ایرانی عدالتوں سے انصاف کی کوئی توقع نہیں،خاتون قیدی کا پیغام

share with us


ایران کی سماجی اورسیاسی رہنما نرجس محمدی کا علاج جیسے بنیادی حق سے محروم کیے جانے پر احتجاج کا بھی اعلان


لندن :16ڈسمبر2018(فکروخبر/ذرائع)ایران میں سیاسی بنیادوں پر 16 سال کے لیے پابند سلاسل مشہور سماجی اورسیاسی رہنما نرجس محمدی نے جیل سے اپنے پیغام میں کہا ہے کہ مجھے ایران کی عدالتوں سے انصاف اوربھلائی کی کوئی توقع نہیں۔ انہوں نے اس پیغام میں علاج جیسے بنیادی حق سے محروم کیے جانے پر احتجاج کا بھی اعلان کیا۔
خیال رہے کہ ایران کی ایک انقلاب عدالت نے نرجس محمد کو سزائے موت کے خاتمے کے لیے مہم چلانے، قومی سلامتی کے ساتھ کھلواڑ کرنے اور ایرانی رجیم کے خلاف پروپیگنڈہ کرنے جیسے سنگین الزامات کے تحت 16 سال قید کی سزا سنا رکھی ہے۔ نرجس محمدی اس وقت تہران کی ایک بدنام زمانہ جیل میں پابند سلاسل ہیں اور انہیں علاج جیسی بنیادی سہولت بھی میسر نہیں ہے۔ پیشے کے اعتبار سے قانون دان نرجس محمد نے ایران کے پراسیکیوٹر جنرل کو مکتوب لکھا ہے جس میں انہوں نے جیل میں اپنے ساتھ برتے جان لیوہ ظالمانہ رویئے پر احتجاج کیا ہے۔ادھر جیل میں ملاقات کرنے والے انسانی حقوق کے کارکنوں سے بات کرتے ہوئے انکشاف کیاکہ اسے معائنے کرانے کے لیے ایک ایسے ڈاکٹر کے پاس بھیجا گیا جو ایک عرصے سے طب کا پیشہ ترک کییہوئے تھے۔ وہ نہیں جان سکی کہ آیا ایسا کیوں کر کیا گیا۔پراسیکیوٹر جنرل کو لکھے گئے مکتوب میں محمد نے لکھا ہے کہ وہ گردوں اور کئی دوسری نسوانی بیماریوں کا شکار ہے مگر اسے کسی قسم کی طبی معاونت مہیا نہیں کی جا رہی ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ ہمیں ایرانی عدلیہ سیانصاف کی کوئی توقع نہیں۔ میں نے تہران کیپراسیکیوٹر جنرل سے اپنے حالات بیان کیے مگر اس کیباوجود مجھے کسی قسم کی طبی سہولت مہیا نہیں کی گئی۔انہوں نے ایک مکتوب میں اپنے بچوں کے بارے میں لکھا کہ اسے بچوں کے خدو خال بھی بھول گئے ہیں۔ ایک مکتوب میں ایرانی صدر حسن روحانی کو لکھا کہ ایرانی عوام نے آپ کو ووٹ ایرانی رجیم کی مدد کے لیے نہیں بلکہ قانون کے نفاذ کے لیے دیے ہیں۔آپ کو ملک میں سول سوسائٹی کے کارکنوں کی مدد کرنی چاہیے اوران کے مطالبات پورے کرنا چاہئیں۔

Prayer Timings

Fajr فجر
Dhuhr الظهر
Asr عصر
Maghrib مغرب
Isha عشا