افریقہ کے الفت کدے میں

share with us

(ہوا ہے گو تند وتیز لیکن چراغ اپنا جلا رہا ہے)

محمد سمعان خلیفہ ندوی
(۳) 
................. بورنڈی، تنزانیہ، یوگانڈا اور روانڈا کے چار ممالک کے دس دن کے مسلسل سفر کے بعد اس وقت کیگالی سے ایتھوپیا کے لیے محو پرواز ہیں، ایتھوپین ایئرلائن کا جہاز لینڈنگ کے قریب ہے، اس دوران بورونڈی کے یاران مہرباں کی یادیں رہ رہ کر آرہی ہیں؀ 
بہت جی خوش ہوا حالی سے مل کر 
ابھی کچھ لوگ باقی ہیں جہاں میں

ان دنوں ان احباب نے جس گرم جوشی کے ساتھ جس والہانہ انداز میں ہمارا استقبال کیا اور غریب الدیار مسافروں کا ہمہ وقت ہر آن خیال رکھا اور پورے دس دن  ہمارے ساتھ رہ کر کسی وقت بھی غریب الوطنی کا احساس تک ہونے نہ دیا بلکہ اپنی خوش مزاجی اور مرنجاں مرنج طبیعت کی بنا پر ہر محفل کو زعفران زار بنایا ان لوگوں کے شکریہ کے لیے سچی بات یہ ہے کہ الفاظ نہیں ہیں!
یہ غریب الدیار افریقہ کی تیرہ و تاریک شاموں میں کچھ فروزاں شمعوں کی جستجو لے کر، قول میں حسن عمل بھر کے رنگیں بنانے کی خدا سے التجا کرتے ہوئے نیز عظمت رفتہ کی یاد میں اشکوں کی کچھ سوغاتیں پیش کرنے کے لیے نکلے تھے! ایسے میں یہ احباب کیا ملے کہ ایک نعمت بیش بہا نصیبے میں آئی!
دل میں اخلاص اور للہیت کی انگیٹھی گرم ہو، قسام ازل کی جانب سے دلبرانہ ادا، عاشقانہ نوا، تب وتاب جاودانہ اور  مزاج داعیانہ ودیعت ہوا ہو تو پھر جنگل کو منگل بنتے اور چراغ سے چراغ جلتے دیر نہیں لگتی!
سوز دل دعوتی مزاج کے ساتھ ہم آہنگ ہوکر مکاتب ومدارس کی جہد پیہم میں ڈھل جائے تو پھر اس ساز سے وہ نغمے پھوٹتے ہیں کہ جو جرس کارواں بن جاتے ہیں اور جن سے امت کو عہد فتن میں بانگ لاتخف اور جام کہن نصیب ہوتا ہے (جس کو ساقی کی طرف سے گردش میں آئے زمانہ گزر گیا) پھر دیکھتے ہی دیکھتے ناقابل یقین اور  محیر العقول کارنامے صفحہ ہستی پر وجود میں آتے ہیں! 
آج در اصل انھیں دیوانوں کی ضرورت ہے جو اپنی کشتیاں جلا کر ان بیابانوں میں پڑجائیں چہرے پہ یقیں کا نور اور دل میں عشق کا سرور لے کر، مزاج میں دعوت   اور کردار میں حسن کی ضیائے پر نور لے کر کارزار حیات میں معرکہ زن ہوں پھر دیکھیے باطل کی تگ وتاز میں بھی کس طرح قوت توحید کا اعجاز رنگ لاتا ہے!
مولانا خلیل مظاہری، مفتی امین، شیخ جبریل، برادران اسماعیل وعلی اور ان کے جواں عزم ساتھیوں کے حوصلوں کو خدائے قدوس جواں رکھے، ان کے خوابوں کو جلد سے جلد تعبیر عطا کرے اور ان کی ہر طرح کے شرور وفتن حفاظت فرمائے؀
داتا رکھے آباداں ساقی تیرا میخانہ
 یہ حضرات جس طرح ان ممالک میں دین متین کی شمعیں روشن کررہے ہیں اور اپنے جہد مسلسل سے قرآنی مکاتب قائم کررہے ہیں واقعی بہت بڑی وقت کی ضرورت کی تکمیل کررہے ہیں، اگر جا بجا قرآنی مکاتب قائم کیے جائیں تو اب بھی؀
ذرا نم ہو تو یہ مٹی بہت زرخیز ہے ساقی
بلال حبشی کے جانشینوں میں اب بھی سوز بلالی موجود ہے، رسم اذاں میں روح بلالی آج بھی پیدا ہوسکتی ہے بس بربط دل پر اس ساز کو چھیڑنے کی اور ان صلاحیتوں کو صیقل کرنے کی ضرورت ہے۔
خود ہم نے مشاہدہ کیا جہاں بے حجابی کا بازار گرم ہے وہیں ان ساتھیوں کی محنت سے ایسی بچیوں کا مدرسہ بھی نظر آیا جو سر سے پیر تک مکمل حجاب میں ملبوس اور قرآن مجید کی تلاوت جو انھوں نے کی تو واقعی پرسوز دل پذیر اور مخارج کی رعایت اور مکمل تجوید کے ساتھ۔
ایک دو نہیں دسیوں ایسے مکاتب ان حضرات نے ویرانوں بیابانوں تک میں اللہ کے فضل سے قائم کردیے ہیں جہاں قرآن کی تعلیم کا انداز دل کو چھو لینے والا ہے نہ صرف قرآن بلکہ اسلام کی بنیادی تعلیمات کا نظم ایسے موثر انداز میں کیا گیا ہے جو واقعی قابل رشک بھی ہے قابل تقلید بھی.... جس کا تذکرہ کسی اور وقت................. (جاری)

محمد سمعان خلیفہ ندوی
(ایتھوپین ائیرلائنز پر کیگالی -روانڈا- سے ایتھوپیا جاتے ہوئے)

Prayer Timings

Fajr فجر
Dhuhr الظهر
Asr عصر
Maghrib مغرب
Isha عشا