونی اپادھیائے کو تین ماہ کے اندر اقلیت کی جدید تشریح کے لیے اقلیتی پینل کے سامنے حاضر ہونے کے لیے کہا۔   

 

Prayer Timings

Fajr فجر
Dhuhr الظهر
Asr عصر
Maghrib مغرب
Isha عشا