ترکی کا چینی حکومت سے ایغور مسلمانوں کے حراستی کیمپ بند کرنے کا پرزور مطالبہ

share with us


اب یہ کوئی راز نہیں ہے کہ حراست میں رکھے گئے دس لاکھ سے زائد اویغور مسلمانوں کو تشدد کا نشانہ بنایا جا رہا ہے،بیان 


بیجنگ:10فروری2019(فکروخبر/ذرائع)چین میں اقلیتی مسلم اویغور برادری سے تعلق رکھنے والے ایک نامور موسیقار کی موت کی خبروں کے بعد ترکی نے چین سے اویغور مسلمانوں کے لیے بنائے جانے والے حراستی کیمپوں کو بند کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق ترکی کی وزارت خارجہ کی طرف سے جاری ایک بیان میں کہا گیا کہ ان لوگوں کو حراستی کیمپوں میں اذیتیں دی جارہی ہیں۔ بیان میں ترکی نے کہا کہ اب یہ کوئی راز نہیں ہے کہ حراست میں رکھے گئے دس لاکھ سے زائد اویغور مسلمانوں کو تشدد کا نشانہ بنایا جا رہا اور ان کا سیاسی طور پر برین واش کیا جا رہا ہے۔اس کے ساتھ بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ جنھیں حراست میں نہیں رکھا گیا ہے ان پر بھی شدید دباؤ ہے۔وزارت خارجہ کے ترجمان حامی اکسوی نے کہاکہ 21 ویں صدی میں پھر سے کنسینٹریشن کیمپوں (عقوبت خانوں) کا قائم کیا جانا اور اویغور مسلمانوں کے خلاف حکومت کی پالیسیاں انسانیت کو شرمسار کرنے والی باتیں ہیں۔انھوں نے کہا کہ عبدالرحیم حیات کی موت کی خبر سنکیانگ میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر ترک عوام کے ردعمل کو مضبوطی فراہم کرتے ہیں۔انھوں نے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل اینتونیو گوتریز سے چین انسانی المیے کے خاتمے کے لیے مؤثر اقدامات کرنے پر زور دیا۔یاد رہے کہ عبد الرحیم حیات چین کے سنکیانگ علاقے میں آٹھ سال کی سزا کاٹ رہے تھے۔ ایک اندازے کے مطابق چین کے ان حراستی کیمپوں میں تقریباً دس لاکھ اویغور مسلمانوں کو حراست میں رکھا گیا ہے۔

Prayer Timings

Fajr فجر
Dhuhr الظهر
Asr عصر
Maghrib مغرب
Isha عشا