سوشل میڈیا کمپنی ٹویٹر پر پارلیمانی کیمیٹی کر سکتی ہے بڑی کارروائی

share with us

نئی دہلی:10فروری2019(فکروخبر/ذرائع)سوشل میڈیا کمپنی ٹویٹر اور اس کے اعلی افسران کے خلاف انفارمیشن اور ٹکنالوجی کی پارلیمانی کمیٹی کے سامنے پیش نہ ہونے کے معاملے میں استحقاق شکنی کی کارروائی کی جاسکتی ہے۔
انفارمیشن اور ٹکنالوجی کی پارلیمانی کمیٹی نے سوشل میڈیا پر شہری حقوق کے تحفظ کے اقدامات کے معاملے پر ٹویٹر کے نمائندوں کو 11 فروری کو پیش ہونے کو کہا ہے۔

 اس دوران ٹویٹر انڈیا کے حکام نے آئی ٹی پارلیمانی کمیٹی کے سامنے پیش ہونے سے انکار کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ 'انہیں قلیل عرصے میں نوٹس دیا گیا ہے اور ہندوستان میں کمپنی کا کوئی قابل افسر نہیں ہے'۔

 ٹویٹر انڈیا کے حکام کو یکم فروری کو نوٹس جاری کیا گیا تھا جس میں ٹوئٹر کو پارلیمانی کمیٹی نے سات فروری کو طلب کیا تھا، بعد میں یہ تاریخ 11 فروری کردی گئی تھی۔

 نوٹس میں کہا گیا ہے کہ کمپنی کے چیف ایگزیکٹیو آفیسر (سی ای او)کو کمیٹی کے سامنے پیش ہونا ہوگا وہ اپنے ساتھ اپنے معاونین کو بھی لاسکتے ہیں۔

مرکزی وزیر پیوش گوئل اور مختار عباس نقوی نے کہا کہ 'اس سلسلہ میں راجیہ سبھا کے چیئرمین اور لوک سبھا اسپیکر فیصلہ لیں گے، حکومت اس معاملے میں فیصلہ نہیں کر سکتی'۔

 

Prayer Timings

Fajr فجر
Dhuhr الظهر
Asr عصر
Maghrib مغرب
Isha عشا