سعودی عرب : تجارت کے نئے قوانین متعارف، بحری جہاز کا کرایہ نہ دینے پر تاجر کا سامان نیلام ہوگا

share with us


جہاز میں دوران سفر ہونے والے نقصانات کی تلافی لازمی ،تمام بحری بیڑوں کو پرچم بلند کرنے کا پابند کردیاگیا


جدہ:06؍جنوری2019(فکروخبر/ذرائع)بحری تجارت کے نئے قوانین کے مطابق بحری جہاز کے مالک کو تاجر کی طرف سے کرایہ موصول نہ ہونے کی صورت میں سامان ضبط کرنے کا اختیار ہوگا۔ جہاز کا مالک نادہندہ تاجر کا سامان بندر گاہ پر اتار کر گودام کی تحویل میں دے سکتا ہے، وہ انتظامیہ سے کرایہ کے بقدر سامان نیلام کرنے کی درخواست کرسکتاہے اور نیلامی کا اعلان کرسکتا ہے۔ غیرملکی میڈیا نے بتایاکہ بحری تجارت کے نئے قوانین کے مطابق بحری جہازوں کے کرائے کے لئے اصل مالک اور تاجر کے درمیان ثالثی کرنے والے ایجنٹ کو کام کرنے کی اجازت دی گئی ہے۔ کرایہ پر بحری جہاز حاصل کرنے والے تاجر یا ایجنٹ کے لئے ضروری ہے کہ وہ کرایہ کی مدت ختم ہونے پر بحری جہاز کو اصل حالت میں واپس کرے۔ جہاز میں دوران سفر ہونے والے نقصانات کی تلافی لازمی ہے۔ تمام سعودی بحری بیڑوں کو سعودی پرچم بلند کرنے کا پابند کیا گیا۔ اس سے استثنی کی ایک ہی صورت ہے جو بحری قوانین کے ہم آہنگ ہیں۔ ممکنہ خطرے یا قزاقوں سے بچنے کے لئے وقتی طور پر بحری جہاز پر سعودی پرچم کے علاوہ کوئی اور پرچم بلند کرنے کی اجازت ہے۔ کسی بھی جہاز پر بیک وقت دو ملکوں کے پرچم بلند نہیں کئے جائیں گے۔ اس قانون سے ان بحری جہازوں کو استثنی ہے جس کی لمبائی 24میٹر سے کم ہے۔ 

Prayer Timings

Fajr فجر
Dhuhr الظهر
Asr عصر
Maghrib مغرب
Isha عشا