حق رائے دہی کا صحیح استعمال ؛ایک مذہبی فریضہ

share with us


عبدالرشیدطلحہ نعمانیؔ

اس بات میں ادنی تردد کی گنجائش نہیں کہ" اسلام" ایک کامل نظامِ زندگی اور رہبربندگی کا نام ہے؛جس میں انفرادی واجتماعی،سیاسی وسماجی ہر نوعیت کے جملہ مسائل کامکمل حل موجودہے،چوں کہ کار جہاں بانی بھی ایسا عمل ہےجو اجتماعیت سے تعلق رکھتا ہے،اسی لیےاس حوالے سے بھی تفصیلی احکامات شریعت محمدیہ میں بیان کردیے گئے اور اسوہ کے طور پرنبی پاک ﷺکوپہلےمثالی حکمراں اور کامیاب قائدکی حیثیت سے دنیا میں بھیجاگیا ،آپ کا زمانہ،سیاسی ،سماجی،تعلیمی،اقتصادی ہراعتبارسےتاریخ عالم کا بہترین زمانہ ہے؛جس پر کوئی دشمن اسلام انگشت نمائی کی جسارت نہیں کرسکتا،پھراس کے بعدخلفائے راشدین کا زمانہ سب سے بہترہے؛کیوں کہ آپ ﷺنے خود اس کی پیشین گوئی فرمائی اور چشم فلک نےبھی اس کا نظارہ کیا۔یہ سچ ہے کہ زمانہ جوں جوں عہد نبوت سے دور ہوتاگیا ،پہلے کے بہ نسبت خیر وبھلائی بھی کم ہوتی رہی اور شر وفساد غالب آتا رہا؛مگر ان سب کے باوجودماضی کےاوراق پر ایک طائرانی نظر ڈالی جائے توعلانیہ معلوم ہوگاکہ اہلِ اسلام نے حکومتِ الٰہیہ کاایسا بےمثال نظام دنیا کے ایک بڑے حصہ پر قائم کیا کہ اس سے بہتر کسی نظام کا مشاہدہ آج تک نہ ہوسکا ؛جس کے حکم راں عدل وانصاف،سچائی وپاک بازی، صفائی قلب وروشن ضمیری اور خداترسی ورعایا پروری میں اپنی مثال آپ تھے ۔مگر جب بدقسمتی سے اسلامی حکومتوں کاخاتمہ ہوگیاتورفتہ رفتہ جمہوری نظام ساری دنیا میں رائج ہوگیااور اسےدوسرے نظاموں کے مقابلہ میں اچھی نظروں سے دیکھا جانےلگا؛کیوں کہ اس نظام میں ہر فرد کو مذہبی آزادی حاصل ہوتی ہےاور حکومت کا پورامدار عوام کے انتخاب پر ہوتا ہے؛ اسی انتخاب کو انگریزی میں الیکشن کہاجاتاہےجو در حقیقت جمہوری ممالک کے لیے ایک فیصلہ کن مرحلہ ہوتا ہے۔
جمہوریت اگرچہ حکومت چلانے کا ایک نظام ہے جس میں کمزوریاں اور نقائص بھی ہوسکتے ہیں تاہم ان کی اصلاح بھی ایک مسلسل انتخابی عمل سے ممکن ہے ۔ہمارا ملک بھی چوں کہ ایک جمہوری ملک ہے اس لیے اس میں بھی عام جمہوری ممالک کی طرح انتخابات ہوتے ہیں۔ بھارتی پارلیمنٹ میں بنیادی طورپر دو ایوان ہوتے ہیں جو مقننہ کہلاتے ہیں۔ ایک تو لوک سبھا جس میں 545 ارکان ہوتے ہیں۔ 543 ارکان کا انتخاب پانچ برس کی مدت کے لیے ہوتا ہے جبکہ بقیہ دو ارکان کو اینگلو بھارتی برادری کی نمائندگی کے لیے منتخب کیا جاتا ہے۔ 550 ارکان کا انتخاب اکثریتی انتخابات کے نظام کے تحت ہوتا ہے۔دوسراراجیہ سبھاجس میں 245 ارکان ہوتے ہیں جن میں 233 ارکان چھ سال کے لیے منتخب ہوتے ہیں، جن میں سے ہر دو سال میں ایک تہائی سبکدوش ہو جاتے ہیں۔ ان ارکان کا انتخاب ریاست اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے ارکان اسمبلی کی جانب سے کیا جاتا ہے۔بارہ نامزد ارکان کو عام طور پر نامور فنکاروں (بشمول اداکار)، سائنسدانوں، قانون دانوں، کھلاڑیوں، تاجروں، صحافیوں اور عام لوگوں میں سے منتخب کیا جاتا ہے۔
لوک سبھا عوامی نمائندوں پر مشتمل ہوتی ہے جسے ہربالغ شخص کی رائے دہی کی بنیاد پر براہ راست انتخابات کے ذریعہ منتخب کیا جاتا ہے۔ آئین ہند میں مذکور ایوان کی زیادہ سے زیادہ صلاحیت 552 ارکان کی ہے جن میں سے 530 ارکان ریاستوں کی اور 20 ارکان مرکز کی نمائندگی کرتے ہیں نیز دو رکن اینگلو بھارتی برادریوں کی نمائندگی کے لیے صدر کی جانب سے نامزد کیا جاتا ہے؛ ایسا اس وقت کیا جاتا ہے جب صدر جمہوریہ کو محسوس ہو کہ اس برادری کی ایوان میں نمائندگی ناکافی ہے۔(ویکیپیڈیا)
اسمبلی انتخابات کی نوعیت اور موجودہ صورت حال:
جمہوریت کے اپنے تقاضے ہیں اور اس کا پہیہ چلتے رہنے کے اپنے اصول ہیں، آئین کی رو سے ہر بالغ شہری کو پارلیمانی انتخابات میں ملکی مفاد کےلیےاور اسمبلی انتخابات میں ریاستی مفادکےلیےاپنے نمائندے چننے کا حق دیا گیا ہے جووہ اپنے ووٹ کے ذریعے استعمال کرتا ہے، جب ایک حکومت اپنا وقت پورا کر لیتی ہے توعوام کونئی اسمبلیاں بنانے کیلئے اپنے نمائندے چننے کا موقع دیاجاتا ہے،عوام ہی وہ نمائندے چنتی ہے اورکسی ایک سیاسی پارٹی کو اس کیلئے منتخب کرتی ہے،جو جو بھی سیاسی پارٹیاں اس وقت ملک میں کام کر رہی ہیں ان میں سے ہر ایک کا ایک طریقہ کار ہے۔اس بناء پرسب سے پہلے ہر پارٹی کو اپنا طریقہ کار لوگوں کے سامنے پیش کرنا ہوتا ہے جسے پارٹی کامنشور کہاجاتاہے،عوام کی اکثریت چونکہ ہر پارٹی کے منشور سے واقف نہیں ہوتی؛ اسلئے پارٹیاں اور ان کے نمائندے، لوگوں کے سامنے وہ منشو رکھتے ہیں،یہ کام وہ جلسےجلوسوں کے ذریعے بھی کرتے ہیں اور ڈور ٹوڈور یعنی گھر گھر جا کر بھی اپنا پیغام پہنچاتے ہیں اور لوگوں کو قائل کرنے کی کوشش کرتےہیں کہ ان کا منشور عوام کی بہتری کیلئے دوسری پارٹیوں سے بہتر ہے اسلئے وہ ان ہی کے اراکین کو ووٹ کے ذریعے اسمبلیوں میں بھیجیں۔ان مراحل سے گزرنے کے بعدایک اسمبلی تشکیل پاتی ہےجو پانچ سال تک عوامی مفادات کے لیے کام کرتی ہے۔
مذکورہ شفاف نظام کے بالمقابل موجودہ انتخابی صورت حال نہایت افسوس ناک اور غیر آئینی ہے،انسانی سماج کو دو طبقات میں تقسیم کر دیا گیا ہے۔ ایک حکمراں طبقہ ہے جس میں لالچی سرمایہ دار، بدعنوان اعلیٰ افسران اور مفاد پرست سیاستداں شامل ہیں۔ اس کے علاوہ پسماندہ طبقات، اقلیتی سماج اور غریب عوام ہیں۔ ان دونوں طبقات کے مقاصد متضاد، مسائل مختلف اور ضرورتیں الگ الگ ہیں۔ ایک کا مقصد اپنی سیاسی برتری قائم و دائم رکھنا اور دوسرے کا اسے نیست و نابود کرنا ہے۔ ایک کی ضرورت عوام کو تقسیم کرنا ہے تاکہ ان کی توجہ بنیادی مسائل سے ہٹائی جا سکے دوسرے کی ضرورت متحد ہو کر جد و جہد کرنا ہے تاکہ بنیادی حقوق کا تحفظ ہو سکے۔جب تک ان دونوں طبقات کے مقاصدعوامی مفاد کے لیے متحد نہیں ہوں گےتب تک جبر و استحصال سے نجات نا ممکن ہے۔ معاشی استحصال اور فسطائیت کا قلع قمع کرنے کی خاطر اخوت و محبت کی بنیاد پر ایک مشترکہ جد و جہد ناگزیر ہے۔
ووٹ کی شرعی حیثیت:
ہمارا ووٹ شرعاً تین حیثیتیں رکھتا ہے۔ (1) شہادت (2) سفارش (3) حقوق مشترکہ کی وکالت۔ تینوں صورتوں میں جس طرح قابل، اہل اور امانت دار آدمی کو ووٹ دینا موجب ثوابِ عظیم ہے اور اس کے ثمرات سب کو ملنے والے ہیں، اسی طرح نااہل اور خائن شخص کو ووٹ دینا جھوٹی شہادت بھی ہے، بری سفارش بھی اور ناجائزوکالت بھی اور اس کے تباہ کن اعمال بھی اسکے اعمال نامہ میں لکھے جائیں گے۔ حضرت ابو بکرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا :کیا میں تمہیں سب سے بڑے بڑے گناہ نہ بتلاؤں ؟ یہ الفاظ آپ نے تین بار دہرائے ، ہم نے کہا : اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ضرور بتلایئے ، آپ نے فرمایا : اللہ تعالیٰ کا شریک ٹھہرانا، والدین کی نافرمانی کرنا، ابھی تک آپ ٹیک لگا کر بیٹھے ہوئے تھے پھر سیدھے ہو کر بیٹھ گئے اور فرمایا : سنو !!جھوٹی بات کہنا اور جھوٹی گواہی دینا، پھر آپ یہی بات دہراتے رہے یہاں تک کہ ہم نے تمنا کی کہ کاش آپ خاموش ہو جاتے۔( صحیح بخاری ومسلم )
حضرت خریم بن فاتک اسدی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ سرکارِ مدینہﷺنے نمازِ فجر ادا فرمائی، جب فارغ ہوئے تو کھڑے ہو کر 3 مرتبہ ارشاد فرمایا:جھوٹی گواہی اللہ عَزَّوَجَل کے ساتھ شرک کرنے کے برابر قرار دی گئی ہے۔ پھر یہ آیت ِ مبارکہ تلاوت فرمائی:ترجمہ،دور ہو بتوں کی گندگی سے اور بچو جھوٹی بات سے، ایک اللہ کے ہوکر کہ اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹہراؤ۔(ابو داؤد)
اور بیہقی حضرت ابوہریرہ رضی ﷲ عنہ سے راوی ہیں کہ فرمایا : جو شخص لوگوں کے ساتھ یہ ظاہر کرتے ہوئے چلا کہ یہ بھی گواہ ہے، حالاں کہ یہ گواہ نہیں، وہ بھی جھوٹے گواہ کے حکم میں ہے اور جو بغیر جانے ہوئے کسی کے مقدمے کی پیروی کرے، وہ اﷲ کی ناخوشی میں ہے۔ جب تک اُس سے جدا نہ ہو جائے۔ اور ایک حدیث شریف میں ہے کہ جو گواہی کے لیے بلایا گیا اور اُس نے گواہی چھپائی یعنی ادا کرنے سے گریز کیا وہ ویسا ہی ہے جیسا جھوٹی گواہی دینے والا۔ ( طبرانی)
اسی طرح ووٹ ایک سفارش و مشورہ ہے جسے حدیث میں امانت کہاگیا ہے،اس امانت کا تقاضا یہ ہے کہ سوچ سمجھ کر کسی بھی ذاتی مفاد اور قرابت و تعلقات کا لحاظ کیے بغیر اجتماعی منفعت کو سامنے رکھتے ہوئے حق رائے دہی کا استعمال کیا جائے۔اکثر وبیشتر ایسا ہوتا ہے کہ ہم خوشامد کرنے والوں،رشوت دینے والوں اور سبز باغ دکھانے والوں کے فریب میں آجاتے ہیں اور بلا سوچے سمجھے اپنے روشن مستقبل کو اپنے ہی ہاتھوں سے داؤ پر لگا دیتے ہیں۔
یاد رکھیں !ووٹ در اصل ضمیر کی آواز اور دل کی پکار ہے،یہ کوئی تفریح اور دل لگی نہیں کہ جیسے چاہااس حق کا استعمال کرلیا؛اس لیے اس مسئلہ میں نری جذباتیت سے کام لینے کے بجائے ٹھنڈے دل و دماغ کے ساتھ ماضی کی کارکردگی اور مستقبل کے امکانات کو پیش نظر رکھتے ہوئےکوئی حتمی فیصلہ کرنا چاہیے؛تاکہ ریاست میں جمہوری نظام قائم رہے اور امن وامان و خوش حالی عوام کا مقدربنے۔
ایک غلط فہمی کا ازالہ:
جمہوری ملک میں ہمارا ایک ووٹ ہمارے لیے بہت بڑی طاقت ہے،اس کے ذریعہ ہم جسے چاہیں تخت حکومت پر بٹھا سکتے ہیں اور جسے چاہے اتار سکتے ہیں۔ ووٹ دینا ایک سنجیدہ نوعیت کی ذمہ داری ہے؛ جس کی حرمت غیر سنجیدہ سرگرمیوں سے ضائع ہوجاتی ہے۔ ریاست کا ایک ذمہ دار شہری ہونے کے ناطے ہمیں اپنے اور اپنے گھروالوں کے ووٹ کا درست استعمال کرنا چاہئے۔ ووٹ کی اس اہمیت کے باوجودہمارے اردگرد کے بہت سے لوگ ایسےہیں جو یاتو ووٹ نہیں دیتے یا اس کو غیر ضروری سمجھتے ہیں۔ الیکشن کا دن ان کے لیے تو بس ایک چٹھی کا دن ہوتا ہے کہ جسے یا تو سو کر اور تھکان اتار کر گزاردیا جاتا ہے۔ یہ بات ہمیں سمجھ لینی چاہئیے کہ بدعنوان اور بد دیانت حکمران ہماری ہی غلطیوں کی وجہ سے ہم پر مسلط ہوتے ہیں۔ ناعاقبت اندیش لوگوں کی ایک جماعت ایسی بھی ہوتی ہےجو چند ٹکوں کے لیے اپنا ووٹ بیچ دیتی ہےمحض اس خام خیالی کی بنیاد پر کہ ہمارے ایک ووٹ سے کونسی تبدیلی آ جائے گی۔ایسےلوگ وقتی فائدے کی خاطر اپنا اور اپنی آنے والی نسلوں کامستقبل داؤ پر لگا دیتے ہیں اور اس خطرناک نقصان کا اندازہ بھی نہیں کر پاتے جو رفتہ رفتہ انہیں کھوکھلا کر دیتا ہے۔ اس کے برعکس تعلیم یافتہ معاشروں میں عوام کو بخوبی احساس ہوتا ہے کہ ان کا ووٹ ملک کے لیے کتنا اہم ہے، ان کی ذرا سی غفلت کتنے بھیانک نتائج کا سبب بن سکتی ہے۔ اس بات کی افادیت سے تو کوئی بھی انکار نہیں کر سکتا کہ قطرہ قطرہ ملنے سے ہی دریا بنتا ہے۔ ہمارا ایک ووٹ دراصل ایک ووٹ ہی نہیں بلکہ ایک نئی اور بہتر سوچ کی کرن ہوتی ہے، جو ہمارے خوابوں کو پورا کرنے کے لیے ہمارا کچھ وقت، ہمت اور ایک صحیح فیصلہ مانگتی ہے۔
گندم اگر بہم نہ رسد بھس غنیمت است :
یہ ایک فارسی محاورہ ہے ؛جس کا مطلب ہے بہت فائدہ اگر نہ ہو تو تھوڑا ہی سہی۔یعنی اگرہمارے حلقے میں‌ کوئی ایک بھی بہتر اور قابل امیدوار ہے تو اسے ووٹ دینے سے گریز کرنا شرعاً ممنوع اور قوم و ملت پر ظلم کے مترادف ہے۔ اگر حلقے میں کوئی بھی امیدوار صحیح معنوں‌ میں قیادت کے لائق اور دیانتدار نہیں ہے تو موجود امیدواروں میں سے کسی بھی امیدوار کی ایک صلاحیت یا ایک خوبی کو مدِنظر رکھ کر کم برائی کواختیارکرنےکے خیال سے ووٹ دیناچاہیے۔ اس معاملہ میں یہ اصول بھی ذہن نشین کر لیں‌ کہ شخصی معاملات میں کسی فرد کی غلطی کا اثر صرف اسی فرد تک محدود رہتا ہے، اس کی سزا و جزا کا حقدار بھی وہی ہے۔ البتہ قومی و ملکی معاملات سے پوری قوم متاثر ہوتی ہے۔ آپ کا ووٹ نہ دینا یا غلط پارٹی کو منتخب کرنا پوری قوم کو متاثر کر سکتا ہے اس لیے ووٹ مکمل ذمہ داری کے ساتھ دیں اور اپنے علاقے کی ضرورت کا خیال کرتے ہوئے اس حق کا استعمال کریں۔
ہماری ملی قیادت:
انتخابات کا یہ موقع ملی قیادت کے لیےبہت بڑے ابتلاء کی گھڑی ہے،بلکہ یہ ایک قیامت خیز مرحلہ ہے،جس سے گزرنا ہماری دینی تنظیموں کے لیے پل صراط سے گزرنے کے مرادف ہےاور یہ بھی حقیقت ہے کہ ان حضرات کا ایک غلط فیصلہ یا غلط ترجیح ساری قوم کےلیے نقصان و خسران کا سبب بن سکتی ہے۔گذشتہ مرکزی انتخابات میں بھی بیشتر ریاستوں؛بلکہ مسلم اکثریتی علاقوں میں فرقہ پرست عناصر کے بر سر اقتدار آنے کی وجہ صرف اور صرف ہماری قیادت کا تشتت اور افتراق ہے،ایک ہی علاقے سے دو مسلم لیڈروں کی نامزدگی بالیقین مسلمانوں کو دو گروہوں میں تقسیم کردیتی ہے،ایسے میں ہماری نظریں صرف قیادت پر ہوتی ہیں،اگر وہ بھی دو دھڑوں میں منقسم ہو جائے تو پھرانتخابی نتائج سے پہلے ہی قطعیت کے ساتھ یہ کہا جاسکتا ہے ہم اپنا حق ہارچکے ہیں۔گہری سیاسی بصیرت رکھنے والے دانشوروں کے مطابق تشدد پسند ذہنیت کے حامل لوگوں کے اقتدار میں آنے کا ایک سبب تو مسلمانوں کی رائے دہی کا اقل ترین تناسب ہے اور دوسرا سبب اپنوں کے درمیان ٹکراؤ اور تصادم کے وقت اجتماعی مفاد کو ملحوظ خاطر نہ رکھنا ہے۔پھر انتخابات کی دھاندلیاں اور ای وی ایم کے گھوٹالے اس پر مستزاد ہیں۔کیاہی اچھا ہوتا کہ اس سلسلہ میں کل جماعتی سطح پر کوئی مشترکہ پیغام عوام کو دیاجاتا اوروحدت کے ساتھ ہم کسی سیکولرپارٹی کے انتخاب کا اعلان کرتے۔ خیرجو ہوا سو ہوا،اب دیکھنا یہ ہے کہ اس تفرقہ کے کیا نتائج بر آمد ہوتے ہیں اور ریاست کے مستقبل پر اس کا کیا اثر پڑتا ہے؟؟ فاللہ خیر حافظاً وھو ارحم الراحمین


(مضمون نگار کی رائے سے ادارہ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے )
:06ڈسمبر2018(ادارہ فکروخبر)

 

Prayer Timings

Fajr فجر
Dhuhr الظهر
Asr عصر
Maghrib مغرب
Isha عشا