ماہی گیروں کی گمشدگی معاملہ : ملپے میں سڑکوں پر اترے ہزاروں ماہی گیر،

share with us

ملپے: 06جنوری2018(فکروخبرنیوز) ۷ ماہی گیر وں سمیت کشتی کے لاپتہ ہونے کامعمہ ابھی تک حل نہیں ہو پا یا ہے ،ماہی گیروں کا سراغ لگانے میں ناکامی پر ماہی گیر طبقہ میں سخت ناراضگی ہے ، ماہی گیروں کی جانب سے  حکومت پر لاپتہ افراد کو تلاش کرنے کے لئے دباو ڈالا جا رہا ہے اس کے باوجود اس معاملہ میں کوئی کامیابی ہاتھ نہیں لگ پائی ہے ، آج ساحلی کرناٹکا کے تین اضلاع کے ماہی گیروں نےملپے  میں راستہ روکو احتجاجی ریلی نکالی ، ریلی میں ساحلی کرناٹکا کے تین اضلاع کے ماہی گیروں نے کثیر تعداد میں شرکت کی ،وہیں بھٹکل سے بھی تقریبا ۷ ہزار ماہی گیروں نے ریلی میں حصہ لیا تھا ، میڈیا رپورٹ کے مطابق ریلی میں قریب پچاس ہزارماہی گیروں نے شرکت کی جس میں ایک بڑی تعداد خواتین کی رہی ،ریلی کا آغاز ملپے سے کیا جہاں سے امبلپاڈی نیشنل ہائی وے پر راستہ روکو مظاہرہ کیاگیا اوراحتجاجی مظاہرین نے ریاستی و مرکزی حکومت کے خلاف  خوب نعرہ بازی کی  ،اورماہی گیروں کی تلاشی کے لئے ٹھوس قدم اٹھانے کا مطالبہ کیا ، راستہ روکو احتجاج کے پیش نظر ملپے سے  منگلور تک پولس نے حفاظتی بندو بست سخت کر دئے   تھے ، خیال رہے کہ ۱۳ دسمبر کو سا ت ماہی گیر ایک کشتی پر سوار مچھلی شکار کے لئے نکلے تھے ۱۵ دسمبر کو کشتی کا ماہی گیروں سے رابطہ منقطع ہو گیا تھا جس کے بعد ماہی گیروں اور کشتی کے تعلق سے کوئی جانکاری نہیں مل پائی ہے ، لاپتہ ماہی گیروں کے اہل خانہ کا الزام ہے کہ اعلی افسران یا عوامی نمائندوں میں سے کسی نے ان سے مل کر ان کا حال چال تک جاننے کی کوشش نہیں کی ،اس معاملہ امیں اعلی افسران کا کہناہے کہ تینوں اضلاع کے افسران آپسی تال میل کے ساتھ ماہی گیروں کی تلاشی میں سرگرم ہیں ، لیکن ماہی گیر طبقہ اس انہونی کی وجہ سے کافی پریشان نظر آرہا ہے ،

   وہیں جب سے مہاراشٹرا کے سرحدی علاقے میں مچھلیوں سے بھرے تین باکس برا ٓمد ہونے کے  بعد کشتی کے ڈوبنے کا بھی خدشہ ظاہر کیا جا رہاہے لیکن  اعلی افسران نے اس تعلق سے کوئی بیان نہیں دیا ہے ،   

خیال رہے کہ لاپتہ ہونے والی ماہی گیروں میں سے دو کا تعلق بھٹکل  سے ، دو کا تعلق کمٹہ سے دو کا اڈپی اور ایک کا تعلق سے ہوناور سے ہے ،  

Prayer Timings

Fajr فجر
Dhuhr الظهر
Asr عصر
Maghrib مغرب
Isha عشا