یہ آوارہ جانور نہیں یوگی کے مہمان ہیں

share with us


حفیظ نعمانی

یہ عام دستور ہے کہ اگر آپ کے گھر بارات آنے والی ہے یا کسی سیمینار، یا کسی سیاسی اجلاس میں شرکت کیلئے مہمان آنے والے ہیں تو سب سے پہلے ان مہمانوں کے قیام طعام کا انتظام کیا جاتا ہے۔ اور وہ جب آجاتے ہیں اور جب تک رہتے ہیں اس کی فکر یہ رکھی جاتی ہے کہ ان کو کوئی تکلیف تو نہیں ہوئی؟ پانچ سال پہلے بننے والی مودی سرکار نے بدل بدل کر جو اعلان کئے کہ گائے خریدنے والا اور فروخت کرنے والا بتائے کہ وہ کیوں خرید رہا ہے؟ اور اگر ضرورت پڑے تو وہ دکھائے کہ گائے موجود ہے۔ اس طرح کی پابندی فروخت کرنے والے پر لگائی جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ غریب کسان کے لئے گائے ایک امتحان ہوگئی۔
2017ء میں اترپردیش کا وزیراعلیٰ آدتیہ ناتھ یوگی کو بنایا گیا انہوں نے حلف کے دوسرے دن ہی امت شاہ کے ساتھ پورے صوبے کے تمام سلاٹر ہاؤس توڑکر برباد کردیئے اور بار بار کہا کہ ہم نے وعدہ کیا تھا کہ حکومت بنی تو تمام غیرقانونی سلاٹر ہاؤس توڑ دیئے جائیں گے۔ لیکن جب بلڈوزر چلا تو نہ قانونی دیکھا اور نہ غیرقانونی جس کا مقصد بعد میں معلوم ہوا کہ پوری قریشی برادری کو دیوالیہ اور کمزور کرنا تھا۔ اس کے بعد بی جے پی کے غنڈوں کو بھوکے بھیڑیوں اور پاگل کتوں کی طرح چھوڑ دیا کہ جس مسلمان کے ہاتھ میں گائے کی رسّی دیکھو سمجھ لو کہ وہ یا کاٹنے کے لئے جارہا ہے یا اسمگل کرنے جارہا ہے اسے اور گائے کو انجام تک پہونچا دو ان تمام باتوں کا انجام یہ ہوا کہ جو گائے بوڑھی ہوجائے یا بیمار ہوجائے اسے اپنے پاس سے کھلاؤ چاہے اس کے پاس اپنے کھانے کے پیسے نہ ہوں۔
یہ اسی کا نتیجہ ہے کہ پورے اترپردیش میں جگہ جگہ کے کسان چیخ رہے ہیں کہ ہماری فصلیں آوارہ گایوں، بچھڑوں اور سانڈوں کے جھنڈ کے جھنڈ برباد کئے دے رہے ہیں۔ ایک بار لکھیم پور میں کسانوں نے درجنوں آوارہ جانوروں کو ایک اسکول میں بند کردیا تھا اور وہ لاٹھیاں لے کر پہرے دیتے رہے کہ وہ بھوک سے مرجائیں مگر کھیتوں میں نہ جائیں۔ تازہ خبر متھرا کی ہے جو ہندوؤں کا گڑھ ہے وہاں بھی کسانوں نے عاجز آکر سب جانوروں کو اسکول میں بند کردیا جہاں چارہ تو کیا پانی بھی نہیں تھا یہ آوارہ جانور وزیراعلیٰ کے مہمان ہیں۔ آج انہوں نے اپنی ذمہ داری سے منھ موڑتے ہوئے ایسی بچکانہ بات کہی جس نے ان کا قد چھوٹا کردیا۔ انہوں نے کہہ دیا کہ یہ سب سماج وادی پارٹی کے لوگوں کی حرکت ہے جو گائے کا دودھ نکال کر انہیں کھیتوں میں چھوڑ دیتے ہیں۔ یہ وہ بات ہے کہ جو برا ہوا وہ اکھلیش نے کردیا۔
یہ ملک کسانوں کا ملک ہے اور شہروں میں نہ جانے کتنے لوگ گائے پالتے ہیں جو گائے دودھ دیتی ہے اسے کوئی دور کھیتوں میں نہیں جانے دے گا کیونکہ پھر شام والا دودھ وہ نکال لے گا جس کے کھیت میں جائیں گی یہ جو کھیتوں میں ہیں یہ سب وہ ہیں جو نہ دودھ کی ہیں نہ بچہ دیتی ہیں ایک ذمہ دار وزیراعلیٰ کی حیثیت سے یوگی کے لئے ضروری تھا کہ سلاٹر ہاؤس برباد کرنے سے پہلے ان گایوں کا کوئی انتظام کردیتے جیسے جو گائے بوڑھی ہوجائے اسے تحصیلدار کے پاس لاکر پانچ ہزار روپئے لے جائے اور دوسری خریدے اگر جرسی گائے ہو تو دس ہزار دیئے جائیں۔
ہم نے اپنی نواسیوں کی شادی کی تو بارات کے لئے ہوٹل کے 20-15 کمرے خالی رکھے اور ہر جگہ آنے جانے کیلئے کاروں کا انتظام کیا۔ دوستوں نے بھی مانگا تو ان کی ضرورت کے کمرے ان کو دے دیئے۔ یہ گائیں بچھڑے اور سانڈ سب یوگی جی کے مہمان ہیں ان کا حکم ہے کہ ان کو نہ کاٹا جائے نہ مارا جائے۔ تو وہ کون ہے جو اپنی اور اپنے بچوں کی روزی روٹی اور سرکار کا قرض ان آوارہ جانوروں کے اوپر لٹادے؟ یہ ذمہ داری سے فرار ہے۔ جن لوگوں نے ان جانوروں کو اسکولوں میں بند کیا وہ سب ہندو ہیں اور اگر وزیراعلیٰ نے کچھ نہ کیا تو ان جانوروں کو یا تو بھوکا پیاسا کرکے ماریں گے یا زہر دے کر اس لئے کہ یہ ہندو کسان اسے جانور ہی سمجھتے ہیں یہ وزیراعلیٰ کے لئے تو ووٹ کی لکشمی ہے لیکن کسان کے لئے صرف بیکار جانور جو اجازت ملے تو کاٹنے کے لئے خود جاکر قصائی کے کھونٹے سے باندھ دیں گے۔ گائے کو ماتا اور بھگوان کسان نے وہ چاہے کتنا ہی بڑا ہندو ہو کبھی نہیں سمجھا جب تک پابندی نہیں تھی وہ خود مویشی بازار میں جاکر کاٹنے والوں کے ہاتھ فروخت کرکے آتا تھا اور دوسری خرید کرلاتا تھا۔
مسلمانوں نے تو قسم کھالی ہے کہ اسے ہاتھ بھی نہیں لگائیں گے لیکن کسانوں نے قسم نہیں کھائی ہے مگر وہ یہ بھی برداشت نہیں کرسکتے کہ اپنی خون پسینے کی کمائی آوارہ جانوروں کو کھلا دیں۔ اگر وزیراعلیٰ نے فصلوں کا انتظام نہیں کیا جس کا یقین ہے کہ وہ نہیں کریں گے تو انجام سب دیکھیں گے کہ جگہ جگہ زہر کھاکر مرنے والی گائیں کھیتوں میں پڑی ملیں گی۔ اب یا تو ہر پابندی ختم کی جائے یا ہر گاؤں کے باہر ایک گؤشالہ بنایا جائے اور ہر سال اسے بڑا کیا جائے پھر ایک دن اس کی آبادی اور اس کا خرچ صوبہ کے انسانوں کے خرچ سے زیادہ ہوجائے گا تب کچھ اور سوچا جائے گا۔

 

(مضمون نگار کی رائے سے ادارہ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے )
:02جنوری2019(ادارہ فکروخبر)

Prayer Timings

Fajr فجر
Dhuhr الظهر
Asr عصر
Maghrib مغرب
Isha عشا