آندھرا پردیش میں بھی وزیر اعظم کی مخالفت ، modi never againکے لگے پوسٹر

share with us

آندھرا پردیش:10فروری2019(فکروخبر/ذرائع)آسام دورے پر پی ایم مودی کو سخت مخالفت کا سامنا کرنا پڑا تھا اب آندھرا پردیش میں بھی پی ایم مودی کے دورے کی مخالفت ہو رہی ہے، اتوار کے روز وزیر اعظم نریندر مودی گنٹور میں ایک ریلی سے خطاب کریں گے، اسی کی مخالفت میں شہر کے کئی مقامات پر ان کے خلاف پوسٹر لگائے گئے ہیں، جس میں پی ایم مودی کو بھاگتے ہو ئے دکھایا گیا، ایسا لگ رہا کے وہ عوام سے ڈر کر بھاگ رہیں، عوام ان کو دوڑا رہی ہے۔ پوسٹر میں لکھا گیا ہے ’’مودی اب کبھی بھی نہیں‘‘۔

اندھرا پردیش کے وزیر اعلی چندرا بابو نائیڈو نے ہفتہ کو اعلان کیا تھا کہ ان کی پارٹی پی ایم مودی کے دورے کی مخالفت کرے گی، چندرا بابو نائیڈو نے رافیل سودے پر وزیر اعظم مودی کو گھیرتے ہوئے کہا تھا، ’’رافیل سودے میں پی ایم او کی مداخلت وطن کی توہین ہے، ہم اتوار کو وزیر اعظم مودی کا پیلے اور سیاہ شرٹ میں غبارے کے ساتھ ایک پرامن گاندھی کی طرح مخالفت کریں گے‘‘۔

وزیر اعظم نریندر مودی کا دو روزہ آسام دورہ مخالفت اور زبردست مظاہروں سے پُر رہا تھا، گزشتہ جمعہ کو وزیر اعظم مودی ریاست آسام کے دورے پر پہنچے، جہاں ان کا سیاہ جھنڈوں اور نریندر مودی مرداباد کے نعروں کے ساتھ خیر مقدم کیا گیا تھا، وہیں ہفتہ کے روز بھی ایک بار پھر سے سیاہ پرچم دکھا کر لوگوں نے ان کی زبردست مخالفت کی۔

احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ یہیں نہیں رکا بلکہ ہفتہ کے روز ہی چانگساری میں وزیر اعظم مودی کے جلسہ عام سے ٹھیک پہلے دِسپور میں ریاستی سیکریٹریٹ کے سامنے ایک گروپ نے برہنہ ہو کر مارچ نکالا اور شہریت بل کے خلاف جم کر نعرے بازی کی، یہ واقعہ اس وقت رونما ہوا جب وزیر اعظم نریندر مودی چانگساری میں آل انڈیا انسٹی ٹیوٹ (ایمس) کا سنگ بنیاد رکھنے سمیت کئی ترقیاتی منصوبوں کا افتتاح کرنے کے لئے پہنچنے والے تھے۔

ملک میں وزیر اعظم نریندر مودی کی لگاتار پر زور مخالفت ہو رہی ہے، آسام اور آندھرا پردیش کے علاوہ اس سے پہلے 27 جنوری کو تمل ناڈو دورے پر گئے وزیر اعظم نریندر مودی کی شدید مخالفت ہوئی تھی، انہیں کئی مقامات پر سیاہ پرچم دکھائے گئے تھے۔

 

Prayer Timings

Fajr فجر
Dhuhr الظهر
Asr عصر
Maghrib مغرب
Isha عشا