افریقہ کے غربت کدے میں:

share with us

محمد سمعان خلیفہ ندوی

نگارہ (N’gara) (تنزانیہ) سے تنزانیہ کے سرحدی شہر بوکوبا (جہاں سے یوگانڈا کی سرحد ملتی ہے) کی طرف رواں دواں ہیں، مولانا الیاس صاحب کی سرپرستی میں مولانا ابو الحسن علی ندوی اکیڈمی کا دعوتی مشن لے کر ڈاکٹر عبد الحمید اطہر ندوی، مولانا بشیر ندوی اور مولانا داؤد خلیفہ ندوی کی معیشت میں مشرقی افریقہ کا سفر گزشتہ چھ دنوں سے جاری ہے، پانچ روز بورنڈی میں رہے اور کل سے تنزانیہ کے شمال مغرب میں نگارہ میں ایک روز رہ کر اب بوکوبا (Bukuba) کی طرف رخت سفر باندھ چکے۔

ان دنوں میری آنکھوں نے جو منظر دیکھے غربت کی جو داستانیں سنیں اور بچشم سر مفلسی کی جو تصویریں دیکھیں' بیان سے باہر ہیں، زبان ترجمانی سے قاصر ہے، دل خون کے آنسو روتا ہے، گزرے لمحوں کے تصور سے خاک میں لتھڑے ہوئے بچوں کی ایک بھیڑ نگاہوں کے سامنے آجاتی ہے جو نان شبینہ کے محتاج ہیں، جنھیں ایک وقت کی روٹی میسر نہیں، جن کے زخموں پر کوئی مرہم رکھنے والا نہیں، جن کے پیٹوں میں مچلنے والی بھوک کی آگ بجھانے والا کوئی نہیں، تڑپتے بلکتے انسانوں کے آنسو پونچھنے والا کوئی نہیں! 

آہ کیا منظر تھا جب کیانزا (بورونڈی) میں ظہر کی نماز اور اس کے بعد ایک اہم پروگرام کے لیے ہم وہاں کی مسجد میں پہنچے تو کیا دیکھتے ہیں کہ ایک بھیڑ کی بھیڑ اور انسانوں کا ایک اتھاہ سمندر پل بھر میں ہماری کار کے سامنے ٹھاٹھیں مار رہا ہے اور جب اسٹابری کے کچھ ٹکڑے ہمارے ہاتھوں نے ان کے آگے بڑھائے اور اپنی دانست میں ہم بڑے سخی کہلائے تو ان ٹکڑوں پر کیسے وہ ٹوٹ پڑے بخدا اس منظر کو لفظوں میں قید نہیں کیا جاسکتا! اور صرف وہیں نہیں بلکہ بورونڈی کے چپے چپے پر جب جب ہماری گاڑی رکتی تو آنکھوں میں امید کے جگنو لیے بچوں بڑوں کا ہجوم بلا خیز ٹوٹ پڑتا اور ہندوستانی دو روپیہ (۱۰۰ بورونڈین فرنک) کا تحفہ ان مسکینوں کے لیے ایک ارمغان محبت ہوتا، کیا شہر کیا دیہات پانی کی وہ قلت نہ پوچھیے ایک بوتل ستھرا پانی پینے کے لیے دست یاب نہیں، چھوڑیے پانی، پانی کی خالی بوتل بھی ان کے لیے زندگی کی ایک بڑی نوید ہوتی ہے؛ کتنے موقعے ایسے آئے کہ دست طلب صرف پانی کی خالی بوتلوں کے لیے دراز ہوئے! اور پھر احسان مندی کے وہ جذبات کہ نہ پوچھیے! اسانتی اسانتی (شکریہ شکریہ) کے نعرے ہر زبان پر! جسم چیتھڑوں سے لپٹے ہوئے اور خاک میں لتھڑے ہوئے! پورے پورے ملک میں کنویں کا تصور تک نہیں! بور ویل بھی کہیں نظر نہ آیا ! بس حکومت کی طرف سے شہروں میں آنے والا اور دیہاتوں میں پہاڑوں سے رسنے والا پانی ہی ان غریبوں کے لیے آب حیات ہے! ہاں! کاخ امراء کو ہزار سہولتوں کے باوجود سکون کے جو لمحے میسر نہیں ہوتے وہ یہاں کے کوخ غرباء کو بھرپور حاصل ہیں! 

پل بھر کے لیے ان مسکینوں کی زندگی کو یاد کریں یا یقین نہ آئے تو یہاں آکر دیکھیں اپنی آنکھوں سے! ہمارے ملک میں امیرزادے داد عیش دیتے ہوئے اپنی شادیوں میں جو آخری درجے کا اسراف کرتے ہیں اور چھوڑیں امیر زادوں کو ہم لوگ بھی اللہ کی نعمتوں کا جس قدر بے جا استعمال کرتے ہیں پانی کو جس بے دریغ انداز میں بہاتے ہیں ان ملکوں میں آئیں تو کچھ قدر پیدا ہو اور اللہ کی نعمتوں کا کچھ احساس مردہ ضمیروں کو دستک دے جائے! 

یہاں کی پولیس اور امیگریشن افسران تک کو ہندوستانی ۲/۳ ہزار سے زیادہ کی تنخواہیں میسر نہیں! کوئی ایک گھر ایسا نہیں جس پر دولت مندی کا اثر نمایاں ہو! 

ٹوٹے گھر، کچی دیواریں! مٹی کا ڈھیر ! مسجدیں بھی چھپروں پر ایستادہ! بجلی کا نام ونشان ندارد! دور دور تک تمدن ہویدا نہیں

 بورونڈی سے ہو کر انگارا (تنزانیہ) اور اب امبارارا (یوگانڈا) میں ایک روز رہ کر روانڈا کے شہر کیگالی کی طرف رواں ہیں، غربت کی داستان آپ نے سنی اور جو سنی وہ کہیں زیادہ کم ہے دیکھی ہوئی سے! اب آئیے کچھ ظلمتوں کا بھی حال سنیے بلکہ آکر خود دیکھیے اور ان ظلمتوں کو دور کرنے کے لیے شب تاریک میں کچھ قندیلیں فروزاں کر دیجیے کہ یہ بہت بڑی ذمے داری ہے اور اگر اس سے عہدہ بر آ نہ ہوئے تو پھر کل بروز قیامت اللہ کو کیا جواب دیں گے! اف! ہم الجھے ہوئے ہیں موشگافیوں میں، لاطائل بحثوں میں، من وتو کے پر پیچ خارزاروں میں، قدیم وجدید کی نہ سلجھنے والی الجھنوں میں! 

دشمن کس قدر طویل المیعاد (Long term) پلاننگ کیے ہوئے ہے! قریہ قریہ گاوں گاوں پہنچ کر انسانوں کی مجبوری اور کس مپرسی کا کس قدر فائدہ اٹھا رہا ہے! غریب کو کیا چاہیے! دو وقت کی روٹی! سر چھپانے کے لیے چھپر! علاج معالجے کے لیے دوا دارو! جہالت دور کرنے کے لیے علم و دانش کا سامان!

کھانے کے لیے ٹکڑے میسر نہیں! جسم چھپانے کے لیے چیتھڑے مہیا نہیں! ضرورت کی تکمیل کے لیے پھوٹی کوڑی تک نہیں! پاؤں چلنے کے لیے سڑکیں ہموار بھی نہیں! مگر ہائے رے ہماری شامت! ہائے رے حرماں نصیبی! جنگلوں بیابانوں تک میں اگر کوئی چیز ملے گی آپ کو تو کنیسے! مشنری اسپتال! مسیحی اسکول! ٹوٹے گھروں کے لیے کچی دیواروں کے لیے چھتیں نہیں ملیں گی، ان بیابانوں کوہساروں میں بجلی کا گزر تک نہیں ہوگا! مگر پہاڑوں کی چوٹیوں پر تنگ و تاریک گلیاروں پر کلیساؤں کی اونچی اور مشنری اسپتالوں کی وسیع وعریض عمارتیں ایک ایمان والے کے دل کو جھنجھوڑنے اور دعوت فکر دینے کے لیے کافی ہیں! واقعی المیہ ہے ہم لوگ کس قدر داد عیش دینے میں مشغول ہیں! لذتوں میں منہمک ہیں! پرتکلف دسترخوانوں اور اعلی سے اعلی ملبوسات سے ہمیں فرصت نہیں! آپسی رنجشوں اور باہمی چپقلشوں میں امت کی توانائیاں ضائع ہورہی ہیں! عبقری دماغ انھیں کج ادائیوں کی نذر ہورہے ہیں! ایکشن اور فیشن کی ریس میں دشمن کی چالوں سے ہم بے خبر رہے! دشمن تیز رفتار بھی ہے بیدار بھی! ہم لوگ سو بھی رہے ہیں سست رفتار بھی! 

یہاں آپ کو بلانوشوں سے آباد میخانے قدم قدم پر ملیں گے، نگر نگر گلی گلی ہوس کی دھوم دھام نظر آئے گی! 

بے حجابی کے مظاہر ملیں گے، دین کے نام لیواوں کے حریم ناز تک میں بے حجابی باریاب ہے! گھٹنوں تک لباس، سینے دوپٹے کی قید سے آزاد! جسم فروشی اپنی انتہا پر! یہاں تک کہ دین کے نام لیوا بھی جسم فروشی اور زناکاری کی لعنت سے محفوظ نہیں! گانجہ اور چرس کے نوجوان دلدادہ، شراب وکباب کے مسلمان بھی رسیا ! اور بعض ممالک میں حجاب پر پابندی!

جس ملک میں کبھی پرچم ایمان لہرایا جو علاقے کبھی مسلمانوں کے دم قدم سے شاداب رہے آج وہاں ظلمتوں کا ڈیرا اور ارتداد کا بسیرا! تعلیم اور طبی خدمات کے بہانے ایمان کی متاع گراں مایہ چھین لی گئی! کارواں لٹ گیا! امت پٹ گئی! 

اوّل تو مسجدیں نایاب اور جہاں ہیں وہاں بے حد خستہ و شکستہ! پھر ان کے ائمہ تک کی قراءت درست نہیں! باپ دادا سے سیکھا جو سیکھا! کہیں کہیں اسلامی مدارس کے نام سے ادارے موجود ہیں بھی تو وہاں مخلوط نظام! یہاں تک کہ ہاسٹلوں تک میں تفریق نہیں! اور ذمے داروں کو اس کا شعور و ادراک بھی نہیں!حکومتوں کی طرف سے مسلمانوں پر جو مظالم ہوئے اور ہورہے ہیں ستم بالائے ستم اور وہ اس پر مستزاد! اس کے لیے مستقل دفتر درکار!

ہاں کچھ جیالے ہیں دیوانے ہیں جو پابندیوں کا غم نہ لے کر اس ظلمت کدۂ دہر کو تنویر بخشنے کا عزم لیے کارزار حیات میں معرکہ زن ہیں جن کا ذکر خیر اور ثنائے جمیل کسی اور وقت کے لیے ......... انتظار کریں

     (جاری)

محمد سمعان خلیفہ ندوی

(امبارارا-یوگانڈا- سے روانڈا جاتے ہوئے)

Prayer Timings

Fajr فجر
Dhuhr الظهر
Asr عصر
Maghrib مغرب
Isha عشا